قرآن کی بےحرمتی کرنے والاشخص مردہ حالت میں پایا گیا۔
واضح رہے کہ سلوان مومیکا عراق سے فرار ہوکر 2018 میں سویڈن پہنچا تھا اور اسے 2021 میں سویڈن کا رہائشی اجازت نامہ دیا گیا تھا۔
اوسلو(انٹرنیشنل ڈیسک)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق سویڈن میں قرآن پاک کو جلانے کی ناپاک جسارت کرنے والا عراقی نژاد سلوان مومیکا ناروے میں اپنے گھر میں مردہ حالت میں پایا گیا۔سوشل میڈیا پر ریڈیو جنیوا کے اکاونٹ سے کی گئی ٹوئٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ 37 سالہ سلوان مومیکا کی لاش ناروے میں ان کے گھر سے ملی ہے تاہم موت کی وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکا۔ریڈیو جنیوا کی ٹوئٹ کے مطابق جن لوگوں نے سلوان مومیکا کی موت تصدیق جن ٹوئٹر اکاونٹس سے کی گئی تھی انھیں ایک ملین افراد نے دیکھا تاہم پھر ٹوئٹ حذف کردی گئی۔
ریڈیو جنیوا نے اپنی ٹوئٹ میں مزید کہا کہ اس خبر کی تصدیق کی کوشش کی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ سلوان مومیکا عراق سے فرار ہوکر 2018 میں سویڈن پہنچا تھا اور اسے 2021 میں سویڈن کا رہائشی اجازت نامہ دیا گیا تھا۔ جونو 2023 میں سلوان مومیکا نے ایک مسجد کے باہر قرآن مجید کے اوراق کو جلانے کی ناپاک جسارت کی تھی۔
