BBC Urdu TV

*عنوان: یہ کیا حرام زدگیاں ھیں۔۔!!*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: یہ کیا حرام زدگیاں ھیں۔۔!!*

*کالمکار : جاوید صدیقی*

موجودہ ہمارے معاشرے کے افعال پر جب ھم نظر دوڑاتے ہیں تو تقریباً ہر مسلمان وہ بھی پاکستانی قرآن و سنت، احادیث و حکایات بیان کرتے تھکتے نہیں من حیث القوم ہر ایک اس بیماری میں مبتلا نظر آتا ھے، اس موذی بیماری میں صف اوّل دینی ٹھیکیدار، دوئم سیاستدان و نوکر شاہی طبقہ سوئم تاجر و آجر چہارم ابلاغ عامہ آجکل اسے میڈیا انڈسٹری سے پہچانا جاتا ھے پنجم معلمین و اسکالرز شامل ہیں جبکہ محلہ کمیٹیاں اور یونین بھی خاص درجہ منافقت اور جھوٹ کے پلندے گانٹھتے ہیں۔ ان تمام سے اعلیٰ و درجہ حرام زدگی کرنے والے وہ غریب جو خود کو محنت کش اور مسکین کہواتے تھکتے نہیں یہی سب سے زیادہ معاشرے کا حرام خور، بددیانت، خائن اور چور اُچَکّے ہوتے ھیں، ان محنت کشوں کی حرام زدگیوں کا حال یہ ھے کہ سامان میں پتی مارنا، ناقص اور سستا مہنگوں دام پر چونا لگانا اور مزدوری آسمانوں کو جیسے چھووئے۔ کام بھی ایسا کہ جیسے تھا ویسے ہی چھوڑا یعنی نقص جہاں تھے وہیں پر رھے۔ ھم پاکستانیوں کی حرام زدگی کی ایک اور طریقہ یہ بھی ھے کہ ڈیوٹی پر تاخیر سے پہنچنا اور جلد گھر کو لوٹنا عام سی بات ھے۔ یہاں تو گھر کو آباد و سجاوٹ کرنا بھی گناہ تصور کیا جاتا ھے گھر کی تعمیر ہو تو پولیس بھتہ، گھر کی سجاوٹ ہو تو چور اچکوں کی وارداتیں تحفظ نام کی جیسے کوئی شئے ہی نہیں، روڈ پر خلاف قانون پر چلنا پھر اکڑنا یہی نہیں بلکہ بڑی گاڑیوں کا چھوٹی گاڑیوں کو کچلنا جیسے کوئی فیشن ھوپھر ان حرام زادگوں سے کوئی پوچھے کہ اسمبلیوں میں بیٹھ کر کرپشن اور لوٹ مار کے سودے کیا حلالی نسلوں کی عادتیں ہیں، علاقہ کا تھانے دار یعنی ایس ایچ او الگ کہانی سناتا ھے کہ لاکھوں حرام خرچ کرکے یہ سیٹ لی ھے اور تم میڈیا والے میری حرام زدگیوں کو عیاں کرکے معطل کرادیتے ہو تم میں وہی اچھے صحافی ہیں جو ھم سے ملکر ساتھ چلتے ہیں اور تم ھو کہ سچ کی پونچھ ہی نہیں چھوڑتے بڑے آئے حلالی دو چار الٹے کیس داغ دیئے تو روتے رہ جاؤگے۔ ہمارے معاشرے میں ہر سو ہر جانب حرام زدگی کا زہر پھیلا ہوا ھے سبزی و فروٹ اور گوشت فروش اپنے اپنے انداز سے حرام زدگیوں میں مصروف ہیں یہی نہیں بلکہ دودھ دہی بیکری اور نان بائیوں نے بھی نئی سے نئی ٹیکنک کے ذریعے حرام زدگیاں مچائی ہوئی ہیں۔ بڑی تحقیق اور باریک بینی سے مطالعہ کیا اور رپورٹ تیار کی تو حیرت انگیز مزید انکشافات حرام زدگیوں کے سامنے آئے وہ تھے حفظان صحت اور بعد موت قبرستان کے معاملات۔ کسی پل حرام زدگیوں سے معاشرہ خالی نظر نہ آیا۔ علم کے دریچے ہوں یا مسجد و مدرسہ کی انتظامی امور، فلاحی ادارے ہوں یا این جی اوز کی تنظیمیں ان سب میں بھی حرام زدگیوں نے اپنی اپنی پناہ گاہیں بنائی ہوئی ہیں تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان کسی کرشماتی و معجزاتی عمل سے گزر رھا ھے وگرنہ دین محمدی ﷺ کے نظام کے مکمل برعکس نظام جمہوریت میں قائم رہنا اللہ کے وجود کا زبردست احساس دلاتا ھے اور ڈر بھی لگا رہتا ھے کہ رب اگر غضب میں آیا تو یقیناً ان سب حرام زادوں کی حرام زدگیاں پوری قوم کو کسی بڑی مصیبت و آفات میں نہ دکھیل دے بڑے بڑے دانشور مفکر ولی اور نیک بزرگ آگاہ کرتے رہے ہیں بیدار کرتے رہے ہیں کہ خدارا اب بس کردو اپنی حرام زدگیاں، یہ حرام زدگیاں تمہارے ناپاک بدن روح اور سوچ کے سبب پیدا ہورہی ہیں گر تم باز نہ آئے تو رب کیلئے یہ مشکل نہیں کہ تمہاری جگہ نیک پاک صاف اور حلالی خون کو تمہارا رہبر لیڈر اور سرپرست تعینات کردے۔ پاکستان کسی کے باپ کی میراث نہیں یہ رب العزت سبحان تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی رضا و مرضی کے تحت کلمہ طیبہ کے نام پر وجود میں آیا ھے، یہ پاک سرزمین ھے یہاں حرامیوں اور حرام زدگوں کا کوئی نہ تو مقام ھے اور نہ ہی کوئی جگہ بہتر یہی ھے کہ حرامی اور حرام زدگیاں پھیلانے والے از خود اس سرزمین سے نکل جائیں۔۔۔۔!!

Exit mobile version