*عہدے یا حکمرانی ملنا بڑی بات نہیں بلکہ بڑی بات اس کے ساتھ انصاف کرناہے۔ڈاکٹر خالد عراقی*
*حضوراکرم ﷺ رحمتہ اللعالمین اور کائنات کے ہر طبقہ کے لئے رحمت ہیں۔آیت اللہ غلام عباس رئیسی*
*مسلمانوں کاسب سے اہم اور مشترک مسئلہ فلسطین اور مسجد اقصیٰ ہے جس کے لئے تمام مسلمانوں کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔آیت اللہ غلام عباس رئیسی*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) آیت اللہ غلام عباس رئیسی نے کہا کہ حضوراکرم ﷺ رحمتہ اللعالمین اور کائنات کے ہر طبقہ کے لئے رحمت ہیں، رحمتہ اللعالمین ﷺ وہ ذات ہے جسے کائنات کی ہر شے سے ہمدردی اور محبت ہے ہر ایک پر ترس کھاتی ہے اور ہر ایک کی غمگسار ہے۔ حضوراکرم ﷺ نے اتحاد پر زور دیا کیونکہ اسلامی اہداف و مقاصد اس کے بغیر عملی نہیں ہوسکتے۔ امت کے درمیان اختلاف ڈھالنے والوں کو سمجھنا اور قوم کو باشعور ہونا پڑے گا۔ کفار کیساتھ تلوار جبکہ منافقین کیساتھ حکمت، عقل اور شعورکیساتھ جنگ لڑنے کی ضرورت ہے۔ عالم کفر ایمان نہ رکھنے کے باوجود مسلمانوں کے خلاف متحد اور ڈٹے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کا سب سے اہم اور مشترک مسئلہ فلسطین اور مسجد اقصیٰ ہے جس کے لئے تمام مسلمانوں کو متحد ہونے کی ضرورت ہے، اسی صورت مسلمان طاقتور ہوں گے اور دنیا ان کی بات سنے گی۔ فلسطین کا مسئلہ اتحاد کا ذریعہ ہے، مسلمانوں کو بیدار اور متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دفتر مشیر امور طلبہ جامعہ کراچی زیر اہتمام پارکنگ گراؤنڈ بالمقابل آرٹس لابی جامعہ کراچی میں منعقدہ سالانہ یوم مصطفی ﷺسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ آیت اللہ غلام عباس نے مزید کہا کہ ہولوکاسٹ کے نام پر یہودیوں نے پوری دنیا کو اپنا ہمنوا بنایا لیکن آج فلسطین میں ہونے نسل کشی پر پوری دنیا خاموش ہے۔ مغرب خواتین کے حقوق کا علمبردار بنتا ہے لیکن آج فلسطین میں ہونے والی خواتین کی نسل کشی پر خاموش ہے۔ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ اگر قرآن کو سمجھنا ہے تو حضوراکرمﷺ کی زندگی کو سامنے رکھنا ہوگا اور اگر حضو اکرمؐ کی زندگی کو سمجھنا ہے تو قرآن کو سامنے رکھنا ہوگا۔ حضورﷺ پر دین کی تکمیل کردی گئی، آپ ؐ نے عملی طور پر ثابت کرکے دکھایا کہ اسلامی معاشرہ، برابری اور سماجی انصاف کیسے ہوتا ہے۔ ہماری تنزلی کی ایک بڑی وجہ ہمارے قول و فعل میں تضاد ہے، ہم کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہیں۔
ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ عہدے یا حکمرانی ملنا بڑی بات نہیں بلکہ بڑی بات اس کیساتھ انصاف کرنا ہے۔ موجودہ دور کا سب سے بڑا مسئلہ تنازعات کا حل ہے جس کے لئے ویژنری لیڈر ناگزیر ہے لیکن عصر حاضر میں اس کا فقدان ہے۔ موجودہ دور کے تمام تنازعات کا حل سیرت النبیؐ میں موجود ہے جس ایک بڑی مثال صلح حدیبیہ ہے۔ حضور اکرمؐ پوری انسانیت کے لئے مشعل راہ ہیں، آپ ؐ نے اسلام کی تبلیغ اپنے عمل کے ذریعے کی۔ ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کہا کہ تمام مشکلات اور مسائل کا حل سیرت طیبہ میں موجود ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ پر عمل کئے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ سیرت النبیؐ سے ہر فرد انفرادی اور معاشرہ اجتماعی طور پر بہتر طور پر رہنمائی حاصل کرسکتا ہے۔
فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے جنرل سیکریٹری صابر ابو مریم و دیگر مقررین نے کہا کہ فلسطین کے لئے آواز اُٹھانا ہم سب کا فریضہ ہے۔ پوری مسلم اُمہ کی ترقی اور تمام مسائل کا حل سیرت طیبہ میں نہاں ہے، عصر حاضر میں مسلم اُمہ کو درپیش مسائل اور چیلنجز کامقابلہ حضور ؐ کی سیرت مبارکہ سے رہنمائی حاصل کئے بغیر ممکن نہیں ہے۔
