ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: ہم کہاں کھڑے ہیں، ذرا غور کیجئے۔۔۔۔!!
احسان کا بدل وہی دے سکتے ہیں جو سچ و حق پر قائم رہنا جانتے ہیں۔ سچ و حق سے ہر برائی اس طرح ختم ہوجاتی ہے جس طرح لکڑی کو آگ جلا کر راکھ کردیتی ہے۔ ہمارے ملک پاکستان کی بربادی و تباہی کی اصل وجہ یہاں کے باشندوں کا سچ و حق سے کوسوں دور رہنا ہے۔ ہر شعبہ، ہر محکمہ، ہر ادارہ، ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے سچ و حق کو اپناتے نہیں۔ جھوٹ، نفاق، منافقت اور ریاکاری کو اپناکر خود کو کامیاب سمجھتے ہیں جو حقیقت میں ایک بڑا دھوکہ ہے ۔۔۔ معزز قارئین!! فارس ملک کے مشہور و معروف عظیم روحانی بزرگ حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللّٰہ علیہ کی دو کتابیں ادبی دنیا اور بلخصوص عالمِ اسلام میں بڑی قدر و منزلت سے دیکھی جاتی ہیں جن میں ایک حکایاتِ گلستان اور دوسری حکایاتِ بوستان ہیں جو کئی زبانوں میں مترجم ھوچکی ہیں۔ حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللّٰہ علیہ اپنی کتاب حکایاتِ گلستان میں بیان فرماتے ہیں کہ میں کچھ بزرگوں کے ہمراہ کشتی میں سوار تھا اور ہماری کشتی کے پیچھے ایک اور چھوٹی کشتی آرہی تھی۔ اتفاقاً وہ چھوٹی کشتی ڈوب گئی اور اس میں موجود دو بھائی بھنور میں پھنس گئے۔ ہماری کشتی میں موجود ایک بزرگ نے ملاح سے کہا کہ تم ان دونوں کو زندہ نکال لاؤ تو تمہیں ہر ایک کے بدلے پچاس دینار دوں گا۔ ملاح نے دریا میں چھلانگ لگائی اور بھاٸی کو زندہ بچالیا جبکہ دوسرا مرگیا۔ میں نے ملاح سے کہا کہ یہ زندہ اس لئے بچ گیا کہ اس کی زندگی ابھی باقی تھی جبکہ دوسرے کا وقت پورا ہوچکا تھا، اس لیئے تو اسے بچا نہ سکا۔ ملاح نے میری بات سنی تو مسکرا دیا اور کہنے لگا کہ آپ کی بات درست ہے مگر اس کی ایک وجہ اور بھی ہے کہ میں ایک مرتبہ جنگل میں سفر کررہا تھا اور جب دورانِ سفر تھک گیا تھا تو جسے میں نے بچالیا، اس نے مجھے اونٹ پہ بٹھالیا تھا اور مرنے والے نے بچپن میں ایک مرتبہ مجھے کوڑے مارے تھے، جس سے میری دل آزاری ہوٸی تھی۔ حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے ملاح کی بات سنی تو کہا کہ اللّٰہ عزوجل کا فرمانِ حق ہے کہ جس نے نیک اعمال کیئے وہ اس کے نفع کیلئے ہیں اور اگر کسی نے برے اعمال کیئے ان کا وبال اس پر ہے۔ پس یاد رکھو کہ دل آزاری سے بچو اور جہاں تک ممکن ہو کسی کا دل نہ دکھاٶ، اگر کوئی تمہارے ساتھ نیکی کرے تو اس کے احسان مند رہو اور موقع ملنے پر اس کی نیکی کا بدلہ نیکی کے ساتھ دو۔۔۔۔معزز قارئین!! موجودہ زمانے کو ہم لوگ آئے روز کوستے اور برا بھلا کہتے تھکتے نہیں جبکہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارے اعمال کا بدل ہمیں ضرور ملے گا۔ ویسے بھی زمانے اور وقت کی قسم الله تبارک تعالیٰ نے مقدس ترین الہامی روشن کتاب قرآن پاک میں کئی مقام پر کھائی ہے کہ زمانہ منجانب الله ہے زمانے کے اچھے برے حالات الله کے بندے اپنے اعمال سے خود بناتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہماری نیتیں اور اعمال ہماری زندگی کو خوشگوار اور بدحال بنانے میں سب سے زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ دنیا میں ایسے بیشمار ممالک ہیں جن کی حکومتیں غیر مسلم تو ہیں مگر اعمال اسلامی اصولوں کے مطابق ہونے سے وہاں کا معاشرہ اور زندگیاں پرسکون پرامن اورخوشگوار ہیں۔ یاد رہے کہ اصل دنیاوی کامیابی و کامرانی خوشحالی و ترقی امن و سلامتی صرف اور صرف نظامِ اسلام میں پنہاں ہیں مگر ہم مسلمان ہم پاکستانی اسلامی نظام کی تعریف تو کرتے تھکتے نہیں مگر اپنانے کیلئے کبھی بھی تیار نہیں ہوتے۔ پاکستان کو اسلام کا قلعہ تو کہا جاتا ہے مگر نظامِ اسلام کا نہیں۔ اگر یہاں نظامِ اسلام رائج ہوجائے تو ہر پاکستانی عملی طور پر مکمل مسلم جامع میں نظر آئیگا۔ ہم قرآن و حدیث کو عزت و مقام تو دیتے ہیں مگر پڑھتے اور سمجھتے نہیں۔ ہم اسلامی اصولوں کو پسند تو کرتے ہیں مگر اپناتے نہیں کیا ہم سب نے الله اور اس کے حبیب آخری الزمان حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات کا بدل احسان سے دیا یا احسان کا بدل شر سے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم نے رب العزت اور حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو سنجیدگی سے نہیں لیا ہے۔ ہم نے دینِ اسلام کو درہم و دینار کے حصول کیلئے اپنایا ہوا ہے۔ افسوس کہ دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم مسلمان ظاہری و باطنی علوم سے سرفراز ہوسکتے ہیں مگر ہم نے اپنے نفس کو اپنے ایمان پر ترجیحات میں رکھا ہوا ہے جب تک ہم ایمان کو اپنی زندگی پر فوقیت نہیں دیتے تب تک ہم ایک مضبوط مسلمان قوی ایمان نہیں بن سکتے۔ ایک اچھا سچا مضبوط مسلمان ہی الله و رسول کے احسانات کا حق ادا کرنےکی ہمت کرسکتا ہے۔ ہمیں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ رحمٰن کے بندے بن کر دنیا کو روشن کرنا ھوگا اس کیلئے ہم سب کو سچ و حق پر قائم رہنا ہوگا۔ صرف ان دو اعمال سچ و حق سے ہی تمام اعمال درست ہوجائیں گے ورنہ ہم یونہی دنیا میں رسوا برباد رہیں گے۔ الله ہم سب کو سچ و حق پر تاحیات قائم رکھے آمین یا رب العالمین۔۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
