قدرتی آفات،سیاست نہیں انسانیت مانگتی ہیں
انجینئر ندیم ممتاز قریشی
قدرتی آفات کے سامنے انسان کی تمام تر تدبیریں ایک بار پھر بے بس دکھائی دے رہی ہیں،دریاؤں کے بپھرے ہوئے پانیوں نے بستیاں اجاڑ دیں، زندگیوں کے چراغ گل کر دیے اور ہزاروں خاندانوں کو کھلے آسمان تلے پناہ ڈھونڈنے پر مجبور کر دیا ہے۔قوم ابھی 2010 کے سیلاب کے زخموں کو نہیں بھولی تھی کہ حالیہ ریلا ایک بار پھر انہی زخموں کو تازہ کر گیا، لاکھوں افراد اپنے پیاروں کی یادوں اور برباد گھروں کے ملبے تلے دبے ہیں اور یہ سوال شدت سے ابھر رہا ہے کہ آخر جنوبی پنجاب ہی بار بار کیوں ڈوبتا ہے،افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ 26 جون سے 11 ستمبر تک آنے والے اس سیلاب نے مجموعی طور پر 946 قیمتی جانیں نگل لیں،صرف پنجاب میں 260 افراد اپنی جانوں سے گئے، ہزاروں زخمی اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہو گئے، یہ سیلاب نہ صرف انسانی المیہ ہے بلکہ معاشرتی، زرعی اور معاشی تباہی کا آئینہ دار بھی ہے، گھروں کی بربادی سب سے نمایاں اور دل دہلا دینے والا پہلو رہی، 8 ہزار 238 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ ہزاروں دیگر کو ناقابل رہائش نقصان پہنچا، ایسے خاندان جو برسوں کی محنت سے اپنے لیے چھت بناتے ہیں آج کھلے آسمان تلے اپنے بچوں کو بارش اور بیماریوں سے بچانے کے لیے پریشان ہیں،سیلاب نے لائیو اسٹاک کو بھی نہیں بخشا اور 6 ہزار 508 جانور ہلاک ہو گئے، یہ نقصان دیہی معیشت کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں کیونکہ مال مویشی کسانوں اور محنت کشوں کے لیے سرمایہ حیات ہوتے ہیں،ان کی ہلاکت نے روزگار چھیننے کے ساتھ ساتھ دودھ اور گوشت کی کمی کا بحران بھی پیدا کر دیا ہے جو مستقبل میں مہنگائی میں اضافے کا سبب بنے گا،انفراسٹرکچر بھی تباہی کی لپیٹ میں آیا، 239 پُل یا تو بہہ گئے یا ناقابل استعمال ہو گئے، 671 کلومیٹر سڑکیں پانی میں بہہ گئیں جس سے کئی علاقے دنیا سے کٹ گئے اور امدادی سامان پہنچانا ایک بڑا چیلنج بن گیا،متاثرہ آبادی خوراک اور ادویات کی شدید قلت سے دوچار ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں کے پانی کا مسئلہ آج بھی ایک نہایت سنگین چیلنج کی صورت میں موجود ہے۔ 1960 میں سندھ طاس معاہدہ ہوا جس کے تحت مشرقی دریاؤں راوی، بیاس اور ستلج کا کنٹرول بھارت کو دیا گیا جبکہ مغربی دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کے حصے میں آئے۔ یہ معاہدہ ورلڈ بینک کی ضامن کے طور پر موجودگی میں طے پایا تھا تاکہ دونوں ممالک میں پانی کے بہاؤ کے حوالے سے کوئی تنازع پیدا نہ ہو، لیکن افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھارت نے اس معاہدے کی بارہا خلاف ورزیاں کی ہیں۔ کبھی وہ پانی روک لیتا ہے اور جب پاکستان آواز بلند کرتا ہے تو ایک دم سے پانی چھوڑ کر سیلابی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم نے اپنی طرف سے کبھی پانی ذخیرہ کرنے کے لیے بڑے ڈیم نہیں بنائے۔کالا باغ ڈیم جیسے منصوبے سیاست کی نذر ہو گئے۔ حال ہی میں جب چاروں صوبوں میں اضافی پانی کو محفوظ کرنے کے لیے چھ نئی نہریں بنانے کا منصوبہ آیا تو اسے بھی سیاسی تنازعات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ کبھی ہمیں پانی کی کمی کا سامنا رہتا ہے اور کبھی سیلابی ریلے سب کچھ بہا لے جاتے ہیں۔ یہی غیر سنجیدگی آج ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے۔یہ بھی افسوس ناک پہلو ہے کہ جب بھارت یکطرفہ اقدامات کرتا ہے تو ہم صرف عالمی فورمز میں احتجاج تک محدود رہتے ہیں لیکن عملی طور پر اپنی حفاظت کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھاتے۔کسان روزگار سے محروم ہو رہے ہیں،عوام گھر بار چھوڑ کر دربدر ہو رہے ہیں اور ہماری معیشت کو اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ان حالات میں فوری اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔سب سے پہلے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں پر عالمی عدالت اور عالمی برادری کے سامنے بھرپور اور مضبوط کیس لڑا جائے۔ دوسرا، ہمیں اپنے ملک میں بڑے آبی ذخائر اور نئے ڈیم بنانے پر فوری طور پر کام شروع کرنا ہوگا تاکہ بارشوں اور دریاؤں کے اضافی پانی کو محفوظ کیا جا سکے۔ تیسرا، ایک شفاف مانیٹرنگ نظام بنایا جائے جس کے ذریعے پانی کے بہاؤ، کسانوں کی ضروریات اور متاثرہ علاقوں کی صورتِ حال پر نظر رکھی جا سکے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سیاست کو پانی کے مسئلے سے الگ رکھا جائے کیونکہ یہ مسئلہ براہ راست پاکستان کی بقا اور مستقبل کی نسلوں سے جڑا ہوا ہے۔
دریاؤں کے کنارے غیر منصوبہ بند آبادکاری، موسمیاتی تبدیلی کے باعث غیر معمولی بارشیں اور بروقت منصوبہ بندی کا فقدان بھی سیلاب کی بنیادی وجوہات ہیں، 2010 کے بعد اربوں روپے خرچ کرنے کے دعوے کیے گئے مگر عملی طور پر مضبوط حفاظتی نظام قائم نہ ہو سکا جس کا نتیجہ آج دوبارہ سامنے آیا ہے۔متاثرین کو صرف فوری امداد فراہم کرنا کافی نہیں بلکہ طویل المدتی منصوبہ بندی کے ذریعے بندوں کو مضبوط بنایا جائے، نکاسی آب کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے اور دریاؤں کے قریب غیر منصوبہ بند آبادکاری پر پابندی لگائی جائے، بصورت دیگر یہ خطہ بار بار ڈوبتا رہے گا اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوتے رہیں گے یہ حقیقت اب کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ حالیہ سیلاب نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کس حد تک سنگین ہیں اگر اب بھی حکومت،ادارے اور عوام نے مل کر ماحولیاتی پالیسیوں پر عمل نہ کیا اور عملی اقدامات نہ کیے تو آنے والے برسوں میں اس سے بھی بدترین حالات کا سامنا کرنا پڑے گا آج وقت ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم پانی کو جنگ یا سیاست کا ہتھیار نہ بننے دیں بلکہ اسے انصاف اور مساوات کے ساتھ تقسیم کریں۔ ورنہ کبھی ہم بوند بوند کو ترسیں گے اور کبھی سیلابی پانی ہماری زمینوں اور زندگیاں بہا لے جائے گا۔اب ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کے لیے ایک محفوظ پاکستان چھوڑتے ہیں یا مسائل کا ایسا انبار جس سے نکلنا ناممکن ہو۔
قدرتی آفات،سیاست نہیں انسانیت مانگتی ہیں انجینئر ندیم ممتاز قریشی
