ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: کارگل جنگ کے شیردل کیپٹن کاشف ۔۔۔!!
شیردل نڈر بہادر شجاعت مند ایس ایس جی کمانڈوز کے کمانڈر جنرل پرویز مشرف جس سے بد ترین دشمن بھارتی فوج کانپتی تھی۔ نہایت ذہین فطین قابل گوکہ عسکری مہارت میں انجمن اور یکتا پاکستان اور پاکستان افواج کا مخلص وفادار سپاہی پرویز مشرف تھے۔ جنرل پرویز مشرف کی کمانڈ میں کارگل جنگ لڑی گئی۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! کارگل جنگ کا شیر دل جوان جو تین دن تک بھارتی فوج کو وائرلیس پر پیغام دیتا رہا کہ آؤ اور آکر اپنے سپاہیوں کی لاشیں لے جاؤ کیونکہ کارگل کے میدان جنگ میں پاکستانی فوج کے شیر دل جوانوں اور افسروں نے بہادری اور جرات کی ایسی داستانیں رقم کردی تھیں کہ اگر سیز فائر نہ کیا جاتا تو مٹھی بھر یہ بہادر سپوت بھارت کو عبرتناک شکست کے بعد مقبوضہ کشمیر بھی واپس لے لیتے۔ اس جنگ میں تاریخ کے ناقابل یقین واقعات بھی رونما ہوئے، جس سے ایک پاکستانی فوجی افسر کی بہادری کے ساتھ اسکی اخلاقی جرات بھی سامنے آتی ہے۔اس جنگ میں پاک فوج نے عسکری تاریخ کے کئی نمایاں کارنامے انجام دئیے تھے۔ کارگل کی جنگ کے دوران کیپٹن کاشف بھی اپنے چودہ جوانوں کے ساتھ ایسی پوسٹ پرموجود تھے جب اکیس مئی کے دن دشمن کے اڑھائی سو فوجیوں نے بھاری اسلحہ سے لیس ہوکر ان سے پوسٹ چھیننے کی کوشش کی تو انہوں نے کسی جانی نقصان کے بغیر دشمن کو ایسا سبق سکھایا کہ بزدل دشمن اڑتالیس لاشیں چھوڑ کر بھاگ گیا تھا۔ کیپٹن کاشف نے اس معرکہ کی روداد ٹیلیویژن کے ایک پروگرام میں معین اختر کو سنائی تھی کہ جب دشمن کےسپاہی بھاگ رہے تھے تو ان کے افسر اپنے جوانوں کو پکڑ کر روکنے کی کوششیں کرتے لیکن وہ اسلحہ پھینک کر بھاگ اٹھے جس پر بھارتی افسر اپنے سپاہیوں کو گالیاں دیتے ہوئے خود بھی بھاگ اٹھے۔ کارگل کی جنگ کے دوران کیپٹن کاشف بھی اپنے چودہ جوانوں کے ساتھ ایسی پوسٹ پر موجود تھے جب اکیس مئی کےدن دشمن کے اڑھائی سو فوجیوں نے بھاری اسلحہ سے لیس ہو کر ان سے پوسٹ چھیننے کی کوشش کی تو انہوں نےکسی جانی نقصان کے بغیر دشمن کو ایسا سبق سکھایا کہ وہ اڑتالیس لاشیں چھوڑ کر بھاگ گیا تھا۔ کیپٹن کاشف کے مطابق مجھے دشمن کی وائرلیس فریکونسی کا علم تھا۔ دشمن نے کلو ون، کلو ٹو، کلو تھری کے نام سے اپنے وائرلیس کوڈ رکھے تھے۔ کلو تھری میں انکا آپریشن کیمپ تھا، میں نے کلو تھری سے رابطہ کیا اور جب کہا کہ ہم بھارتی فوجیوں کی لاشیں واپس کرنا چاہتے ہیں تو وہ پریشان ہوگئے۔ انکا افسر بولا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم تمہارے علاقے سے لاشیں اٹھانے آئیں اور تم ہم پر فائر نہیں کھولو گے۔وہ سمجھ رہا تھا شاید ہم انکے ساتھ کوئی چال چل رہے ہیں۔ میں نےکہا ’’ایک مسلمان کی حیثیت سے ہم کسی لاش کی بے حرمتی برداشت نہیں کرسکتے، چاہے وہ دشمن کی ہو۔ اخلاقی اور انسانی تقاضے کے تحت تم لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ اپنے سپاہیوں کی لاشیں اٹھا کر لے جاؤ اور اپنے چار چار لوگوں کو بھیج دو تاکہ وہ ایک ایک کرکے لاشیں اٹھا کر واپس چلے جائیں، اگر انہوں نے لاشوں سے آگے پیچھے ہونے کی کوشش کی اور کوئی شرارت کی تو ان کا انجام بھی انکے ساتھیوں جیسا ہوگا‘‘ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ میں تین دن تک بھارتی فوجیوں کو یہ پیغام دیتا رہا،پھر چوتھی رات چار سپاہی اندھیرے میں ٹارچ کی روشنی کرتے ہوئے آئے، وہ سب ڈرے سہمے تھے۔میں نے ان سے کہا’’ ڈرو نہیں، لاشیں اٹھالو ‘‘وہ ایک ایک لاش اٹھا کر واپس لے گئے۔ یہ عسکری تاریخ کا ایسا یادگار واقعہ ہے۔ جسے جب بھی یاد کیا جائیگا،پاکستانی فوج کو سنہری حروف میں لکھا جائیگا اور پاک فوج کے شیر دل افسر اور قوم کے سپوت کیپٹن کاشف کی انسانی عظمت کو سلام کیا جاتا رہیگا۔ سرفروشی ہے ایماں تمہارا، جراتوں کے پرستار ہو تم جو حفاظت کرے سرحدوں کی وہ فلک بوس دیوار ہو تم۔۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
