BBC Urdu TV

عنوان: ھماری بقاء ھماری شان صرف پاکستان

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: ھماری بقاء ھماری شان صرف پاکستان ۔۔۔!!

سب سے پہلے پاکستانی بن کر سوچیں آخر کیا ضرورت پڑ گئی کہ اچانک ہی اپوزیشن عدم اعتماد لانے پر زور دے رہی ہے۔ پاکستان اس وقت انٹرنیشنل سازشوں کا شکار ہوچکا ھے۔ تاریخ کی سب سے بڑی سازش یہ ھے کہ کسی بھی قیمت پہ عمران خان سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ ایبسیلیوٹلی ناٹ سے شروع ہونے والی کہانی یوکرائن روس تک پہنچی ھے۔ عمران خان کو دورہ روس سے روکنے کی بھرپور کوشش کی گئی لیکن جوبائیڈن ناکام رہا۔ چائنا روس سمیت نیا ورلڈ آرڈر تشکیل دیا جاچکا ھے اور ڈالر کے مقابلے میں لین دین کا نیا نظام متعارف کردیا گیا ھے اسی لئے روس پہ پابندیوں سے روس کو کوئی فرق نہیں پڑا۔ چائنہ کارڈز کے ذریعے پیمنٹس ہورھی ہیں جنہیں پوری کوشش کے باوجود کوئی روک نہیں پا رھا۔ عمران خان کو ہٹانے کی عالمی سازش کا مقصد صرف نئے بلاک کی تشکیل روکنا ھے۔ پاکستان کو امریکی تسلط میں رکھنا ھے کیونکہ پاکستان وہ خطہ ھے جو آدھی دنیا کی قسمت بدل سکتا ھے۔ نئے بلاک کی تشکیل اور نئی کرنسی سے ڈالر بے وقعت ہوجائیگا اور ہم نے قرضہ ڈالر میں واپس کرنا ھے۔ بے وقعت ڈالر سے قرضے کی واپسی امریکہ اور آئی ایف ایم کے گلے کا پھندا بن چکا ھے اس لئے کسی بھی قیمت پہ عمران خان کا ہٹایا جانا بہت ضروری ھے۔
لحاظہ خطرناک ترین سازش تیار کی گئی اور سازش کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے اربوں ڈالر پھینک دیئے گئے ہیں۔ پاکستان تو بکنے والوں کی منڈی ھے۔ یہاں کلرک سے اقتدار کی غلام گردشوں کے مالک تک سب بکنے کو تیار بیٹھے تھے۔ جن میں امریکی آشیرباد اور ان کے ڈالروں پر پلنے والی سیاسی پارٹیاں اور گروپ شامل ھیں۔ لندن میں پلان ہوا اور ٹاسک مولانا کو ملا۔ مولانا جو ہمیشہ امریکہ اور اسرائیل کے ٹکڑوں پہ پلتا ھے۔ کیا اسٹیبلشمنٹ خاموش ھے ایسا بلکل نہیں ھے کہ وہ گورنمنٹ کے ساتھ نہیں۔ وہ مکمل طور پہ ریاست پاکستان کے ساتھ کھڑی ھے وہ خاموش اس لئے ہیں کہ سیاسی مفاد پرست بھیڑیئے تو ایکسپوز ہوگئے لیکن وہ یہ بھی جاننا چاھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ میں سے کون کون اس سازش میں شریک ھے ؟؟
ایکسپوز ہوتے ہی صفایا کر دیا جائیگا۔ انشاءالله ۔۔۔ میاں نواز شریف, مریم صفدر, شہباز شریف, آصف علی زرداری, مولانا فضل الرحمن, چھوٹے موٹے گروپ سبھی ایکسپوز ہوچکے ہیں لیکن ابھی کچھ لوگ ایکسپوز ہونا باقی ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کو انہی کے ایکسپوز ہونے کا انتظار ھے۔ تبھی دھماکہ ہوگا شائد اسٹیبلشمنٹ کے کچھ سینئر لوگ راتوں رات گرفتار بھی کرلیئے جائیں۔ حالات دن بدن سنگین ہوتے جارھے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ ملک بچاؤ کی پالیسی پر مکمل طور پہ عمل درآمد پہ تیار نظر آتی ھے۔ بس بہت ہوگیا۔ چھانگا مانگا سے شروع ہونے والی کہانی ختم ہونے کو ھے۔ ہر بار یہ نہیں ہوسکتا کہ پارلیمنٹ کو یونین کونسل کی طرز پہ چلایا جائے۔ ہم انٹرنیشنل سازش کا شکار ہو چکے ہیں۔ اپوزیشن کے سبھی لیڈران بک چکے ہیں کیونکہ سب کی دولت انہی ملکوں میں ھے تو مجبوری بھی ھے لیکن عمران خان کے پاس ایسا کچھ نہیں کہ جس کے کھوجانے کا ڈر ہو۔ اسٹیبلشمنٹ کو ایسے ہی شخص کی تلاش تھی جو مل گیا۔ روس چائنہ بلاک پہ اسٹیبلشمنٹ اور ریاست کی تین سالہ محنت ھے تو یہ کیسے ممکن ھے کہ تین سالہ محنت پہ بکاؤ عناصر کے دباؤ پہ پل بھر میں پانی پھیر دیا جائے۔ یہ ملک کی بقاء کا مسئلہ ھے۔ ملکی معیشت کی بقاء کا مسئلہ ھے۔ قوم کے معاشی مستقبل کی بقاء کا مسئلہ ھے۔ ایسے حالات میں پرائم منسٹر کو ہٹانا کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔ عمران خان کہیں نہیں جارھے اور نہ ہی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہورھی ھے۔ بظاہر اپوزیشن بہت طاقتور نظر آرھی ھے لیکن یہ بات بھی ذہن میں رھے کہ فوج کا کام ملکی سرحدوں کی حفاظت کرنا نہیں بلکہ ملکی اندرونی حالات کی حفاظت کرنا بھی ھے۔ گزشتہ دونوں عمران باجوہ میٹنگ میں یہی طے ہوا ھے کہ آپریشن ردالفساد پہ عمل در آمد کا وقت آن پہنچا ھے۔ آپریشن ردالفساد کا منشور بھی یہی ھے کہ ملک کے اندرونی دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
تحریک کامیاب نہیں ہوگی لیکن پھر بھی اگر یہ نہیں رکتے تو پھر کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئیگا۔ سب خالی ہاتھ رہ جائیں گے۔ قوم تماشہ مت دیکھے۔ آنکھیں کھلی رکھے اور دیکھے کہ اس ملک کیساتھ کیا کھلواڑ کیا جارہا ھے۔ چند مدرسے چلانے والا ایک ملا جو پہ در پہ شکست کا شکار ھے وہ اچانک اتنا طاقتور کیسے ہو گیا کہ ایک نیوکلیئر پاور رکھنے والی ریاست کے پرائم منسٹر کو چند دنوں میں ہی گھر بھیج دے اور دنیا و بائیڈن کو اعلانیہ میسیج دے کہ ہماری مدد کرو بلکہ یہاں تک بھی کہہ دے کہ دنیا عمران خان کیساتھ معاہدے نہ کرے کیونکہ یہ اس ملک کا پرائم منسٹر نہیں ھے۔ مولانا کا یہ پیغام دنیا کیلئے نہیں تھا بلکہ روس اور چائنہ کیلئے تھا کہ کوئی معاہدہ نہ کیا جائے۔ملک کیساتھ اس سے بڑی غداری اور کیا ہوسکتی ھے؟
جو ارکان مخالف تحریک کا حصہ بنتے ہیں تو لکھ کے رکھ لیجیئے کیونکہ شائد یہ کوئی وقتی مفاد تو حاصل کرلیں لیکن سیاست میں ہمیشہ کیلئے انکا مستقبل تاریک ہوجائیگا۔ ان تمام چہروں میں سے ایک بھی چہرہ آپ کو سنہ دو ہزار تئیس کے الیکشن میں نظر نہیں آئیگا۔ سب کا پیسہ باہر ھے۔ حکم نہ ماننے کی صورت میں کنگال ہونے کا ڈر ھے۔ آخری بار اسمبلی میں پہنچے ہیں۔ ایم این ایز کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ کون ایسا جاہل ھے جو حکومت کے آخری سال میں اپنی سیٹ بھی چھوڑے اور آئندہ کیلئے نااہل بھی ہو۔ مصدقہ اطلاع ھے کہ فلور کراسنگ کے آئین کی پامالی کرنے والے کو چند ہی ہفتوں میں پارلیمنٹ سے نکال باہر کیا جائیگا موجودہ تماشے پہ اسٹیبلشمنٹ سمیت تمام ادارے شدید غصے میں ہیں کہ جب پاکستان خوفناک اندرونی و انٹرنیشنل سازشوں کا شکار ھے اور چند ملک دشمن عناصر ملک میں عجب تماشہ لگائے بیٹھے ہیں۔ اس بار کسی سے کوئی رعایت نہیں برتی جائیگی۔ کھلا پیغام ھے کہ *بس بہت ھوگئی۔* ملکی و غیر ملکی تمام تر سازشوں اندرونی ناکامی کی صورت میں امریکہ انڈیا کو بھی استعمال کرسکتا ھے۔ جنگ بھی چھیڑی جاسکتی ھے۔ اصل مسئلہ پاکستان کی سلامتی اور اس کا مستقبل ھے۔ اصل مسئلہ سی پیک گوادر ھے۔ آنکھیں کھلی رکھیئے اور ہر اس ملک دشمن عنصر کو پہچانیئے جو ملک کو نقصان پہنچا رھا ھے کہیں ایسا نہ ہو کہ سنہ انیس سو پینسٹھ کی طرح ہمارے بچے بھی ملک بچانے کیلئے سینے پہ بم باندھ کے ٹینکوں کے سامنے لیٹتے پھریں یہ کسی کو بچانے کا وقت نہیں۔ ملک بچانے کا وقت ھے۔ یاد رھے ان غداروں اور منافقی ٹولوں نے ہمیشہ وطن عزیز کو مشکل میں ڈالے رکھا ھے نام نہاد جمہوریت کے سائے میں ایک جانب مورٹی سیاست تو دوسری طرف لوٹ مار کرپشن اور بدعنوانی کے کلچر کو فروغ دیتے ہوئے وطن عزیز کی سالمیت اور معاشی و اقتصادی طور پر کمزور کرنے کے ہر حربے استعمال کیئے۔ خدا نہ خواستہ گر ملک میں جنگ چھڑتی ھے تو عوام اور افواج یہیں رہیں گی جبکہ یہ غدارِ وطن افغانستان میں نئی حکومت کے وقت جس طرح غدار امریکی جہازوں سے لپٹے ھوئے تھے۔ اب بھی وقت ہے اس قوم کے پاس کہ وہ فیصلہ کرلیں کہ ان سیاسی مافیاؤں کی غلامی کی زنجیروں میں جگڑے رہیں گے یا پھر ان سب سے حساب لیں گے۔ عوام کو ان کے پھیلائے ھوئے زہر سے نکلنا ہوگا جو ان سیاستدانوں نے کہیں عصبت لسانیت تعصب اقربہ پروری حق تلفی اور بے انصافی موذی اثرات سرائیت کردیئے ہیں ھم سب کو ایک قوم پاکستانی بننا ھوگا اور ایک سچا ایماندار مسلمان ۔۔ اب وقت آچکا ھے کہ اس فرسودہ ناکارہ کرپٹ نظام کا جنازہ نکالا جائے اور اسلامی نظام رائج کیا جائیگا کیونکہ پاکستان بنا ہی تھا لا الہ الله محمد الرسول الله کے نظریہ اور نام پر کیونکہ معروضِ پاکستان کے وقت لاکھوں مسلمانوں نے اسلامی ریاست پاکستان کیلئے جامِ شہادت نوش کی تھیں کیونکہ ہزاروں بہنوں بیٹیوں کی عصمتیں تار تار ہوئیں تھیں کیونکہ ہزاروں معصوم بچے بوڑھے اور جوان شہید ھوئے تھے یہ بے غیرت غداروں کی ناجائز اولادوں نے ھمارے پیارے ملک کو کیا حال کردیا ھے باری باری لینے والے مورثی سیاستدانوں نے عوام کا جینا محال کردیا یہ ملک متحمل ہی نہیں کہ اس ملک میں جمہوری نظام جاری رہے مزید یہ نظام رہا تو خدانخواستہ ملک ناتلافی نقصانات سے دوچار نہ ہوجائے بہتر یہی ھے کہ کینسر کو جڑ سے ختم کردیا جائے یقیناً پاکستان کے امین اب سنجیدگی سے عمل درآمد کریں گے اور بے رحم آپریشن سے چھوٹے بڑے تمام کینسر کو جڑ سے تمام کردیں گے تب ہی پاکستان خوشحال ترقی یافتہ اور پرامن ابھرے گا انشاءالله۔۔۔۔۔الله پاکستان کا حامی و ناظر رہے آمین یا رب العالمین۔

قائداعظم زندہ باد, پاکستان پائندہ باد۔۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

Exit mobile version