*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان : کراچی بھی ریاست پاکستان کا حصہ ھے*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
جس ریاست میں اہلیت، قابلیت، ذہانت، ذہنی کیفیت اور جسمانی صورتحال کو مدنظر نہیں رکھا جاتا وہاں بدترین مافیاء کی افزائش ہوتی رہتی ھے۔ یہ افزائش ہر طبقہ، ہر شعبہ، ہر محکمہ، ہر ادارے اور ہر وزارت تک پھیل جاتی ھے پھر کیا ہوتا ھے طاقتور، بدمعاش، غنڈے، لوفر، لفنگے اور بدکردار معاشرے میں بے امنی اور دہشتگردی پھیلاتے ذرا بھی خوف نہیں کرتے کیونکہ انکے تابع تانے عدالتیں اور حکومت کے اہم منصب پر فائز شخصیات بھی ہوتی ھیں دوسرے الفاظ میں حکومت میں بیٹھے چند شخصیات انہیں پالتی بھی ہیں اور سپورٹ بھی کرتی ھیں اس کا پھر نتیجہ ریاست کیلئے بھیانک خطرناک ثابت ہوتا ھے اور عوامی رد عمل کی صورت میں بھی آتا ھے جو ریاست میں انکارکی کا باعث بنتا ھے۔ بااختیار اور ذمہدارا منصب پر فائز ہرگز یہ نہ بھولیں کہ سب سے بڑی طاقت اور اختیار صرف اور صرف اللہ واحد لاشریک کی ھے۔ جب وہ پکڑنے پر آجائے تو ہستی کی ہستیاں زمین بوس ہوجاتی ہیں اور پھر عذابِ الہیٰ سے انہیں کوئی نہیں بچاسکتا ۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! کبھی سوچا کہ فیول ٹرک تو کراچی سمیت ملک بھر کی سڑکوں پر دن اور رات دونوں میں چلتے ہیں۔ اگر کراچی سمیت ملک بھر میں بائیک خراب چلاتے ہیں یا "مائنڈ سیٹ” کا مسلہ ہے تو ان فیول ٹینکر سے کوئی حادثہ کیوں نہیں ہوتا؟ اللّه کرے کبھی ہو بھی نہ۔ وجہ یہ ہے کہ پی ایس او تو گورنمنٹ ہوگئی اور باقی پرائیویٹ کمپنیاں کسی ڈرائیور کو نوکری پر رکھنے سے پہلے اس کی تعلیم، تھانوں سے کریکٹر سرٹیفکیٹ، میڈیکل ٹیسٹ وغیرہ میں کلئیر ہونے کے بعد پھر خود اپنے ٹینکر مکمل عوامی سیفٹی کے بعد ڈرائیور کے حوالے کرتی ہیں۔ جس سے کوئی حادثہ نہیں ہوتا۔ نہ کبھی کسی نے انکے خلاف احتجاج کیا۔ نہ دن میں آنے یا نہ آنے کا مسلہ بنا۔ کسی کو فرق نہیں پڑتا اندر بیٹھا ڈرائیور کس قوم کا ہے۔ برسوں سے پاک آرمی کے ماتحت دیوہیکل ٹریلر این ایل سی پاکستان بھر کی شاہراہوں میں چلتے پھرتے چلے آرھے ہیں آج تک کوئی ایک بلی کتا تک ان سے نہیں مرا یعنی انکے دیوہیکل ٹرالروں کے نیچے نہیں آیا کیونکہ انکے ڈرائیور نشہ کرکے ڈرائیونگ نہیں کرتے مکمل پروفیشنل ہوتے ہیں۔ بار بار ٹریننگ و تربیت کے حامل ہوتے ہیں لیکن ڈمپر مافیا کا ہر ڈرائیور چرسی، موالی، نشئی، شرابی، غیر پڑھا لکھا، غیر تربیت یافتہ ہوتا ہے۔ جب نشے میں گاڑی چلائے گا تو لوگوں کو کچلتا پھرے گا۔ اب مسلہ یہ ہے کہ پاکستان میں عالمی اسٹیبلشمنٹ انویسٹمنٹ کرنے جارہی ہے۔ پاکستان کا مرکزی شہر کراچی ہے تو بجائے عالمی اسٹیبلشمنٹ کراچی پر ہاتھ رکھے بہتر ہے یہاں کے لوگوں کو کچل کر مار دو یا حکومتی سطح پر اتنا تنگ کردو کہ وہ خود چھوڑ کر چلے جائیں۔ بس اسی لئے ہر ادارہ آپکے خلاف نظر آرہا ہے اور جو انکے امور کی سرپرستی اور سہولتکاری کرتا نظر آئے سمجھ جائیں کہ وہ نہ ملک کا نہ ریاست کا اور نہ ہی پاکستانی عوام کا مخلص ھے وہ مافیاء کیساتھ مل کر آئین و قانون کا مجرم بن رھا ھے۔ وہ غداران وطن کا ساتھی ہونے کا بھرپور ساتھ دے رھا ھے چاہے اس میں تھانے شامل ہوں چاہے اس میں پولیس چیف چاہے اس میں منصفین یعنی ججز چاہے اس میں سیاستدان اور چاہے اس میں وزرا و سیکریٹریز ہی کیوں نہ ہوں یہ سب کے سب ملک و قوم اور آئین کے مجرم ٹھہریں گے۔ خدارا وہ تمام بااختیار اور ذمہداران ایکبار محاسبہ خود کا کریں کہ جو انجانے جانے میں ان ماگیاء کے ساتھ کھڑے ہیں کہ وہ کیا کررھے ہیں کیا آئین و قرآن کے منافع عمل کا سہارا تو نہیں بن رھے۔ سندھ حکومت اور بلخصوص سندھ میں موجود سیاسی جماعتیں کراچی کیساتھ سوتلانہ سلوک برتنا بند کریں کیونکہ کراچی بھی ریاست پاکستان کا حصہ ھے اگر یہی سلسلہ جاری رھا تو پھر یقیناً رب کے فیصلے سخت صادر ہوسکتے ہیں کیونکہ رب کیلئے نظامِ ریاست کے امور چلانے کیلئے کوئی معزوری نہیں وہ جب چاہے جس وقت چاہے پل بھر میں تبدیل کرسکتا ھے ڈریں اس وقت سے ہر مافیاء کہ جب پکڑ سامنے آجائے ۔۔۔۔۔۔!!
