BBC Urdu TV

عنوان: چیونٹی اور حضرت انسان

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: چیونٹی اور حضرت انسان*

چیونٹیوں کی بستی میں جب کوئی چیونٹی مرتی ہے تو آس پاس رہنے والی چیونٹیوں کو کچھ پتہ نہیں چلتا۔ تیسرے دن جب مری ہوئی چیونٹی کاجسم اولیک ایسڈ کی بودیتا ہے تب ہی مزدور چیونٹیاں اسے اٹھاکر بستی کی کچرا کنڈی میں پھینک آتی ہیں۔ یہی چیونٹیاں چلتی پھرتی چیونٹیوں میں چلتے چلتے سرجوڑ کر ایک لمحہ کا راز و نیاز فرض جان کر کرتی ہیں۔ ایک عام چیونٹی کی عمر تین ماہ سے چھ ماہ ہوتی ہے خوراک یہ سالوں کی جمع کرتی ہیں لیکن چیونٹی کارخانہ قدرت کا اہم کردار ہے یہ اس سسٹم کی صفائی کرتی ہے۔ ہزاروں دوسرے کیڑوں پرندوں کی خوراک ہے۔ آج دُنیا سے ساری چیونٹیاں ختم ہوجائیں دُنیا کا نظام درہم برہم ہوجائےگا۔ اشرف المخلوقات حضرت انسان کا بہرحال اس دُنیا میں ایسا کوئی کردار نہیں۔ آج دنیا سے سارے انسان غائب ہوجائیں دُنیا کے نظام پرکوئی فرق نہیں پڑیگا۔ دُنیا کی ہر مخلوق اس دنیا کا حصہ ہے سوائے انسان کے۔ اسلیئے اپنی بقا کے علاوہ اسکا دُنیا کے نظام سے کوئی تعلق نہیں۔ سوائے اسکے کہ یہ اس نظام کو بگاڑے نہ اسی میں اسکی بقا ہے۔ ہم نے چیونٹیوں سے حرص لیکر صدیوں کا سامان جمع کرنا شروع کردیا اس دوڑ میں اتنے غافل ہوگئے کہ اپنے آس پاس کمزور و بیماروں کا ہی پتہ نہیں ہوتا۔ اب ہمیں بھی بستی میں جنازے کا ہی پتہ چلتا ہے جنازے پر ہی معلوم ہوتا ہے کہ صاحب یا صاحبہ اتنے عرصے سے بیمار تھے یا تھیں۔ ہم یہ احساس ہی کھوچکے کہ اس بھاگ دوڑ میں انکو بھی وقت دینا تھا۔ اے اشرف المخلوقات حضرت انسان ایک دوسرے کے وقت آنے سے پہلے ایک دوسرےکووقت دینا سیکھو۔تم کوئی چیونٹیاں تو ہو نہیں جو تم اس قدر بے حس ہو۔۔۔۔معزز قارئین!! اسی پاکستان میں چند سالوں پہلے ہم نے ایسا معاشرہ بنا دیکھا تھا جہاں اسلامی روایت اور طریقہ کار کھل کھل کر نظر آتے تھے۔ پڑوسی ایک دوسرے کیساتھ خاندان جیسا برتاؤ اپنائے ہوئے تھے کھانا ایک دوسرے کے گھر بھیجتے کہ کہیں کوئی پڑوسی بھوکا نہ رہ جائے ایک دوسرے کے دکھ درد میں کھڑے ہوجاتے گویا خوشیاں تقسیم کی جاتی تھیں اور غم مٹائے جاتے تھے نہ تعصب نہ عصبیت نہ نفرت نہ بغض اور نہ ہی عداوت ہوتی تھیں ایثار و قربانی میں ہر کوئی آگے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے نظر آتا تھا زبان قوم و قبیلہ اور مسلکی تفریق سے کوسوں دور تھے دین محمدی کے اصولوں پر کاربند دکھائی دیتے تھے ہر ایک میں خوف خدا اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہنا ہوتا تھا ایمانداری سچائی خلوص نیت نیتی سے مامور تھے اور آج ہم ترقی یافتہ دور میں کیڑے مکوڑوں سے بھی کہیں درجہ گر چکے ہیں پھر بھی فخر سے کہتے ہیں ہم اشرف المخلوقات ہیں کبھی سوچا ہے ہم نے کہ ہم کہاں تک اپنی حیثیت کھو چکے ہیں یقیناً ہماری منزل بنا حقوق العباد اور حقوق الله کے ممکن نہیں ہے بصورت حضرت انسان ایک معمولی چیونٹی سے بھی کم تر ہے الله ہمیں ہدایت کی راہ پر گامزن رکھے اور نیکوکاروں میں شامل فرمائے آمین ثما آمین

*کالمکار: جاوید صدیقی*

Exit mobile version