*غیر قانونی موت کا کھیل**
*ڈاکٹر مرزا ایم بی قمر*
انسان خوب سے خوب تر کی تلاش میں مسلسل دوڑ رہا ہے۔ پیسے کو ہی سب کچھ مان لیا گیا ہے، اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج کی دنیا میں عزت، شہرت اور مقام سب کچھ پیسے کے گرد گھومتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دوسرا شخص پیسہ کمانے کے لیے سرگرداں ہے۔ کچھ نوجوان ملک کے اندر ہی اپنے مستقبل کے لیے کوشاں ہیں۔ کوئی تعلیم کے میدان میں کامیابی حاصل کرنے کی جستجو میں ہے، تو کوئی چھوٹا بڑا کاروبار شروع کرکے اپنے خوابوں کو حقیقت بنانے میں مگن ہے۔ تاہم، دیہی علاقوں کے نوجوانوں کے لیے یہ کہانی قدرے مختلف ہے۔ تعلیم کی کمی اور محدود وسائل انہیں بڑے شہروں یا بیرونِ ملک جانے پر مجبور کرتے ہیں۔ جو خوش نصیب ہیں اور جن کے پاس وسائل موجود ہیں، وہ قانونی طریقوں سے ویزا حاصل کرکے بیرونِ ملک اپنا مستقبل سنوارنے نکل جاتے ہیں۔ لیکن کچھ نوجوان، جلد بازی اور جلد امیر بننے کی خواہش میں غیر قانونی راستے اختیار کرتے ہیں۔ ان راستوں میں سب سے خطرناک راستہ "ڈنکی” لگانے کا ہے، جس میں نوجوان اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر بیرونِ ملک سفر کرتے ہیں۔ یہ نوجوان، جو اپنے گھروں کی غربت مٹانے کا خواب لے کر نکلتے ہیں، اکثر اخبارات کی سرخیوں میں اپنی موت کی خبریں بن کر واپس آتے ہیں۔ وہ جوان بیٹے، جو اپنی ماؤں کی امیدوں کا سہارا ہوتے ہیں، کسی دریا میں ڈوب کر یا کسی صحرا میں دم توڑ کر اپنی کہانی ہمیشہ کے لیے ختم کردیتے ہیں۔ جو چند خوش نصیب ان راستوں سے بچ نکلتے ہیں، وہ بھی غیر قانونی حیثیت میں دوسرے ممالک میں کام کرتے ہیں، چھپتے پھرتے ہیں، اور ہر لمحہ پکڑے جانے کے خوف میں جیتے ہیں۔ یہ خوف، یہ دباؤ، انہیں وقت سے پہلے بوڑھا کردیتا ہے۔ یہ لوگ اپنی زندگیاں تنہائی اور غم کے ساتھ گزارتے ہیں، ماں باپ اور خاندان سے دور، صرف اس امید پر کہ ان کے گھر والوں کی زندگی بہتر ہو جائے گی۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا نہیں ہے۔ وہ غربت جو ان کے اپنے وطن میں ان کی زندگی کا حصہ تھی، وہی غربت ان کے خوابوں کو چکنا چور کر دیتی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اگر ان نوجوانوں کو ان کے اپنے ملک میں بہتر مواقع میسر ہوں، تو نہ تو انہیں ایسے خطرناک راستے اختیار کرنے کی ضرورت پڑے، نہ ہی ان کے خاندانوں کو ان کے جنازے کا انتظار کرنا پڑے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو ان کی منزل تک پہنچنے کے لیے محفوظ اور قانونی راستے فراہم کریں۔ ان کی صلاحیتوں کو اپنے ملک کی ترقی کے لیے استعمال کریں تاکہ کوئی بھی جوان اپنی جان خطرے میں ڈال کر غیر قانونی سفر کرنے پر مجبور نہ ہو۔ یہ صرف ان نوجوانوں کی کہانی نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی ناکامی کا المیہ بھی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ہم ان خوابوں کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے قدم اٹھائیں، جو ان ماؤں کے دل میں پلتے ہیں جو اپنے بیٹوں کو بہتر مستقبل کی دعاؤں کے ساتھ رخصت کرتی ہیں۔
