BBC Urdu TV

عنوان: کراچی صرف تیس سال کی دوری پر۔۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: کراچی صرف تیس سال کی دوری پر۔۔۔۔!!

میرے قارئین ٹیلیویژن’ اخبارات اور شوشل میڈیا میں سندھ بلخصوص کراچی کے حوالے سے شدید پریشان اور مایوسی کا شکار ہیں۔ اٹھارہ ویں ترمیم کے بعد صوبہ سندھ کو باپ کی جاگیر سمجھنے والوں نے قانون کو پاؤں تلے رکھا ھوا ھے۔ تھانوں کے ایس ایچ او سے لیکر آئی جی سندھ تک تمام مغلوب اور غلام بنے بیٹھے ہیں۔ سندھ بلخصوص کراچی میں ڈاکو راج قائم ھے اندھیر نگیری چوپٹ راج کا قانون نافذ ھے۔ ہر وہ شہری جو ایمانداری نیک نیتی خلوص سچائی کیساتھ اپنے منصب کی ادائیگی کرنے کی قائم ھوتا ھے اس کیلئے مشکلات کے پہاڑ کھڑے کردیئے جاتے ہیں میں چند ایک ایس پی ,ایس ایس پی, ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو بخوبی جانتا ھوں جو انتہائی ایماندار سچے نیک مخلص دیانتدار ہیں انہیں اپنے فرائض منصبی کو احسن انداز میں ادا کرنے پر کن کن رکاوٹوں مشکلات سے دوچار ھونا پڑتا ھے بیشک الله نیکوکاروں کیساتھ ھے۔ دوسرا یہ کہ ھمارا الیکٹرونک میڈیا کے مالکان کی پالیسی نہ صرف ملک و قوم کیلئے تکلیف کا باعث بنی ھوئی ھے بلکہ ان کے ظالمانہ رویئے سے بیشتر صحافی حضرات اور میڈیا پرسن کی زندگیاں اذیت کا شکار ھوئی ہیں بے لگام گھوڑے کی طرح پاکستان کے میڈیا مالکان ھیں اور یہ خود کو سب سے زیادہ طاقتور سمجھتے ھوئے جسکی ہرزہ سرائی کرنا چاھے کردیتے ہیں اور بیشتر تو اداروں کیساتھ منافقت کرکے اپنے منافع کو بڑھانے کیلئے ھر قدم اٹھالیتے ہیں یہ الگ موضوع ھے میں بات کررہا تھا کہ صوبہ سندھ کو دو ہزار تئیس تک پورا موقع دیا جارہا ھے کہ یہ اپنا قبلہ درست کرلیں بصورت پاکستان اور بلخصوص سندھ کی بقا و سلامتی اور ترقی و خوشحالی پر بڑے لوگ انتہائی سنجیدہ قدم اٹھالیں گے۔ سندھ بلخصوص کراچی کے حوالے سے اسلام أباد کے سید فیاض شاہ مشوانی ایڈیٹر روزنامہ عالم اسلام سے معلوم کیا تو انھوں نے بتاتے ھوئے کہا کہ کراچی شہر کو وفاق کے زیر انتظام فیڈرل ٹریٹی اور حیدرآباد کو صوبہ سندھ کا دارالخلافہ بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا ھے اور کراچی ویژن کے تحت سنہ دو ہزار پچاس تیار کرلیا گیا ھے، سنہ دو ہزار بیس سے سنہ دو ہزار پچاس تک کراچی ماسٹر پلان کی تیاری شروع کردی ھیں۔ پلان کیمطابق کراچی کو مستقل طور پر وفاق کے زیرِ کنٹرول رکھا جائیگا اور فاٹا کی سینٹ نشستیں ختم کرکے کراچی کو الاٹ کی جائے گی۔ وفاقی حکومت پہلے مرحلے میں سندھ میں گورنر راج نافذ کرکے صوبائی حکومت کو بر طرف کرکے پولیس میں آئی جی سندھ سے لے کر ایس ایس پی اور کراچی کے تمام پولیس اسٹیشن کے عملے کو تبدیل کیا جائیگا۔جس کے بعد صدارتی آرڈیننس جاری کرکے کراچی کو وفاقی علاقہ ڈکلیئر کرکے چیف ایڈمنسٹریٹر تعینات کیا جائیگا۔ سندھ اور کراچی میں امن و امان برقراررکھنے کیلئے چھ مہینوں تک دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کرکے ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے فوج کو تیار رکھا جائیگا۔ گورنر راج سے پہلے رینجرز اور ایف سی کے اضافی دستے کراچی اور سندھ بھیجے جائیں گے۔ریلی نکالنے ہڑتال کرنے اور امن و امان خراب کرنے والے ملک دشمن قوم پرست اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریاں ہوں گی۔ قوم پرست رہنماؤں اور سرگرم قوم پرست کارکنوں کی لسٹیں تیار کرلی گئی ہیں۔ اداروں کیجانب سے رپورٹ میں ظاہر کیا گیا ہے کہ قوم پرست بڑے پیمانے پر غیر سندھیوں پر حملہ آور ہوسکتے ہیں اس لئے انکے اوپر سخت نظر رکھی جائیگی۔ حکومت وفاقی بلدیاتی ایک نافذ کریگی کراچی میں ضلع ختم کرکے چالیس ٹاؤن اور تین سو بیس یونین کمیٹیاں بنائے جائیں گے۔ ہر سال وفاقی پول سے کراچی بلدیاتی حکومت کو پچاس ارب روپے دیئے جائیں گے۔ تعلیم، صحت، پولیس، لینڈ اینڈ یوٹیلائزیشن، کسٹم۔ ٹیکس اینڈ روینیو، ساحلی کوسٹل ایریاز، معدنیات، کے ڈی اے، فشریز، انڈسٹریل ایریازوفاق کے کنٹرول میں رہیں گے۔اسکے علاوہ پانی، سیوریج، ٹریفک، ٹرانسپورٹ، پارک اینڈ گراؤنڈ، مارکیٹ بازار پارکنگ، سیاحت، سبزی منڈی، برساتی نالے، سولڈ ویسٹ مینجمنٹ، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، بلدیاتی حکومت میئر کراچی کے اختیارات اور کنٹرول میں دیے جائیں گے۔ کراچی وفاق کے کنٹرول میں آنے کےبعد وفاقی حکومت کو چار سو باہترارب روپے اضافی آمدنی ہوگی ملک معاشی لحاظ سے مستحکم ہوگا۔اربن اور رورل کوٹہ سسٹم ختم کرکے موجودہ وفاقی کوٹہ سسٹم لاگو کیا جائیگا، کراچی میں رورل کوٹہ سے نوکری حاصل کرنے والے ایک لاکھ ملازمین کو سندھ واپس بھیجا جائے گا۔ جس کے بعد کراچی سمیت ملک بھر کے نوجوانوں کو وفاقی کوٹہ پر روزگار کے نئے مواقع ملے گی۔ کراچی کی حدود میں تحصیل میرپور ساکرو، کیٹی بندر، گڈانی، حب، مکمل شامل کر لیئے جائیں گے۔ تھانہ بولا خان ، ٹھٹہ تحصیل کا بڑا علاقہ بھی کراچی میں شامل کرکے گجو اور نوری آباد تک کا اضافہ کیا جائے گا۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر وہاں دو نئے شہر بسائے جائیں گے۔ حب، دھابیجی اور نوری آباد میں ملک کے سب سے بڑے تین انڈسٹریل زون اور میرپور ساکرو میں پورٹ کا قیام عمل میں لایا جائیگا جس سے سنہ دو ہزار تیس تک دس لاکھ افراد کو روزگار ملےگا. حب اور کڈانی تحصیلوں کو کراچی میں شامل کرنے کے بدلے بلوچستان حکومت کو دس ارب دیئے جائیں گے۔ جہاں بارہ لاکھ پلاٹوں پر مشتمل پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کا سنگ بنیاد رکھا جائیگا جس میں دو لاکھ پلاٹ بلوچستان کیلئے رکھے جائیں گے, گڈانی بیچ کو انٹرنیشنل اسٹائل میں تبدیل کرنے کیلئے کمپنیوں سے دو مہینے پہلے ہی وفاقی حکومت رابطہ کرچکی ہے۔ کراچی ایم نائین موٹروے پر ملک کا سب سے بڑا انٹرنیشنل ائرپورٹ تعمیر ہوگا جب کہ وفاقی حکومت پہلے ہی سمندر کے نزدیک بیراج بنانے کا اعلان کرچکی ہے جہاں سے کراچی کو پانی دیا جائے گا۔ جب کہ موٹروے پر بننے والی نئی آبادیوں کیلئے کی کینجھر جھیل سے پانی کی لائن بچھائی جائے گی۔ اس کے علاوہ کراچی کے دو جزیروں پر عالمی کمپنیوں کے ساتھ مل کر ہانگ کانگ طرز کا جدید انٹرنیشنل شہر آباد کیا جائیگا جس سلسلے میں کمپنیوں سے پچاس ارب ڈالر کی ڈیل آخری مراحل میں ہے۔ لاہور اور فیصل آباد کے تین سو پچیس سے زائد انڈسٹریل سرمایہ دار دابھیجی’ نوری آباد اور حب انڈسٹریل زون میں پانچ سو نئے کارخانے لگائے گی جب کہ انٹرنیشنل ملٹی نیشنل کمپنیاں اور دیگر ادارے تقریبا چھپن ارب ڈالر انویسٹ انڈسٹریل زون میں کرینگی۔ موٹروے ایجوکیشن سٹی میں نئی یونیورسٹیاں بنائی جائے گی۔۔۔۔معزز قارئین!! میرے صحافی دوستوں اور دیگر حلقہ احباب نے سندھ کے جیالے وزراء و مشیران اور لوکل باڈیز کے افسران کے گھروں سے برآمد کھربوں نہیں بلکہ نربوں مالیت کی رقوم اوردیگر اثاثو ں کی طرف توجہ دلاتے ھوئے کہا کہ پی پی پی کے روحِ رواں باپ بیٹا آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو بھانپ چکے تھے کہ پی پی پی قومی دھارے سے نکل کر صرف ایک صوبے بلکہ ایک لسانی جماعت بن کر رہ گئی ھے بیساکیوں پر چلنے والی یہ سیاسی جماعت مستقبل قریب میں دم توڑ دیگی اسی خدشہ کے پیش نظر آصف زرداری نے اپنے دور اقتدار میں آئین میں ترمیم کی درحقیقت یہ ترمیم ہی جیالے نمائندگان کیلئے کچھ وقت کیلئے وینٹی لیٹر کا سبب بنی رہے گی لیکن جلد ہی اس کی گیس کا اختتام بھی ھوجائے گا۔ لاہور کے ایک دوست نے بتایا کہ ہمارے صوبے کے سابقہ حکومت کے حالات بھی کچھ الگ نہی ممکن ھے سندھ حکومت کی طرح انکی سیاست کا جنازہ نکل جائے۔ معزز قارئین!! اسلام آباد کے دوست نے بتایا کہ پاکستان کو نہ ڈوبنے دیں گے اور نہ ہی بکھرنے دیں گے کیونکہ پاکستان الله کا انعام ھے جو تاقیامت انشاءالله قائم رھے گا جیسے پاکستان مخالف الطاف حسین کا وجود ختم ھوگیا مگر سچے مخلص مہاجروں کو موقع ملا ھے اسی قدر اب سچے مخلص ایماندار سندھیوں کو بھی موقع ملے گا مورثی کا منہ کچل دیا جائیگا اور ایک دوسرے کے حقوق کا احترام لازم ھوگا انشاءالله وہ کہنے لگے جاوید صدیقی صاحب آپ قائداعظم محمد علی جناح اور قائد ملت نواب لیاقت علی خان شہید کا جلد پاکستان دیکھیں گے الله ہمیں اتنی زندگی عطا فرمائے آمین۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

Exit mobile version