BBC Urdu TV

*غنڈہ گردی نہیں چلے گی، نہیں چلے گی*

{"remix_data":[],"remix_entry_point":"challenges","source_tags":["local"],"origin":"unknown","total_draw_time":0,"total_draw_actions":0,"layers_used":0,"brushes_used":0,"photos_added":0,"total_editor_actions":{},"tools_used":{},"is_sticker":false,"edited_since_last_sticker_save":false,"containsFTESticker":false}

*غنڈہ گردی نہیں چلے گی، نہیں چلے گی*

تحریر: جاوید صدیقی سینئر جرنلسٹ کراچی

پاکستان بھر کے سرکاری ملازمین گریڈ 1 سے 22 تک نے حکومت وقت کو خبردار کیا ھے کہ آنے والے بجٹ 2025۔2026 میں تنخواہوں اور پینشنز میں قومی و صوبائی ممبران کے امسال اور گزشتہ سال 400 گناہ اضافہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں بھی اضافہ کیا جائے۔ آئی ایم ایف کی بلیک میلنگ اور جھوٹ اب ختم ہوجانا چاہئے شرائط لاگو کریں تو سب پر وگرنہ پارلیمنٹیرین کی گزشتہ پانچ سال کی تنخواہ اور مراعات پر لائیں جائیں یہی عمل عدالتوں میں بھی کیا جائے۔ سرکاری ملازمین اور پینشنرز کا کہنا ھے کہ پارلیمینٹیرین عدالتوں پر کیا ریاست پاکستان کے بجائے کسی اور کا قانون آئین و دستور لاگو ہوتا ھے اگر نہیں تو یہ بٹوارہ کیوں؟؟ اس کا مطلب ھے کہ ریاست پاکستان میں جو جتنا طاقتور اور بدمعاش ھے وہ اسی قدر قومی خذانے سے بھاری بھرکم مراعات تنخواہ اور پینشن حاصل کرسکتا ھے گویا گریڈ 1 سے 16 سرکاری ملازمین و پینشنرز یتیم مسکین اور غلام ٹہرے اور کئی ایسے بھی ادارے ہیں جہاں کے گریڈ 17 سے 22 افسران بھی یتیمی زندگی گزارنے پر مجبور رہتے ہیں نہ تو انہیں مراعات و آسائشیں ملتی ہیں اور نہ ہی کوئی اور ذرائع بحرکیف ریاست پاکستان کے آئین و دستور اور قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون سازوں کو اس بات کا دھیان احساس اور توجہ رکھنی چاہئے کہ عدل و انصاف و انسانیت اور قانونی تقاضوں پر ضرب نہ آئے یہی تفریق نفرتوں اور دوریوں عدم اعتماد اور انکاری کو بھی جنم لیتی ہیں۔ سرکاری ملازمین کا ایک ہی مطالبہ "تنخواہوں اور پینشن” میں اضافہ پارلیمنیٹیرین کے اضافہ کے تحت دی جائیں۔

Exit mobile version