ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: کہاں ہے مہنگائی؟؟ وزیراعظم پاکستان عمران خان!!
مجھ سمیت ہزاروں صحافی اور میڈیا ملازمین کے علاوہ موجودہ حکومت پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین سابق کرکٹر عمران خان جب سے وزیراعظم بنے اس وقت سے روز بروز پاکستانیوں کے خطِ غربت بڑھتا چلا جارہا ھے اور بیروزگاری کا گراف بلند سطح کو چھو رہا ھے۔ ایک سفید پوش متواسط طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہے۔ متواسط طبقہ عزت نفس اور خودداری کے سبب ہر تکلیف مشکلات اذیت کو خاموشی کیساتھ سہہ رہا ھے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ان میں سادات و غیر سادات کیلئے ایسا طریقہ کار استعمال کرنا چاہئے جس سے مالی اعانت بھی ہوجائے اور بناء تشہیر عزتِ نفس بھی مجروح نہ ہو۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! جب سے تبدیلی آئی ہے ہے عمران خان وزیراعظم بنے ہیں مہنگائی بڑھتی جارہی ہے۔ عوام مہنگائی پر شور مچاتی ہے تو وزیراعظم کہتے ہیں میں نے مہنگائی کا نوٹس لے لیا ہے۔ تین سال میں ہر مہینے عمران خان نے مہنگائی پر ایک یا دو نوٹس لیئے اس طرح عمران خان نے ساڑھے تین سال میں اننچاس مرتبہ مہنگائی پر نوٹس لیا اور پچاسویں مرتبہ عمران خان نے عوام کو کھل کر بتا دیا کہ کہاں ہے مہنگائی۔ پاکستان اب بھی دنیا کا سستا ترین ملک ہے۔ وزیرِ ریلوے اعظم سواتی کہتے ہیں ریلوے منافع بخش ہوگیا ہے یاد رہے یہ وہی وزیر ریلوے ہیں جنہوں نے شیخ رشید کے بعد چارج سنبھالتے ہوئے کہا تھا ریلوے تباہ ہوچکا ہے۔وزیر ہوا بازی کہتے ہیں کہ پی آئی اے پہلی بار منافع دے رہا ہے۔ ملک میں افراتفری ہے مری میں سیاح جان سے گئے لیکن وزیر داخلہ کہتے ہیں پہلی بار اس طرح کا امن سکون ہے۔ وزیر اطلاعات کہتے ہیں کہ کہ ہم اپنا سیٹلائٹ خلاء میں بھیج رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہاں ہیں مہنگائی ؟؟؟ ہم بہت ترقی کر رہے ہیں پہلے بتایا تھا کہ لوگ پاکستان نوکریاں کرنے آئیں گے اب بتایا کہ لوگ گلگت میں بھی باہر سے نوکری کرنے آئیں گے۔ وزیر تجارت کہتے ہیں کہ عوام کو سچ بتائیں ملک کنگال ہوچکا ہے۔ چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو کہتے ہیں کہ عوام کو سچ بتائیں کہ ہم دیوالیہ ہوچکے ہیں۔ جھوٹے دعووں سے دکھائی گئی کاغذی ترقی ریت کے محل کی طرح مسمار ہورہی ہے۔ ثابت ہوگیا کہ جھوٹ سے آپ کچھ وقت کیلئے کچھ لوگوں کو دھوکا دے سکتے ہیں لیکن سب کو بیوقوف نہیں بناسکتے۔ ایک دوست واقعہ سنا رہا تھا کہ ان کے شہر عبدالحکیم میں کسی دور میں کراچی سے پشاور اور پشاور سے کراچی جانے والی چناب ایکسپریس کا آپس میں کراس پڑتا تھا اور دوپہر تین بجے کراچی جانے والی اور پشاور جانے والی چناب ایکسپریس ان کے اسٹیشن پر پہنچ جاتی تھیں۔ ایک پٹھان ان کے شہر میں کام کرتا تھا اس نے پشاور جانا تھا اور چناب ایکسپریس کا ٹکٹ لے لیا یا اور کسی کام سے بازار میں چلا گیا اور گاڑی کی آواز سنکر وہ بھاگتا ہوا اسٹیشن پر آیا اور کسی بندے سے پوچھا کہ چناب ایکسپریس ہے اس بندے نے کہا ہاں جی اور وہ بھاگ کر گاڑی میں سوار ہوگیا۔ پٹھان کے سامنے جو جناب ایکسپریس کھڑی تھی اس میں سوار ہوگیا حلانکہ پشاور جانے والی دوسری لائن پر کھڑی تھی۔
پٹھان چناب ایکسپریس میں سوار ہوگیا ادھر ادھر دیکھا سیٹ نہ ملی تو ایک خالی برتھ پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔
گاڑی عبدالحکیم اسٹیشن سے چل پڑی اور اپنی منزل مقصود کیطرف دوڑنا شروع کردیا یا لوگ آپس میں باتیں کرنا شروع ہوگئے کسی نے بتایا کہ میں ملتان جارہا ہوں کسی نے بتایا کہ میں بہاولپور جارہا ہوں کس نے بتایا احمد پور شرقیہ جارہا ہے کسی نے بتایا میں کراچی جارہا ہوں۔ پٹھان جو اوپر برتھ پر بیٹھا سب کچھ سن رہا تھا اچانک بولا ماڑا دیکھو سائنس کتنا ترقی کر گیا ہے نیچے والے کراچی جا رہے ہیں اوپر والے پشاور جا رہے ہیں۔ وزیراعظم اور چند وزراء کہہ رہے ہیں کہ ہر چیز منافع بخش ہے ملک ترقی کر رہا ہے تاریخ میں سب سے زیادہ برآمدات اکتیس ارب ڈالر، ترسیلات زر بتیس ارب ڈالر ایک سال میں تیرہ سو ارب ٹارگٹ سے اضافی ٹیکس اکٹھا کیا۔ وزیر خزانہ چند ارب ڈالر کیلئے آئی ایم ایف کی ہر شرط مان گئے۔
وزیر تجارت اور چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو کہتے ہیں ملک کنگال ہوگیا ہم دیوالیہ ہوچکے ہیں۔ وزیراعظم اور چند وزراء اوپر جارہے ہیں شاید نشے میں ہوں گے۔ وزیر خزانہ آئی ایم ایف کے در پر ہیں۔ وزیر تجارت کہتے ہیں ملک کنگال ہوگیا۔ چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو کہتے ہیں ملک دیوالیہ ہوگیا۔ تبدیلی سرکار کے دور میں سائنسی ترقی اوپر والے کراچی جارہے ہیں نیچے والے پشاور ۔۔۔ معزز قارئین!! وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ مہنگائی سے لوگ پریشان یہ عالمی مسئلہ، حکومت کیا کرے، پاکستان اب بھی خطے کا سستا ملک ہے۔ بائیس سال سے عمران خان حکومتوں پر تنقید کرتے آرہے ہیں اور مشورہ دیتے ہیں کہ ایسا کرنا چاہئے تھا ایسا کرتے تو بہتر ہو جانا تھا ایسا کرنے سے ملک ترقی کرتا ہے ٹھیک ہے مان لیا۔ پچھلے چار سال سے عمران خان وزیراعظم ہے اب بھی وہی باتیں ایسا کرنا چاہیے ایسا کرنا چاہئے۔ عمران خان آپ وزیراعظم ہیں آپ نے کام کرکے دکھنا ہے لیکن چار سال بعد بھی عمران خان کی وہی باتیں وہی رٹی رٹائی کہانیاں کبھی کہتے ہیں مہنگائی مافیا کی وجہ سے ہے ۔ کبھی کہتے ہیں مہنگائی عالمی مسئلہ ہے۔ برف باری موسم کی وجہ سے ہوئی سیاح برف باری کی وجہ سے جاں بحق ہوئے گندم کی فصل بارشوں کی وجہ سے نہیں ہوئی بارشیں اور برفباری نیک حکمرانوں کی وجہ سے ہوتے ہیں پاکستان غریبوں کا سمندر ہے عمران خان صاحب آپ نے بڑے ہی سہانے خواب دیکھائے تھے۔ اب آپ پچھلے چار سال سے وزیراعظم ہیں تو ہر چیز کا الزام دوسروں پر لگا دیتے ہیں اگر آپ کام نہیں کرسکتے تو آپ کس مرض کی دوا ہیں؟؟؟ عمران خان صاحب آپ اس وقت دوا نہیں بلکہ پاکستانی عوام کے لئے وباء بن چکے ہیں کبھی مہنگائی کی وباء!! کبھی بے روزگاری کی وباء!! کبھی لاقانونیت کی وباء!! اب اس عمرانی وباء!! سے اللہ ہی پاکستانی عوام کی جان چھڑا دے تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکے۔۔۔آمین ثما آمین!!
کالمکار: جاوید صدیقی
