BBC Urdu TV

عنوان: ہم اُس دُور میں رہتے ہیں

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: ہم اُس دُور میں رہتے ہیں۔۔۔!!

ہم اُس دُور میں رہتے ہیں جس کی پیشنگوئی کے سلسلے میں قرآن الحکیم و الفرقان المجید اور مختلف احادیث نے اشارے اور نشاندہی کی ھے۔ موجودہ زمانہ پندرہ ویں صدی کا زمانہ ھے اس زمانے میں اعتماد یقین سچ حق انصاف عدل نعمت برکت اٹھالیا گیا ھے یہ الگ بات ھے کہ الله کی جانب سے ان نعنتوں اور برکتوں کو مخصوص قلیل تعداد میں انعام کے طور پر بخش دیا گیا ھو۔ دنیا پرستی اپنے عروج کو پہنچ چکی ھے زمانہ خوارج اور فتنہ سر اٹھا چکا ھے عرب و عجم کی دین سے دوری بڑھ چکی ھے۔ بت توڑنے والے بت سجانے میں لگ گئے ھیں۔ فتنہ دجال دنیا بھر میں پھیل چکا ھے جہاں نا قدرے ایمان کے بجائے عقل کو فوقیت دینے پر ساکت ھوچکے ہیں جہاں دھوکے کو ہی روحانی درجات پر فائز کرچکے ہیں۔ پڑھے لکھے خود کو ہی عقل قل اور والی دسترس سمجھ بیٹھے ہیں شعور سے دور لاشعوری دنیا میں رہ کر خود کو شعوری بادشاہ سمجھ رہے ہیں۔ عام عوام کے دلوں میں بھوک پیاس اور موت کا ڈر خوف بیٹھا دیا ھے کہیں وائرس تو کہیں بیماری تو کہیں تابکاری کے اثرات میں نفسیاتی بنادیا ھے یہ سب کچھ دنیا بھر میں ایک سوچی سمجھی اسکیم کے تحت پلان تیار کرکے عملی جامع زور و زبرددستی رائج کروادیا گیا ھے کیونکہ دجال کی آمد سے قبل دجالی ذہن اور اس کی غلام بنانے کیلئے راہ ہموار کی گئی ہیں۔ عیسائی و یہودی زائینسٹ نے اپنی سپر پاور کے ذریعے اسلامی ممالک کی بچی کچی طاقت کو زائل کرنے کیلئے ایک جانب انتہا سے زیادہ مہنگائی تو دوسری جانب انتہا سے زیادہ امیری پیدا کرکے غربت کے مارے لوگوں کا ایمان زائل کرنا ھے کیونکہ عالم اسلام میں غربت کی شرح دن بدن بڑھتی جارہی ھے قارئین اچھی طرح واقف ہیں کہ دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں زکواۃ و عشر صدقہ خیرات ایسے عوامل ہیں جو صحیح اور درست سمت میں کیئے جائیں تو حقدار کو جہاں حق میسر آتا رہا تھا وہیں معاشرے سے غربت کا خاتمہ ممکن ھوجاتا تھا ھم اِس دُور میں اسلامی شعائر اسلامی تہذیب اسلامی روایات سے کوسوں دور ھوتے جارہے ہیں میں یہ سوچتا ھوں کہ ھماری نسلیں فتنہ دجالی اور دنیاوی دھوکے میں کس قدر گِھر چُکی ہونگیں دعا ھے کہ الله ہمیں اور ہماری نسلوں کو فتنہ دجالی سے محفوظ رکھے۔۔۔۔۔معزز قارئین!! فتنۂ دجال سب سے بھیانک فتنہ ہوگا۔ اس کی خطرناکی کا اندازہ ان روایات سے لگایا جاسکتا ہے جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال سے چوکنا فرمایا ہے ۔ اس فتنہ کی ہولناکی کیلئے یہی ایک بات کافی ہے کہ خود رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم اس فتنہ سے پناہ مانگتے تھے۔ چنانچہ ایک سے زائد مقامات پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں فتنۂ دجال سے پناہ طلب کرنے کا ذکر ہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضراتِ صحابہ کرام کے سامنے اس فتنہ کا تذکرہ فرماتے تو صحابہ کرام کے چہروں پر خوف کے اثرات نمودار ہوجایا کرتے تھے۔ فتنۂ دجال سے صرف نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ ہی نے اپنی قوم کو نہیں ڈرایا بلکہ آپ کی صراحت کیمطابق ہر پیغمبر نے اپنی قوم کو اس فتنہ سے ڈرایا ہے۔ چنانچہ حضرت انسؓ کی روایت ہے، آپ نے فرمایا: ما بعث نبی إلا أنذر أمتہ الأعورالکذاب (بخاری شریف ۶۵۹) ترجمہ: کوئی نبی ایسے نہیں بھیجے گئے جنہوں نے اپنی امت کو کانے کذاب سے نہ ڈرایا ہو۔ ایک اور روایت میں فتنۂ دجال کی ہولناکی کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا گیا آدم علیہ السلام کی پیدائش اور روزِ قیامت کے درمیان ایک بہت بڑا فتنہ ظاہر ہوگا اور وہ دجال کا فتنہ ہے۔( مستدرک حاکم ۴/۵۷۳ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ کرام کو فتنۂ دجال سے بچانےکی اس قدر فکر دامن گیر رہتی تھی کہ آپ نے انہیں نماز میں بعد تشہد پڑھی جانےوالی دعاؤں میں ایک دعا ایسی تعلیم فرمائی جس میں فتنۂ دجال سے پناہ مانگی گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔احادیث میں آتا ہے کہ جو سورۃ الکھف کی ابتدائی دس آیات حفظ کرلے وہ دجالی فتنے کے اثر سے محفوظ رہے گا۔ فتنہ دجال کو سمجھنا لازم جز ھے کہ آخر فتنہ دجال اور خود دجال کیا ھے تو آج یہ بات ممکن دکھائی دیتی ہے کہ جیسے واشنگٹن میں ہونے والی صدر کی تقریر کو پوری دنیا میں لوگ قریہ قریہ سنتے ہیں۔ اسی طرح مسیح الدجال کی بہت سے امراض کے علاج قدرت بھی حاصل ہوگی ۔ آج کی دنیا میں ہم اپنے الفاظ میں کہیں تو گویا میڈیکل کے شعبے میں اسے خوب کمال حاصل ہوگا یہاں تک کہ وہ ایک شخص کو چیرے گا اور پھر اس کے دونوں حصوں کو جوڑ دے گا۔ آج کے دور میں کٹے ہوئے اعضاء کو سرجری کے ذریعے جوڑا جارہا ہے پھر یہ کہ مظاہر فطرت پر اسے زبردست قدرت حاصل ہوگی وہ آسمان کو حکم دے گا اور وہ بارش برسائے گا۔ زمین کو حکم دے گا تو وہ نباتات اگائے گی۔ ایک ہے اللہ کا بارشوں اور زراعت کا فطری نظام لیکن آج کے دور میں سائنسی ترقی یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بادلوں پراسپرے کرکے بارش برسائی جاسکتی ہے جبکہ مصنوعی ماحول پیدا کرکے صحر ا میں بے موسمی فصلیں اور سبزہ اگایا جارہا ہے۔ اسی طریقے سے دجال معدنی ذخائر کو بھی دریافت کرے گا۔ آج بائیولوجی کے علم نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ ایک ایک انچ کے بارے میں ماہرین ارضیات بتاسکتے ہیں کہ یہاں کون کون سی معدنیات اور ذخائر موجود ہیں احادیث کیمطابق ان پر اسے کنٹرول حاصل ہوگا یہ تو وہ معاملات ہیں جنہیں دورِ صحابہ ؓ میں دجال کے معجزات یا شعبدہ بازیاں سمجھا جاتا تھا لیکن آج کی سائنسی ترقی نے انکی حقیقت کو کھول کر رکھ دیا ہے۔ سائنسی ترقی کے بارے میں یہ حقیقت پیشِ نظر رہے کہ قوانین فطرت کو انسان نے ایجاد نہیں کیا یعنی اسے مظاہر فطرت پر کنٹرول حاصل نہیں ہوگیا بلکہ انہیں دریافت کیا ہے۔ بس سائنسی ترقی یہیں تک ہے۔ احادیث میں ہے کہ دجال کی پیشانی پر ’’ک ف ر‘‘یعنی کفر لکھا ہوگا۔ہرصاحبِ ایمان شخص اِسکو پڑھ لےگا خواہ وہ لکھنا پڑھنا جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جب یہ دور آئے گا اور ان صفات پر مشمل جو تہذیب ہوگی اس پر کفر کی چھاپ اتنی واضح ہوگی کہ ہر صاحبِ ایمان جان لے گا کہ یہ ملحدانہ تہذیب ہے اوراللہ سے نفرت اِسکی جڑوں میں رچی بسی ہے۔ ان شعبدہ بازیوں کیساتھ یہ شے ہوگی جو اسے فتنہ بنائے گی۔ اب اِنکا موازنہ موجودہ تہذیب سے کرلیجئے۔ ہم اُس دور میں رہ رہے ہیں جہاں دینی و اسلامی فروغ کے بجائے مسجد الحرام (خانہ کعبہ و مسجد نبوی) پر عازمین و زائرین پر یہ کہہ کر بندش لگادی کہ کرونا وائرس پھیل رہا ھے جبکہ پورے سعودی عرب میں عیش وتعائش کیلئے ہزاروں جوئے خانے شراب خانے زنا خانے کھول دیئے گئے کیونکہ وہاں پر کرونا نہیں آتا بات ابھی ختم نہیں ھوئی ابوظہبی میں دو سو ارب مالیت کا مندر بنایا جارہا ھے جبکہ ہندوستان اور دیگر غیر مسلم ممالک میں مساجد مسمار مسلم سینٹرز پربندشیں ھورہی ھیں اور آج کا بے غیرت مسلمان بادشاہ و سربراہانِ مملکت اپنے نفس اور فتنہ دجالی کی اطاعت میں انتہائی گِر چکا ھے یہی وجہ ھے کہ آج کے عرب اپنے تباہی و بربادی کے سامان کو جمع کررہے ہیں۔ ہم اُس دور میں رہ رہے ہیں جہاں پاکستان بھر میں بچے بچیاں ہوس کا نشانہ بنکر قتل ھورہی ہیں یہاں نہ نظام ھے نہ انصاف۔ پاکستان میں فتنہ دجالی کا آغاز ھوچکا ھے اور ہر طاقتور طبقہ فتنہ بازی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ھے۔ یہ بدلتے حالات نہیں بلکہ بگڑتے حالات ہیں اس زمانے کا اور مستقبل قریب مزید بگڑنا مقدر میں لکھا جاچکا ھے وہیں الله کے بندے خوشنودگی حاصل کرسکیں گے جو بگڑتے حالات میں خود کو اور دوسروں کو سنبھالیں گے یقیناً بہت کٹھن مشکل تکلیف دہ لمحات ہونگے ایسے مسلمانوں کیلئے الله اور اسکے حبیب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشخبری کی نوید سنائی ھے۔ یاد رھے اپنے نفس اور جسم کی خواہشات کو دفن کرتے ھوئے اپنی روح کو بیدار کرنا اور قرب الہیٰ کے حصول کیلئے تیار رہنا ھے اصل میں امرِ زندگی بھی یہی ھے۔ ہم اُس دُور میں رہتے ہیں جہاں مادیت پرستی ہی ایمان اول بن چکی ھے جو صرف گمراہی ھے اور حقیقت وہی ھے جس نے قرآن کا ہاتھ تھاما اور رسول خدا کی پیروی و اطاعت میں حقوق العباد کو اولیت دیتے ھوئے حقوق الله کی منزل کو پہنچے دعا ھے الله مجھ سمیت امت محمدی کے ہر مسلمان کو راہ مستقیم پر گامزن رکھے آمین یا رب العالمین۔۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

Exit mobile version