ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: ہمارا بھی ایک زمانہ تھا۔۔۔!!
ایک واٹس اپ کے گروپ میں محترم فراز صاحب نے ایک تحریر لکھی جس میں اپنے دور کا ذکر کیا درحقیقت یہ دور ہمارا بھی ہے اس لیئے میں اس پر کالم لکھے بغیر نہیں رہ سکتا ہوں۔ یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ ہر انسان کو اپنا زمانہ بہت عزیز اور پیارا ہوتا ھے یقیناّ آج کے پیدا ھونے والے بچے جب مستقبل میں بڑے ہونگے تو انہیں یہ آج کا زمانہ آنے والے سے بہتر نظر آئیگا۔ ہمیں یاد ہے کہ ہمارے والدین اپنے زمانے کی خوبصورتی اور بہترین ذکر کیا کرتے تھے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کا زمانہ ہمارے زمانے سے اور بہتر خوبصورت سادہ اور سعادت مند تھا مانا کہ جدید سائنسی ترقی بام عروج پر نہیں تھی مگر دل و دماغ خوبصورت پاک و شفافیت سے معمور تھے۔ انسانی احساسات و کیفیات بیدار تھیں۔ اپنے بزرگوں کے طریق و آداب ہمارے زمانے میں بھی دیکھے جاسکتے ہیں مگر وقت کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ حالات و واقعات، زمینی تغیرات اور موسماتی تبدیلیوں نے زمانے کو کہاں سے کہاں دھکیل ڈالا ہے۔ اگر بات کی جائے بیماریوں کی تو اجتماعی اموات پر پر ایسی بیماریاں پرسرار خودکش آور جراثیم کے حملے نہیں تھے۔ زمانہ آہستہ آہستہ ٹہر ٹہر کر آگے بڑھ رہا تھا لیکن پھر بیس کی دھائی سے گویا زمانے کو پر لگ گئے بہت تیزی سے دوڑنے لگ گیا ھے۔ اس تیزی میں ہزاروں نہیں لاکھوں انسان اپنی زندگیوں سے ہاتھ دو بیٹھے ہیں یہ تسلسل جاری ہے نجانے کب تک جاری رہیگا۔۔۔۔ معزز قارئین!! اب میں اپنے موضوع کی جانب آتا ہوں یاد رہے وہ جس زمانے کی بات کررہے ہیں وہ زمانہ ہمارا بھی تھا۔ ہمارے دوست لکھتے ہیں کہ پانچویں جماعت تک ھم سلیٹ پر جو بھی لکھتے تھے اسے زبان سے چاٹ کر صاف کرتے، یوں کیلشیم کی کمی کبھی ہوئی ہی نہیں۔ پاس یا فیل ۔۔ صرف یہی معلوم تھا، کیونکہ فیصد سے ہم لا تعلق تھے۔ ٹیوشن شرمناک بات تھی، نالائق بچے استاد کی کارکردگی پر سوالیہ نشان سمجھے جاتے۔ کتابوں میں مور کا پنکھ رکھنے سے ھم ذہین، ہوشیار ھوجائیں گے، یہ ھمارا اعتقاد بھروسہ تھا۔ بیگ میں کتابیں سلیقہ سے رکھنا سگھڑپن اور باصلاحیت ہونے کا ثبوت تھا۔ ہر سال نئی جماعت کی کتابوں اور کاپیوں پر کورز چڑھانا ایک سالانہ تقریب ہوا کرتی تھی۔ والدین ہمارے تعلیم کے تیئں زیادہ فکرمند نہ ہوا کرتے تھے اور نہ ہی ہماری تعلیم انپر کوئی بوجھ تھی، سالہا سال ہمارے والدین ہمارے اسکول کی طرف رخ بھی نہیں کیا کرتے تھے، کیونکہ ہم میں ذہانت جو تھی۔ اسکول میں مار کھاتے ہوئے یا مرغا بنے ہوئے ہمارے درمیاں کبھی انا بیچ میں آنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوا۔ انا کیا ہوتی ہے یہی معلوم نہ تھا۔ مار کھانا ہمارے روزمرہ زندگی کی عام سی بات تھی، مارنے والا اور مار کھانے والا دونوں کو ایک دوسرے سے کوئی شکایت نہ ہوا کرتی تھی۔ ھم اپنے والدین سے کبھی نہ کہہ سکے کہ ہمیں ان سے کتنی محبت ہے۔ نہ باپ ھمیں کہتا تھا کیونکہ آئی لو یو کہنا تب رائج نہ تھا اور ہمیں معلوم بھی نہ تھا، کیونکہ تب محبتیں زبان سے ادا نہیں کی جاتی تھیں بلکہ ہُوا کرتی تھیں، رشتوں میں بھی کوئی لگی بندھی نہیں ہوا کرتی تھی بلکہ وہ خلوص اور محبت سے سرشار ہوا کرتے تھے۔ سچائی یہی ھے کہ ھم یا ہماری عمر کے قریب سبھی افراد اپنی قسمت پر ہمیشہ راضی ہی رہے، ہمارا زمانہ خوش بختی کی علامت تھا، اس کا موازنہ آج کی زندگی سے کر ہی نہیں سکتے!! میرے معزز قارئین ہمارے زمانے میں نہ نقل کا رجحان تھا اور نہ ہی شفارش و رشوت کے ذرائع تھے ہم نے اپنے زمانے میں نہ بڑھتی پھولتی عصبیت و لسانیت دیکھی اور نہ ہی دین میں سرے عام مسلکی جنگ اور تفرقہ دیکھا۔ مساجد میں جمعہ کے خطبے میں ہمیشہ خطیب کو بھائی چارگی انسانیت سے محبت اور اللہ و رسول کی پیروی کے احکامات پر بیان سنا۔ اسکولوں و کالجوں میں تدریسی عوامل کیساتھ ساتھ غیر تدریسی عمل ملی و تہذیبی تقاریب، کھیل کے ٹورنامنٹس، فزیکل ٹرینگ و اسکاؤٹنگ کی مشقیں ہی دیکھیں سالانہ بنیاد پر مطالعہ جاتی دورے کرتے دیکھے۔ اسکول کے ہیڈ ماسٹر صاحبان اور کالج کے پرنسپل صاحبان اس قدر بااختیار تھے کہ وہ سرکاری فنڈ سے یہ سب کچھ مثبت اقدامات کرتے تھے حتیٰ کہ انہیں نان ٹیچنگ اسٹاف کی تقرری کا اختیار تھا لیکن اب کرپشن لوٹ مار بددیانتی کا حال یہ ہوگیا ھے کہ سیکرٹری تک کو ایک پیون تقرر کرنے کا حق نہیں یہ سب کے سب حقوق وزیرِ تعلیم و وزیراعلیٰ نے سلب کرلیئے خبر تو یہ بھی عیاں ہیں کہ سندھ حکومت باپ بیٹے کے پاؤں کی جوتیوں میں ہے وہ جس پر مہربان ہوجائیں وہی عدل و انصاف کہلاتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ غلاموں کی نسلوں نے ملک کی ریاست اور عوام کو غلام بناکر رکھا ھوا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ نظامِ ریاست کی کمزور شقیں اور عدالتوں کا فرسودہ و ناکارہ نظام ہے۔ جب تھانوں میں غلام آباد ہونگے تو سمری و تفتیش بھی آقاؤں کے زیر اثر بنیں گی۔ میں عرض کرتا چلوں کہ دنیا بھر میں گریڈ و ڈویژن سسٹم نہیں ہوتا ھے وہاں پاس اور فیل رکھتے ہیں البتہ مقابلہ کا امتحان بہت سخت اور شفافیت پر مبنی ہوتا ھے اسی امتحان کے بعد داخلے اور تقرریاں کی جاتی ہیں ہمارے ہاں سیاسی آقاؤں کی ناجائز خواہشات کی وجہ سے ایسا نظام جاری رکھا گیا ھے وہ وقت دور نہیں جب ان جاہل جٹ گمراہ سیاسی حکمرانوں اور انکی نسلوں کا وجود ختم ہوجائیگا کیونکہ ظلم جب حد سے بڑھ جاتا ھے تو وہ خود ہی مٹ جاتا ھے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ کفر کی حکومت تو چل سکتی ہے مگر ظالم کی حکومت نہیں رہتی ان حکمرانوں نے ہر شعبہ ہر اداروں میں ظلم کے پہاڑ کھڑے کردیئے ہیں جو خود انکی تباہی و بربادی کا سبب بنیں گے انشاء اللہ۔۔۔۔ پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔۔۔۔!!
