BBC Urdu TV

*عنوان: کاروباری دنیا کے بڑے لوگ قانون سے مبرا ۔۔۔۔!!*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: کاروباری دنیا کے بڑے لوگ قانون سے مبرا ۔۔۔۔!!*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

آج اپنے کالم کا عنوان کاروباری دنیا کے بڑے لوگوں اور خاندان سے منسوب رکھنے کی اشد ضرورت حالیہ کراچی کے علاقہ کارساز میں ہونے والے بہمانہ و مجرمانہ حادثہ کی وجہ بنا ھے۔ اس سے قبل کہ میں اس واقعہ کی جانب آؤنگا اپنے معزز قارئین کو بتاتا چلوں کہ جسے آپ مقدس و معتبر نظام جمہوریت کہتے ہیں درحقیقت یہ ایک جانب دین محمدی ﷺ کے مکمل برخلاف دوسرا انسانیت کے بھی برخلاف ھے اس نظام سے صرف اور صرف امراء ، اشرفیہ ، ایلیٹ جماعت ، سیاست دان و حکمران ، ججز و جسٹس اور دیگر مقتدر قوتوں کے مجرمانہ ظالمانہ عوامل کو قانونی و معاشرتی تحفظ فراہم کرنا شامل ھے ھم جس نظام کے تابع ہیں اس نظام میں کمزور غریب ذہین قابل دیانتدار ایماندار بااخلاق و باکردار شریف النفس انسانوں لوگوں اور شہریوں کیلئے قطعی کوئی جگہ نہیں انہیں اپنے پالتو کتو گدھوں گھوڑوں بیل اور گائے سے بھی کم تر سمجھتے ہیں گویا یہ پاکستانی چوبیس کروڑ عوام انکی کم تر غلام ہیں اور ان غلاموں کو آہ و بکاہ تک کی اجازت نہیں۔ ان بڑے مالدار اور بااختیار لوگوں کیلئے ہر طرح کا نشہ ہر طرح کی بدمعاشی و غنڈہ گردی اور قتل و خون ریزی کی اجازت حاصل ھے آج تک اس ریاست پاکستان میں نہ کوئی بڑا جرم ثابت ہونے کے باوجود سزا حاصل کی اور نہ ہی اسے کسی قسم کا خوف رھا خیر میں کراچی کارساز سانحہ سے متعلق کچھ حقائق پس منظر اپنے معزز قارئین کی خدمت میں پیش کررھا ھوں۔ معزز قارئین!!
دانش اقبال علی محمد پاکستان کے بڑے بزنس مین خاندان کے چشم و چراغ ہیں، گل احمد انڈسٹریز کا بٹوارہ ہوا تو انکے حصے میں بھی ٹیکسٹائل ملز کے کچھ یونٹ آئے۔ نیو جرسی، امریکہ سے کالج ختم کرنے کے بعد شارجہ یونیورسٹی آف امریکہ سے اپنا بی بی اے مکمل کیا اور پھر اپنے ابا کا چھوڑا ہوا بزنس سنبھال لیا۔ سنہ دو ہزار بیس عیسوی میں گل احمد انرجی پرائیویٹ لمیٹیڈ بنائی اور بطورِ چئیرمن اپنا پاور پلانٹ لگایا۔ فرنس آئل سے بجلی پیدا کرنا شروع کی اور کے الیکٹرک کو سپلائی شروع کردی۔ کچھ عرصے بعد ونڈ انرجی پر کام کیا اور مزید ایک پاور پلانٹ جو تقریباً ساٹھ میگا واٹ پر مشتمل ہے اس کو بھی نیپرا کے ساتھ معاہدے کے بعد نیشنل گرڈ میں شامل کردیا اس طرح یہ تقریباً سو میگا واٹ پر مشتمل آئی پی پیز کے مالک ہیں۔ بہرحال اس وقت ہمارا موضوع دانش اقبال علی محمد نہیں بلکہ ان کی اہلیہ نتاشہ ہیں جو انیس اگست سنہ دو ہزار چوبیس عیسوی بروز پیر کی شام عصر اور مغرب کے درمیان کارساز کی سروس روڈ کو استعمال کرتے ہوئے غالباََ اپنے گھر جارہی تھی یا گھر سے کہیں جارہی تھیں یقین سے کہنا تو مشکل ہے مگر بظاہر دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ شاید وہ نشے بھی مبتلا تھیں اور اسی وجہ سے ان کی لینڈ کروزر ان سے بے قابو ہوگئی اور پھر ان کی گاڑی کی زد میں جو آیا کچلا گیا۔ آمنہ عارف جو اقراء یونیورسٹی کی طالبہ تھی اور اپنے والد کے ساتھ شائد اپنے آخری سفر پر روانہ ہونے ہی نکلی تھی موقع پر ہی دونوں باپ بیٹی نے دم توڑ دیا، ان کے علاوہ مزید چار لوگ اس حادثے کی زد میں آئے جن کی حالتیں نازک بتائی جاتی ہیں اور شائد ان میں سے بھی دو لوگ انتقال کرگئے ہیں۔
دانش اقبال پاکستان کے آئی پی پیز کے مالکان میں سے ایک ہیں جو سرکار ان کے پاور پلانٹ پر ہاتھ نہیں ڈال سکتی ان پلانٹس کا فارنزک آڈٹ نہیں کروا سکتی وہ بھلا ان کی بیگم پر ہاتھ ڈالنے کی اوقات کہاں سے لائے گی؟ سڑکوں پر گھومنے والے ہم اور آپ جیسے لوگ ان "ہستیوں” کے سامنے کمی کمینوں سے زیادہ نہیں ہیں۔ پولیس ان کی رکھیل ہے، قانون ان کی لونڈی اور ریاست ان کی باندی اور یہ تینوں ہاتھ باندھے ان لوگوں کے سامنے کھڑی ہوتے ہیں۔
مرنے والے اور زخمی ہونے والے مڈل اور لوئر مڈل کلاس ان کی ایک ملین کی بھی مار نہیں، سندھ پولیس اپنے آقاؤں کے حکم پر ڈیل طے کریگی ایف آئی آر تو ویسے بھی ابھی تک نہیں کٹی ہے اور کٹے گی بھی نہیں اور کٹی بھی تو برائے نام یعنی بہت ہلکی کمزور تاکہ خون بہا کے نام پر مرنے والوں کے ریٹ طے کیے جائیں اور پھر وارثین اپنے پیاروں کو روند کر جانے والوں کو "دل سے معاف” کردیں گے اور اس طرح ایک دفعہ پھر شیر اور ہرن جنگل میں خوشی خوشی رہنے لگیں گے. پاکستان وہ بد قسمت ملک بن چکا ھے کہ جہاں سے جمہوریت نام کا غلیظ ترین نظام جبراً قائم ھے جبکہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی وصیت میں واضع لکھ دیا تھا کہ جمہوریت ایک ناسور نظام ھے، یہ دین محمدی ﷺ کے مکمل برخلاف اور یہ دشمنانان اسلام و پاکستان کا نظام ھے، اسے ہرگز ہرگز نافذ نہ ہونے دینا۔ اس بابت ڈاکٹر انجیئنر سید صادق علی صاحب نے سپریم کورٹ میں پیٹیشن بھی جمع کرائی ہوئی ھے جسے تین سال سے سنا ہی نہیں جارھا کیونکہ اس پیٹیشن سے نظام کا خاتمہ ہوجائیگا اور قائد اعظم کی وصیت کے مطابق نظام شریعت نافذ ہوجائیگا۔ ڈاکٹر انجیئنر سید صادق علی صاحب نے مجھے فون پر بتایا کہ اس بابت انھوں نے پی ایم ایل این، ایم کیو ایم، پی پی پی، پی ٹی آئی، جے آئی سمیت دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سربراہان سے بات کرکے اس جانب توجہ مرکوز کرانے کی کوشش کی لیکن کسی نے بھی سنجیدگی کا مظاہرہ پیش نہیں کیا مزید برآں انھوں نے بتایا کہ یہ سب اسی نظام کو جاری رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ اس منافقانہ نظام میں انہی کے مفادات پوشیدہ ہیں۔ معزز قارئین!! میرا ایمان اور پختہ یقین ھے کہ اس قوم کو ضرور بلضرور ایک روز احساس پیدا ہوجائیگا کہ وہ ان امراء، اشرفیہ، ایلیٹ جماعت، سیاست دان و حکمران، ججز و جسٹس اور دیگر مقتدر قوتوں نے ہم عوام کو منتشر کیئے رکھا ھے کبھی مسالک تو کبھی لسانیت و عصبیت کی جنگ میں جھونکے رکھا، یہ صرف اپنی ذات کے ہیں نہ وطن و ریاست کے مخلص اور نہ ہی عوام کے خیر خواہ۔ عوام کو جب یہ احساس اور یقین پیدا ہوجائیگا تب یہ کراچی سے اسلام آباد تک متحد ایک قوم بن سکے گی اور پھر مسلک کی چال سے نکل کر ایک امت بن کر پاکستانی اور پاکستان کو اٹھ کھڑا کردیگی۔ تب تک ھم اس پاکستان میں کفر اور ظلم کی حکمرانی اور بادشاہی دیکھتے رہیں گے ایسے واقعات رونما ہوتے رہیں گے ایک آدھ دن شور مچے گا پھر ہر طرف خاموشی ہی خاموشی جیسے قوم قبرستان میں سو گئی ھو۔!!

Exit mobile version