BBC Urdu TV

عنوان: ہوشربا مہنگائی اور سرکاری ملازمین و پینشنرز

عنوان: ہوشربا مہنگائی اور سرکاری ملازمین و پینشنرز

تحریر: جاوید صدیقی
جرنلسٹ و کالمکار کراچی

حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پینتیس فیصد اضافہ تو کردیا گیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایسا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے مستقبل میں سرکاری ملازمین کی بنیادیں ہل جائیں گی۔ جب ایک سرکاری ملازم ریٹائرمنٹ لیتا ہے تو تب اس کی آخری سیلری سلپ کی بیسک سیلری کے حساب سے اس کی پنشن مقرر ہوتی ہے اور اس سلپ کے حساب سے اسے کمیوٹیشن فنڈ بھی ملتا ہے، مثال کے طور پر ایک کانسٹیبل عبداللہ ایک ہزار تین سو ستاون گریڈ سات میں بھرتی ہو اور چالیس سال نوکری کرے تو اس کی آخری سیلری سلپ سمیں اس کی بیسک سیلری ستر ہزار ہو جائے تو پچھلے قانون کے مطابق اسے تقریباً ستر ہزار پنشن ملنی تھی لیکن اب حکومت نے پالیسی بنا دی ہے کہ عبداللہ کو اس بیسک سیلری کے حساب سے پنشن دی جائے گی جس سے وہ بھرتی ہوا تھا مطلب سولہ ہزار تین سو پچاس روپے اور جو پیسے فنڈ کی مد میں بیس پچیس لاکھ ملتا تھا وہ بھی پانچ سے چھ لاکھ پر آجائیگا۔ مطلب اب چالیس سال ملازمت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ بل پاس کر کے حکومت نے سرکاری ملازمین کا معاشی قتل کردیا ہے۔ خدارا ہوش کے ناخن لیں اور ہر ملازم اپنا احتجاج ریکارڈ کرائے تاکہ حکومت اپنا فیصلہ واپس لے۔ نہیں تو کل بڑھاپے میں ریٹائر ہونے کے بعد آپ خود کو کوس رہے ہوں گے کہ اس وقت آواز اٹھا لینی چاہئے تھی۔ ننانوے فیصد ملازمین کو ابھی تک اس ظلم کا علم ہی نہیں۔ دوسری بات یہ کہ ایک صحافی ہونے کے ناطے جب پینشنرز کے وفود نے ملاقات کے درمیان میں اصل صورتحال سے آگاہ کیا تو گزشتہ پانچ چھ سالوں سے وفاق و صوبائی حکومتوں کو پینشنرز میں خاطر خواہ اضافے کی یاد دہانی کراتا رھا ھوں یہی نہیں بلکہ خواب غفلت میں سوئے ھوئے حاضر سروس سرکاری ملازمین کو ہوش دلاتا رھا ھوں کہ یہ جمہوریت پسند جمہوری ٹھیکیدار حکمرانوں نے جھوٹ چالبازی مکاری دھوکہ دہی اور منافقت کے عملی مظاہرے پیش کئے ھیں پاکستان کی تاریخ میں کبھی آمر حکومتوں میں ایسے ظالمانہ رویہ اور احکامات کو بھی خواب میں بھی نہیں سوچا جبکہ یہ عوامی سول حکومتیں برسوں سے مکاری جھوٹ اور منافقت کی راہ پر گامزن ھیں۔ بہتر یہی ھے کہ سرکاری ملازمین کی یونین متحد ھوکر سپریم کورٹ سے رجوع کریں اور مہنگائی کے تناسب حاضر سروس و پیشنرز کی پیشن میں اضافے کیلئے درخواست دائر کریں اگر ایسا نہ کیا تو ظلم تمہارا مقدر ٹہرے کا خدا ان کی مدد کرتا ھے جو خود اپنی مدد کا سوچیں ڈرے بزدلوں کیساتھ رب بھی مدد نہیں کرتا اب وقت ھے کہ سرکاری ملازمین یونین کے منافق جھوٹے عہدیداران کو نکال باہر کریں اور سچوں نڈر بےباک باضمیروں کو منصب دیں تاکہ وہ اپنے اجتماعی حقوق کیلئے بھرپور جدوجہد کریں۔ گزشتہ دو سال قبل وزیراعلیٰ سندھ بجٹ کی تقریر میں کہتے رھے کہ ھم نے سندھ بھر کے سرکاری ملازمین کو مارچ کے ماہ میں آدھا اضافہ کیا تھا اور اب آدھا مزید دیکر وفاق سے زیادہ انکی تنخواہوں اور پینشن میں اضافہ کیا جب اس کی تحقیق کی تو جھوٹ نکلا گویا سیاسی لولی پاپ اور اب بھی لولی پاپ دیئے گیا ھے۔

Exit mobile version