*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: ھوشیار خبردار، وصل کا استعمال۔۔!!*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
کراچی میں بڑھتی ڈکیتیوں، چوریوں، اسٹریٹ کرائم، ٹارگٹ کلنگ، قتل و غارت سے خبردار ھوشیار رکھنے کیساتھ ساتھ خود کو اور دوسروں کو محفوظ بنانے کیلئے اب سنجیدگی سے سوچنا ھوگا اور ترکیب رائج کرنی ھوگی تاکہ جرائم کا خاتمہ خود سے یقینی بناسکیں، یہ حقیقت مسلمہ ھے کہ علاقے کے تھانے اور وہاں کے اہلکار ہی درحقیقت اس جرائم کی پیدائش میں مصروف رہتے ھیں اور پشت پناہی کی بھاری رقم بھی حاصل کرتے ھیں، وصل ایک چھوٹی سی چیز ھے جو کراچی کو اسٹریٹ کرائم، لوٹ مار اور ڈکیتوں سے چھٹکارا دلا سکتی ھے۔ تقریباً کراچی کے شہریوں کی جیب میں مہنگے موبائل فون، بٹوا اور اسی طرح کی اور چیزیں ھوتی ھیں۔ کراچی کا ہر شہری اپنی جیب میں وصل کا اضافہ بھی کر لے، اسٹریٹ کرائم، لوٹ مار اور ڈکیتی کے وقت اکثر لوگ تھوڑے فاصلے سے جرم ھوتا دیکھ رہے ھوتے ھیں۔ جانی و مالی نقصان کے خوف سے کوئی مدد کو نہیں آتا جس کے باعث متاثر شخص سامان کیساتھ ساتھ اپنی قیمتی اشیاء اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ھے۔ یاد رکھئے جرم ھوتے وقت ایک انسان بھی دیکھ لے اور اپنی جیب سے نکال کر وصل بجادے تو اطراف کے بہت سے لوگ ہوشیار خبردار اور اگاہ ھوجائیں گے اور وہ بھی وصل کا جواب وصل سے دیں اور فوراً اطراف کے راستے پر پوزیشن سنبھال لیں کچھ لوگ ڈکیت کی موٹر سائیکل اور دیگر ساتھیوں پر نظر رکھیں۔ وصل کی بہت سی آوازیں سن کر ڈکیت گھبرا جائیں گے اور فوراً شناخت میں آجائیں گے اور آپکا کام آسان ھوجائیگا۔ ڈکیت کی سواری اگر دسترس میں ھو تو اسے دھکا دے کر گراتے ھوئے بھاگ جائیں۔ بس دماغ میں انسانی فطرت کو ملحوظ خاطر رکھیں، حملہ آور انسان ھو یا جانور گھبراہٹ اس کی موت کا سبب بنتی ھے۔ جب ان ڈکیتوں پر قبضہ کرلیں اور انہیں بے بس کردیں تو سب سے پہلے دونوں ہاتھ اور پاؤں بری طرح کچل دیں تاکہ زندگی بھر نہ چل سکے نہ کچھ اٹھا سکے یہی عمل عوام متحد ھوکر اپنائے رکھیں ایک تو ڈکیت زندگی بھر عبرت کا نشان بن جائیگا دوسرا ڈکیتوں پر اس طرح کے عوامی رد عمل پر دیگر چور ڈاکو رہزن اور اسٹریٹ کرائم کراچی سے بھاگ نکلیں گے، یہی عمل منشیات فروشوں کیساتھ بھی کیا جائے اور اگر جرائم پیشہ افراد کی سہولت داری اور حفاظت کیلئے کوئی پولیس اہلکار یا تھانے دار آئے تو اس کے ساتھ ان ڈکیتوں سے کہیں زیادہ حال کردیں اس طرح ایک جانب جرائم پیشہ افراد کراچی سے بھاگ نکلیں گے اور ساتھ ہی تھانوں سے کالی بھیڑوں کا صفایہ بھی ممکن ھوسکے گا۔ اب دیکھنا یہ ھے کہ کراچی والے بزدلی کمزوری اور بے بسی کا مظاہرہ کرتے ھیں یا پھر زندہ، بہادر اور غیور قوم کی طرح جرائم کے خلاف متحد ھوکر مقابلہ کرتے ھیں۔ یاد رھے کہ دنیا بھر میں بلوا یعنی ہجوم کا کوئی کیس عمل میں نہیں آتا اور نہ ہی سزا کا مرتکب کیا جاتا ھے۔ جب ریاست اور حکومت جرائم اور جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں یرغمال بن جائے اور انکی خود پرورش کرے تو عوام کا متحد حملہ ہی ملک و قوم کو محفوظ بناسکتا ھے۔
