BBC Urdu TV

عنوان: کاکو شاہ ککّے زئی

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: کاکو شاہ ککّے زئی ۔۔۔!!

میرا اکثر و بیشتر لائبریری جانا ھوتا ھے حالیہ دنوں میری ایک ریک پر نظر پڑی تو اچھی خاصی دھول میں لپٹی کتابیں بے ترتیب سے پڑیں تھیں انہی کتابوں میں ایک کتاب اٹھائی دھول صاف کیا اور پڑھنا شروع کیا کتاب میں لکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔
سنہ انیس سو عیسوی کا ذکر ہے۔ ہندوستان پربرطانوی سامراج کی دوسری صدی چل رہی تھی۔ ہندوستان کا وائسرائے مشہور ذہین اور شاطر دماغ یہودی *”لارڈ کرزن”* تھا۔ اسکو مسلمانوں سے خدا واسطے کا بیر اور صہیونی مقاصد کی تکمیل کا شیطانی شغف تھا۔ انگریز نے برصغیر کی زمین پاؤں تلے سے کھسکتے دیکھ لی تھی۔ ہندوستانی سونے کی چڑیا کے پر وہ نوچ چکا تھا۔ اب مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی دریافت اور ارض اسلام کو اپنےگماشتوں میں تقسیم کرنے کا مرحلہ درپیش تھا۔ لارڈ کرزن کو انگریز سرکار کی جانب سے حکم ملا تھا کہ وہ خلیج عرب کے ساحلی علاقوں میں مقیم عرب سرداروں سے ملاقات کرے اور مطلب کے لوگوں کی فہرست بنائے۔ خلیج عرب کے ساحلی علاقوں سے مراد کویت، سعودی عرب کا تیل سے لبالب مشرقی حصہ جو اس وقت آل سعود کے زیرنگیں تھا، نیز بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات میں شامل سات مختلف ریاستیں اورعمان ہے برطانیہ کے وزیراعظم ونسٹن چرچل اور امریکی صدر فرینکلن روز ویلٹ ریت پر لکیریں کھینچ کر *”جتنا کم اتنا لذیذ”* کے اُصول پر عمل کرتےہوئے جس طرح کیک کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرتے ہیں اسی طرح *”جتنا مالدار اتنا چھوٹا”* کے اصول پر عرب ریاستیں اپنے دوست عرب سرداروں میں تقسیم کرچکے تھے۔ اب اس تقسیم کو عملی جامہ پہنانے کیلئے فیلڈ ورک کی ضرورت تھی اور لارڈ کرزن اپنے مخصوص یہودی پس منظر کے سبب یہ کام بخوبی کرسکتا تھا۔ لارڈ کرزن خلیج عرب کے خفیہ دورے پر فوری روانہ ہونا چاہتا تھا اور اسے کسی معتمد اور رازدار عربی ترجمان کی ضرورت تھی۔ برصغیر میں عربی اس وقت دو جگہ تھی یا تو دارالعلوم دیوبند اور اس سے ملحقہ دینی مدارس یا پھر علیگڑھ کا شعبہ عربی۔ اول الذکر سے تو ظاہر ہے کوئی ایسا ٹاؤٹ ملنا دشوار تھا۔ لارڈ کرزن کی نظر انتخاب اسی طرح کی مشکلات کے حل کیلئے قائم کئے گئے ادارہ علیگڑھ پر پڑی وہاں ایک مانگو تو چار ملتے تھے۔ مسئلہ چونکہ وائسرائے ہند کے ساتھ خفیہ ترین دورے پر جانے کا تھا جس کے مقاصد اورکارروائی کو انتہائی خفیہ قرار دیا گیا تھا اس لئےکسی معتمد ترین شخص کی ضرورت تھی جو عقل کا کورا اور ضمیر کا مارا ہوا ہو۔ سفارشوں پر سفارشیں اور عرضیوں پر عرضیاں چل رہی تھیں کہ خفیہ ہاتھ نے کارروائی دکھائی اور علی گڑھ کے سر پرست اعلیٰ کیجانب سےایک نوجوان فاضل کا انتخاب کرلیا گیا۔ لارڈ کرزن کو انکی عربی دانی سے زیادہ سرکار سے وفاداری کی غیرمشروط یقین دہانی کرادی گئی اور یوں یہ عجمی عربی دان مسلمان ہوکر بھی اس تاریخی سفر پر انگریز وائسرائے کا خادم اور ترجمان بننے پر راضی ہوگیا جس کے نتیجے میں آج خلیجی ریاستوں میں استعمار کے مفادات کے محافظ حکمران کلا گاڑے بیٹھے ہیں اور امریکی و برطانوی افواج کو تحفظ اور خدمات فراہم کررہے ہیں۔ یہ نوجوان فاضل *حمید الدین فراہی* تھے۔ جو اُترپردیش کے ضلع اعظم گڑھ میں ایک گاؤں *”فراہا”* میں پیدا ہوئے۔ آپ مشہور مؤرخ علامہ شبلی نعمانی کے کزن تھے۔ علی گڑھ یونیورسٹی میں تعلیم پائی اور ایم اے او کالج میں عربی پڑھاتے رہے۔ لارڈ کرزن کی ہم راہی کے لئے ان کے انتخاب میں علی گڑھ میں موجود ایک جرمنی پروفیسر *”جوزف ہوروز”* کی سفارش کا بڑا دخل تھا جو یہودی النسل تھا اور آپ پر اس کی خاص نظر تھی۔ آپ نے اس سے عبرانی زبان سیکھی تھی تاکہ تورات کا مطالعہ اسکی اصل زبان میں کرسکیں۔ لارڈ کرزن فراہی کی صلاحیت اور کارکردگی سے بہت خوش تھے چنانچہ واپسی پر انہیں انگریزوں کی منظورِ نظر ریاست حیدرآباد میں سب سے بڑے سرکاری مدرسہ میں اعلیٰ مشاہرے پر رکھ لیا گیا اور آپنے وہاں سے اس کام کا آغاز کیا جو قسمت کا مارا یہودیوں کا پروردہ ہر وہ شخص کرتا ہے جسے عربی آتی ہو۔ آپ نے اپنے آپ کو قرآن کریم کی *”مخصوص انداز”* میں خدمت کیلئے وقف کرلیا۔ مخصوص انداز سے مراد یہ ہے کہ تمام مفسرین سے ہٹ کر نئی راہ اختیار کی کہ قرآن کریم کو محض لغت کی مدد سے سمجھا جائے۔ یہ لغت پرست مفسرین دراصل اس راستے سے قرآنی آیات کو وہ معنی پہنانا چاہتے تھے جس کی ان کو ضرورت محسوس ہو اگرچہ دوسری آیات یا احادیث، مفسرین صحابہ و تابعین کے اقوال اس کی قطعی نفی کرتے ہوں۔ درحقیقت قرآن سے ان حضرات کا تعلق، انکارِحدیث پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہوتا ہے جیسا کہ تمام منکرین حدیث کا خاصہ ہے کہ وہ اپنے اس عیب کو چھپانے کیلئے قرآن کریم سے بڑھ چڑھ کر تعلق اور شغف کا اظہار کسی نہ کسی بہانے کرتے رہتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ وہی حیدر آباد ہے جہاں شاعرِ مشرق حضرت علامہ اقبال جیسے فاضل شخص کو محض اس لئے ملازمت نہ مل سکی کہ وہ مغرب دشمن شاعری کے مرتکب تھے لیکن فراہی پر لارڈ کرزن کا دست کرم تھا کہ حیدر آباد کی آغوش ان کیلئے خود بخود ہوگئی اور انہیں ایک بڑے *”علمی منصوبے”* کیلئے منتخب کر لیا گیا۔ اس منصوبے نے جو برگ و بار لائے انہیں مسلمانانِ برصغیر بالخصوص آج کےدور کے اہلیانِ پاکستان خوب خوب بھگت رہے ہیں۔ فراہی نے *”تفسیر نظام القرآن”* لکھی جس کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ کتب خانوں میں تلاش کرنے سے بھی مل کے نہیں دیتی۔ علامہ شبلی نعمانی، فراہی کے بارے میں اس وقت شدید تحفظات کا شکار ہوگئے تھے جب ان کی بعض غیر مطبوعہ تحریر *”دارالمصنفین”* میں شائع ہونے کیلئے آئیں لیکن ان کی طباعت سے انکار کردیا گیا کہ زبردست فتنہ پھیلنے کا خطرہ تھا۔ فراہی اپنے پیچھے چند شاگرد، چند کتابیں اور بے شمار شکوک و شبہات چھوڑ کر سنہ انیس سو تیس میں دنیا سے رُخصت ہوگئے۔ فراہی نے حیدرآباد سے منتقل ہونے کے بعد اعظم گڑھ کے ایک قصبے *”سرائے میر”* میں *”مدرسۃ الاصلاح”* نامی ادارہ قائم کیا۔ نام سے ہی معلوم ہوتا تھا کہ وہ تفسیر کے مسلّمہ اُصولوں کی اصلاح کرکے نئی جہتیں پیدا کرنا چاہتے تھے۔ آپ کے اس مدرسے میں سنہ انیس سو بائیس میں ایک نوجوان فارغ ہوا جو اساتذہ کا منظورِ نظر اور چہیتا تھا۔ فراہی نے اسے دعوت دی کہ وہ ان کے ساتھ مل کر *”قرآن کریم کا مطالعہ”* کرے۔ یہ نوجوان آگے چل کر فراہی کا ممتاز ترین شاگرد اور انکے نظریات و افکار کی اشاعت کا سب سے بڑا ذریعہ بنا۔ یہ جب مدرسۃ الاصلاح میں داخل ہوا تو امین احسن تھا، فارغ ہوا تو *”امین احسن اصلاحی”* بن چکا تھا۔ اس نے فراہی کی وفات کے بعد آپ کی یاد میں رسالہ *”الاصلاح”* جاری اور *”دائرہ حمیدیہ”* قائم کیا۔ اصلاحی انکارِ حدیث اور اجماعِ امت کا منکر ہونے کے علی الرغم جماعت اسلامی کے بانیوں میں سے تھے۔ قیام کے دوران مجلس شوریٰ کے رکن رہے۔ سنہ انیس سو اٹھاون عیسوی میں مودودی سے اختلافات کی بنا پر جماعت سے علیٰحدہ ہوئے اور وہی کام شروع کیا جو ان کے استاد نے آخری عمر میں کیا تھا۔ آپ نے *”حلقہء تدبر قرآن”* قائم کیا جس میں کالج کے طلبہ کو قرآن کریم اور عربی پڑھائی جاتی تھی۔ ساتھ ساتھ *”تدبر قرآن”* کے نام سے تفسیر لکھنے میں بھی کامیابی حاصل کی لیکن اسے مقبول کروانے میں بری طرح ناکام ہوئے۔ فراہی بہرحال عالم فاضل شخص تھے لیکن اصلاحی اس پائے کے عالم نہ تھے۔ مغربی علوم تو کیا وہ شرعی علوم سے بھی کماحقہ، واقف نہ تھے۔ انکی تفسیر میں کئی بچگانہ غلطیاں ہیں ۔ اصلاحی ہفتہ وار درس بھی دیتے تھے لیکن انکارِ حدیث، تجدد پسندی اور لغت پرستی نے انہیں اپنے پیش رو استاد کی طرح کہیں کا بھی نہ چھوڑا تھا۔ آخر خالد سعود اور جاوید غامدی جیسے شاگرد تیار کرکے سنہ انیس سو ستانوے عیسوی میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے۔ *”محمد شفیق المعروف جاوید احمد غامدی”* قیام پاکستان کے ابتدائی دور میں پاکپتن کے گاؤں میں ایک پیر پرست اور مزار گرویدہ قسم کا شخص رہتا تھا۔ مزاروں والا خصوصی لباس، گلے میں مالائیں ڈالنا، ہاتھ میں کئی انگوٹھیاں پہننا اور لمبی لمبی زلفیں بغیر دھوئے تیل لگائے رکھنا اس کی پہچان تھی۔ اٹھارہ اپریل سنہ انیس سو اکیاون عیسوی کو اس کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا۔ نام تو اس کا محمد شفیق تھا لیکن باپ کے مخصوص مزاج کی وجہ سے اس کا عرف *کاکو شاہ* پڑگیا۔ یہ خاندان *ککّے زئی* کہلاتا تھا۔ اس طرح اس کا پورا عرفی نام *”کاکو شاہ ککّے زئی”* بنا۔ محمد شفیق عرف کاکو شاہ ککّے زئی جب گاؤں کی تعلیم کے بعد لاہور آیا تو اسے اپ ٹوڈیٹ قسم کا نام رکھنے کی فکر لاحق ہوئی۔ اس نام کے ساتھ تو وہ *”لہوریوں”* کا سامنا نہ کرسکتا تھا۔ سوچ سوچ کر اسے *”جاوید احمد”* نام اچھا معلوم ہوا کہ ماڈرن بھی تھا اور رعب دار بھی۔ اس نے *محمد شفیق* سے تو جان چھڑالی اب *”کاکو شاہ ککے زئی”* کے لاحقے کا مسئلہ تھا جو کافی سنگین اور مضحکہ خیز تھا لیکن فی الحال اسے اس کی خاص فکر نہ تھی۔ اس زمانے میں اس کا ایک قریبی دوست ہوتا تھا۔ *”رفیق احمد چوہدری”*۔ وہ ان دنوں اور اس روئیداد کے عینی گواہ ہیں۔ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد سنہ انیس سو باہتر عیسوی کا دور تھا۔کاکو شاہ لاہور گورنمنٹ کالج سے بی اے آنرز کرنے کے بعد معاشرے میں مقام بنانے کی جدوجہد کررہا تھا۔ اس کی انگریزی تو یوں ہی سی تھی لیکن قدرت نے اسے ایک صلاحیت سے خوب نوازا تھا وہ تھی طاقت لسانی۔ اس کے بل بوتے پر وہ تعلقات بنانے اور آگے بڑھنے کی سعی میں مصروف تھا۔ آخر کار اس کی جدوجہد رنگ لائی اور وہ اپنی چرب زبانی سے پنجاب کے ایڈمنسٹریٹر اوقاف مختار گوندل کو متاثر کرکے اوقاف کے خرچ پر 29 جے ماڈل ٹاؤن لاہور میں *”دائرۃ الفکر”* کے نام سے ایک تربیتی اور تحقیقی ادارہ کی داغ بیل ڈالنے میں کامیاب ہوگیا۔ پھر جلد ہی قدرت نے اسے مولانامودودی مرحوم کے سایہ عاطفت میں ڈال دیا تو جاوید احمد کو فوری طور پر جماعتِ !اسلامی میں پذیرائی ملی۔ رکنیت مجلس شوریٰ تو چھوٹی شے ہے، اس کے حواری اسے مولانا مودودی کا *”جانشین”* بتانے لگے ۔ آخرکار جب جاوید احمد کو جماعت اسلامی سے سنہ انیس سو ستاون عیسوی میں الگ ہونے والے مولانا امین اصلاحی سے روابط کا شوق مولانا کے قریب تر اور جماعت اسلامی سے مزید دور لے جانے کا باعث بنا۔
آہستہ آہستہ وہ جاوید احمد سے جاوید احمد غامدی ہوگیا۔ اس لقب کی *’جاوید احمد غامدی ‘* دو چار وجوہات بیان کرتے ہیں اور صحیح ایک کو بھی ثابت نہیں کرسکتے۔ حال ہی میں ان کے ایک شاگرد خاص نے یہ وجہ بیان کی ہے کہ اصل میں وہ اصلاحی سے عقیدت کی وجہ سے اصلاحی لقب رکھنا چاہتے تھے لیکن *”مدرسۃ الاصلاح”* سے فارغ نہ تھے۔ اس لئے غامدی نام رکھ لیا۔ سبحان الله! چھوٹے میاں کو یہ بھی نہیں پتہ کہ غامدی نہ اصلاحی کے ہم وزن ہے نہ ہم معنی! آخر کس طرح سے اصلاحی سے غامدی تک چھلانگ لگادی گئی؟ گویا یہ پانچویں وجہ بھی عار ہی عار ہے اور پورا مکتب فکر مل کر اپنے بانی کے نام کی درست توجیہ کرنے سے قاصر ہے۔ سنہ دو ہزار ایک عیسوی سے قبل غامدی کی تحریک پروان چڑھ رہی تھی لیکن اسے کسی لارڈ کرزن کی سرپرستی دستیاب نہ تھی۔ سنہ دو ہزار ایک عیسوی میں یہ کمی بھی پوری ہوگئی اور ان کے سر پر عصرِ حاضر کے لارڈ کرزن کا دست شفقت کچھ ایسا جم کر ٹکا کہ وہ شخص جو دینی اور مذہبی علم کسی باقاعدہ مسلمہ دینی درس گاہ کا مرہون منت نہیں، بلکہ اس کا علم جنگلی گھاس کی طرح خود رو ہے اور ان کی عقل و فہم کسی مسلمہ ضابطہ کی پابند نہیں ہے، جو عربی کی دو سطریں سیدھی نہیں لکھ سکتا، جو انگریزی کی چار نظموں اور چار مصرعوں کی پونجی میں آدھے سے زیادہ مصرع چوری کرکے ٹانکتا ہے، جس کی اکثر اردو تحریریں سرقہ بازی کا نتیجہ ہے، وہ آج ملک کا مشہور و معروف اسکالر ہے اور اس کا فرمایا ہوا مستند سمجھا جاتا ہے۔ *”ککّے زئی سے غامدی تک”* کے سفر کی روداد عبرت ناک بھی اور الم ناک بھی۔ سچ ہے استاد اپنے شاگردوں سے ہی پہچانا جاتا ہے اور شاگرد اپنے استاذ کی پہچان کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ *”فراہی سے اصلاحی اور اصلاحی سے غامدی تک”* استادی شاگردی کا سلسلہ اس مقولے کی صداقت کیلئے کافی سے زیادہ شافی، اور درکار ضرورت سے زیادہ پکی سچی گواہی ہے۔ غامدی کے متعلق اوپر جو باتیں لکھی گئیں یقینا یہ ان کے بہت سے محبین کے لئے نئی ہونگی ، ایسا ہوتا ہے جو لوگ اسلام اور مسلمانوں کے عقائد و نظریات، قرآن و سنت، اجماع امت اور دین و مذہب کو بگاڑنے، اکابر و اسلافِ امت کے خلاف بغاوت کرنے اور ان کے خلاف زبان درازی کرنے کی ہمت رکھتے ہوں، وہ دنیا بھر کی اسلام دشمن قوتوں اور مذہب بیزار لابیوں کے منظورِ نظر بن جاتے ہیں، ان کے تمام عیوب و نقائص نہ صرف چھپ جاتے ہیں بلکہ اعدائے اسلام ان کی سرپرستی میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کو اپنا فرض اور اعزاز سمجھتے ہیں اور ان کی حمایت و سرپرستی کے لئے اپنے اسباب، وسائل، مال و دولت اور خزانوں کے منہ کھول دیتے ہیں، صرف یہی نہیں بلکہ نظری، بصری میڈیا کے ذریعے ان کا ایسا تعارف کرایا جاتا ہے کہ دنیا ان کے *”قد و قامت“* اور نام نہاد علمی شوکت و صولت کے سامنے ڈھیر ہوجاتی ہے۔جس طرح آج سے ایک صدی پیشتر ضلع گورداس پور کی بستی قادیان کے میٹرک فیل اور مخبوط الحواس انسان غلام احمد قادیانی کو استعمار نے اٹھایا، اس کی سرپرستی کی اور اس سے دعویٰ نبوت کرایا، ٹھیک اسی طرح دورِ حاضر کے نام نہاد اسکالر جاوید احمد غامدی کا قضیہ ہے، جس طرح غلام احمد قادیانی کا کوئی پس منظر نہیں تھا اور اس میں اس کے سوا کوئی کمال نہیں تھا کہ اس نے مسلمانوں کےقرآن کے مقابلہ میں نیا قرآن، مسلمانوں کے دین کے مقابلہ میں نیا دین اور مسلمانوں کے نبی کے مقابلہ میں نئی نبوت کا اعلان کیا، جہاد جیسے دائمی فریضہ کو حرام قرار دیا اور حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام کے قطعی عقیدہ کا انکار کیا، ٹھیک اسی طرح جاوید احمد غامدی بھی دین اسلام کے مقابلہ میں نئے ترمیم شدہ دین اور مذہب کی ایجاد کی کوشش میں ہے، وہ بھی نزولِ عیسی علیہ السلام کے منکر ہیں، ظہورِ مہدی کے منکر ہیں، جہاد کے انکاری ہیں، اجماعِ امت کو بدعت قرار دیتے ہیں، احادیثِ شریفہ کے منکر ہیں اور غلام احمد قادیانی کے سہولت کار ہیں، نیز انہوں نے بھی اپنے بعض پیش روؤں کی طرح مخصوص دینی مسلمات کے انکار پر کمر ہمت باندھی ہوئی ہے۔۔۔۔ معززقارئین!! پاکستان کا ایک نجی چینل ہفتہ کے دو روز ہفتہ اور اتوار کو صبح گیارہ سے بارہ بجے کے درمیان باقائدہ نشر کیا جاتا ھے۔ معروف اینکر ڈاکٹر زبیر کو جب کاکو شاہ ککے زئی کی کی اصل سے واقفیت ھوئی تو انھوں نے ان سے اور انکے تمام معاملات تعلقات سے ناطہ توڑ لیا عوامی مطالبے اور احتجاج کے باوجود نجی چینل نے پروگرام تواتر کیساتھ جاری رکھا ھوا ھے۔ میں اپنے معزز قارئین کو بتاتا چلوں کہ پاکستان میں واحد اسلامی چینل کیو ٹی وی ھے جو تمام مسالک کا احترام بھی رکھتا ھے اور اعتدال میں بھی رہتا ھے یاد رکھنے کی بات ھے سنہ دو ہزار دو کو پاکستان کا پہلا اسلامی چینل کیو ٹی وی ہی تھا جس کو دو ہزار نو میں اےآروائی کیو ٹی وی کا نام دیدیا۔ سی ای او صدر سلمان اقبال کی توجہ اور چیرمین حاجی عبدالرؤف صاحب کی انتہائی محنت دوراندیشی جہاں دیدی بہترین سوچ وافکار اور اعتدال پسندگی سچ وحق کی وجہ سے نہ صرف اےآروائی کیو ٹی وی بلکہ اےآروائی نیٹ ورک کو بامِ عروج بخشا یہاں مفتیان و علماء کرام پیر عظام اینکر پرسن و دیگر اسٹاف کی کی تقرری انتہائی سخت مراحل کے بعد کی کیجاتی ھے۔ اسی لیئے غلط شخصیات کا داخلہ ممنوع رہتا ھے جہاں چیک اینڈ بیلنس کا عمل جاری رہتا ھے۔

کالمکار: جاوید صدیقی

Exit mobile version