فلاح و بہبود کی علامت, جرنلسٹ پینل کے پی سی
تقریباً کم و بیش بیس سال سے میں پریس کلب آتا رہا ھوں۔ کئی سینئرز صحافیوں کی نشت میں بیٹھنے کا موقع بھی ملتا رہا اسی طرح نئے اور جونیئرز سے ملاقاتیں اور بیٹھک رہیں اکثریت اس وقت بھی اور آج بھی صحافت صحافتی اقدامات کو آزادانہ خودمختیاری کیساتھ دیکھنا پسند کرتی ہیں۔ اکثریت کا کہنا ہے کہ کسی بھی سیاسی و جماعتی پلیٹ فارم کی ڈکٹیشن لینے یا ان کے تابع ہونے سے صحافت مرجاتی ہے گویا وہ صحافتی میدان میں صحافی بنکر نہیں بلکہ کارکن بنکر فرائض انجام دیتے ہیں یہ سلسلہ بند ہونا چاہئے اس سے جہاں صحافت کو ناتلافی نقصان سے دوچار ہونا پڑیگا وہیں صحافی اپنی عزت و وقار سے بھی دور چلا جائیگا۔ موجودہ وقت میں جب ان ہم خیال دوستوں سے گفت و شنید ہوتی ہے تو وہ جرنلسٹ پینل کو خوش آمدید کہتے ہیں اور یقین دلاتے ہیں کہ صحافی اور صحافت کی عزت و وقار کیلئے وہ جرنلسٹ پینل کیساتھ قدم بقدم ہیں اور انشاءالله دسمبر کے انتخاب میں اپنی سچائی و خلوص کا ثبوت اپنے ووٹ سے دیں گے۔ ان کا ماننا ہے کہ سچ و حق کا راستہ مشکل کٹھن تکلیف دہ ضرور ہیں مگر منزل بہت خوبصورت کیونکہ حق و سچ منجانب الله ہے اور جھوٹ نفاق منافقت ابلیس شیطان کی طرف سے ۔۔۔۔۔۔ الله ہمارے جرنلسٹ پینل کے کاروان کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے اور ہمیں حقیقی معنوں میں صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیئے منتخب کرلے آمین ثما آمین ۔
جاوید صدیقی ایگزیکٹو ممبر جرنلسٹ پینل کراچی پریس کلب کراچی
