BBC Urdu TV

*عنوان: پی آئی اے، ماضی کا تلخ حقیقی واقعہ۔۔۔۔!!*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: پی آئی اے، ماضی کا تلخ حقیقی واقعہ۔۔۔۔!!*

ہ

*کالمکار: جاوید صدیقی*
ارض وطن پاکستان وہ بد قسمت ملک ھے جہاں سیاستدانوں، اشرفیہ اور حکمرانوں نے بری طرح نوچ نوچ کر تہس نہس کر رکھا ہے جیسے کہ کسی لا وارث کی املاک ھو۔ جمہوریت کے شہنشاہ اور جمہوری حکومت کے سب سے بڑی حامی نے ہی جمہوریت کی عملی ایسی شکل بنائی کہ دنیا کی بدترین آمریت ہی شائد بہتر ھوں۔ عوام کے حقوق اور عدل و انصاف کو اسی جمہوریت میں پاش پاش کیا۔ جمہوری بد ترین نظام کی تاریخ کو مورخین نے سیاہ تاریخ لکھ چکے ہیں اور سیاہ جمہوری عمل تسلسل سے ابتک ملک پاکستان میں جاری ھے۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! آج میں آپ کو جمہوریت کے ادوار میں سے ایک دور کی حقیقت بتاتا ھوں یاد رھے کہ ذوالفقار علی بھٹّو اک بڑا آدمی تھا لیکن پھر اسے واقعی اک بڑا آدمی ٹکرا گیا۔ ھوا یوں کہ محفوظ مصطفیٰ بھٹو جو کہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹّو کی ہمشیرہ کا بیٹا تھا جس کی تعلیمی قابلیت قطعی اس پوسٹ کے معیار کے مطابق نہ تھی لیکن اسے پی آئی اے میں سیلز پروموشن آفیسر جیسی اہم پوسٹ پر تعینات کرا دیا گیا تھا جس کے لئے لوگ نہ جانے کتنی سفارشیں، رشوت اور دھکے کھاتے ہیں۔ محفوظ مصطفیٰ بھٹو کا دفتر اُس وقت کراچی جم خانہ کلب کے نزدیک تھا، انہیں پی آئی اے کی طرف سے ایک بہترین گاڑی اور خاطر تواضع کے لئے پر کشش بجٹ مہیا کیا جاتا تھا۔ اس کا نام محفوظ مصطفیٰ بھٹو تھا لیکن عرف عام میں وہ ٹِکو کے نام سے مشہور تھا اور اس کے اصل نام سے بہت کم لوگ واقف تھے۔
ممتاز علی بھٹو اس وقت سندھ کے وزیر اعلیٰ تھے اس لئے محفوظ مصطفیٰ عرف ٹِکو کی تمام سرگرمیوں کا تعلق پی آئی اے سے نہیں بلکہ وزیراعلیٰ ہاؤس سے مختلف وزرا، سیکرٹریٹ سمیت وفاق کے سرکاری دفاتر میں گھومنے پھرنے اور مختلف فائلوں پر دستخط کرانے تک ہی محدود رہتا اور پی آئی اے کے معاملات سے اس کی لاپروائی اس قدر بڑھ گئی کہ اس کے سینئر افسران نے نوٹس لیتے ہوئے اسے وارننگ لیٹر جاری کردیئے لیکن اس کے خلاف کوئی انضباطی کارروائی کرنے سے ڈر جاتے۔ بات چلتے چلتے چیئرمین پی آئی اے ائر مارشل ریٹائرڈ نور خان کی میز تک جا پہنچی جس کا انہوں نے سخت نوٹس لیتے ہوئے محفوظ مصطفیٰ کی اچھی طرح کھچائی کرتے ہوئے اسے شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر پی آئی اے میں رہنا ہے تو آپ کو کام کرنا ہوگا اور آپ کے کام کی رپورٹ مانگی جائے گی۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو پھر آپ کو بغیر کسی نوٹس کے گھر بھیج دیا جائے گا، ذہن نشین کر لیجئے کہ اپنے فرائض میں دلچسپی کے سوا آپ کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں۔
محفوظ مصطفیٰ عرف ٹکو کو چیئرمین/منیجنگ ڈائریکٹر پی آئی اے کی جانب سے وارننگ لیٹر جاری ہونے کے چند روز بعد وزیراعظم ہاؤس سے ائر مارشل نور خان کو پیغام موصول ہوا کہ پرائم منسٹر لاڑکانہ جارہے ہیں انہوں نے آپ کو پی آئی اے کے فلاں فلاں معاملات پر بریفنگ کے لئے بلایا ہے۔ پیغام ملتے ہی ائر مارشل نور خان نے متعلقہ معاملات کی فائلیں اور بریفنگ تیار کیں اور مقررہ دن کراچی سے لاڑکانہ پہنچ گئے جہاں المرتضیٰ ہاوُس میں وزیراعظم بھٹو سے ان کی ملاقات ہونا تھی۔ اس میٹنگ میں ائر مارشل نور خان نے پی آئی اے کے معاملات پر تفصیل سے بریفنگ دی جو ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ میٹنگ کے بعد ائیر مارشل نور خان وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے ہاتھ ملانے کے بعد جانے لگے تو پرائم منسٹر نے سپاٹ لہجے میں کہا: ائر مارشل مت بھولئے گا کہ بھٹو جہاں بھی ہے وہ بھٹو ہوتا ہے۔ ان کے الفاظ تھے۔
‏Air Marshal, A Bhutto is a Bhutto where ever he is
ائر مارشل نور خان سمجھ گئے کہ انہیں محفوظ مصطفیٰ بھٹو عرف ٹیکو سیلز پرومومشن آفیسرز پی آئی اے کے حوالے سے متنبّہ کیا جارہا ہے جو والدہ کی طرف سے بھٹو ہے۔ نور خان نے اس بات پر کسی قسم کا رد عمل یا اس کا جواب نہیں دیا بلکہ ایک ہلکی سی مسکراہٹ سے وزیراعظم کو خداحافظ کہتے ہوئے لاڑکانہ سے سیدھے کراچی اپنے دفتر پہنچے اور چند منٹوں بعد اپنا استعفیٰ وزیراعظم ہاوُس فیکس کردیا محفوظ مصطفیٰ بھٹو وہ پہلی ٹیڑھی اینٹ تھی جو سابقہ وزیراعظم بھٹّو کے ہاتھوں پی آئی اے میں لگی اور اس کے بعد تو پوری عمارت ھی ٹیڑھی اینٹوں سے بھردی گئی وہ پی آئی اے جو ائر مارشل نور خان کے زمانے میں پاکستان کے وقار کی علامت تھی آج پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی کی وجہ بن گئی ہے۔ میڈیا سمیت ہوائی سفر کے تمام محکموں اور برانچوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں کہ ائر مارشل نور خان کے بعد پی آئی اے آہستہ آہستہ نیچے کی جانب گرتی چلی گئی اور پھر ایسی گری کہ کبھی سنبھالی ہی نہیں جاسکی۔ آج نہیں تو کل وقت بتائے گا کہ جو ائر لائن کبھی دنیا بھر میں اپنا مقام رکھتی تھی، تباہی کی اِس حالت کو کیسے پہنچی؟ ائر مارشل نور خان اس قوم کا وہ ستارہ تھا جو ائر فورس، پی آئی اے، اسکوائش، ہاکی اور کرکٹ کے ہر عہدے پر جہاں جہاں بھی براجمان ہوا پاکستان کے نام اور مقام کو بلندیوں تک لے گیا۔ بڑے بڑے ترقی یافتہ ملکوں کے سیاح اور ٹریولر اپنے اپنے ملکوں کی ائر لائنز پر پی آئی اے کو ترجیح دیتے تھے۔ نور خان مرحوم کی وطن سے محبت اور مر مٹنے کا جذبہ اس ایک واقعہ سے ہی سمجھ لیں کہ ۲۰, جنوری سنہ ۱۹۷۸ ء کو پی آئی اے کا طیارہ کراچی میں ہائی جیک کر لیا گیا اور ہائی جیکر نے پائلٹ کو حکم دیا کہ جہاز کو بھارت لے جایا جائے۔ ائر مارشل نورخان ہائی جیکر سے بات کرنے کیلئے جہاز کے اندر اکیلے ہی خالی ہاتھ جا پہنچے اور اسے باتوں میں مصروف رکھتے ہوئے اچانک اس کے ہاتھ سے پستول چھیننے کیلئے اس پر جھپٹے، اس دوران ہائی جیکر کی چلائی گئی گولی سے ان کی ٹانگ زخمی ہوگئی لیکن اس کے باوجود ہائی جیکر پر قابو پاتے ہوئے جہاز کے مسافروں کی زندگیاں محفوظ بنانے میں کامیاب رہے۔ آج یہ حالت ہے کہ پی آئی اے پر پابندیاں لگ رہیں ہیں بولیاں چل رہی ہیں جبکہ وہ ائر لائنز جنہیں پی آئی اے نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا ہے آج وہ پی آئی اے کی جگہ اس ریجن کا بزنس سنبھال رہی ہیں۔ پی آئی اے کے ساتھ جو ہوا اس پر کاش کوئی ایسا کمیشن بنے جو اوپن کورٹ میں ہر ذمہ دار کو قوم کے سامنے لاکر بتائے کہ پی آئی اے کو کس کس نے لوٹا اور بے دردی سے تباہ کیا۔ لیکن ایسا ہونا کسی صورت ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ جو ملک دولخت ہونے کے ذمہ داران کا آج تک تعین نہیں کرسکا وہاں پی آئی اے کی تباہی کیا معنی رکھتی ہے، دوسرا یہ کہ مسلم لیگ نون نے بھی بچی کچی کوئی کسر نہ چھوڑی، نون لیگ کے سابقہ دور میں خاقان عباسی نے پی آئی اے کو دھرم تیل کر ڈالا اور اپنی ائر لائن ائر بلیو کو پڑوان چڑھایا اب تو چند کوڑیوں میں نواز فیملی کی ذاتی ملکیت بننے جارہی ھے پی آئی اے کوئی دیر نہیں کہ پاک اسٹیل ملز کراچی بھی انہی کے ہاتھوں قید ہوجائے بحرحال اس نظام جمہوریت سے توقع نہیں کہ عوام کے حالات بہتر ہوسکیں اچھی بدل سکیں مستقل اشرفیہ حکمران سیاستدان اور بیوروکریٹس ہی پھولتے جارہے ہیں گویا جمہوری نظام انہی کے مفادات کے تحت ھے۔۔۔!!

{"remix_data”:[],”remix_entry_point”:”challenges”,”source_tags”:["local”],”origin”:”unknown”,”total_draw_time”:0,”total_draw_actions”:0,”layers_used”:0,”brushes_used”:0,”photos_added”:0,”total_editor_actions”:{},”tools_used”:{},”is_sticker”:false,”edited_since_last_sticker_save”:false,”containsFTESticker”:false}
Exit mobile version