BBC Urdu TV

*عنوان : پنشنرز بے یارو مددگار ۔۔۔۔*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان : پنشنرز بے یارو مددگار ۔۔۔۔*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

سندھ میں ریٹائرډ سرکاری ملازمین کے لئے کمیوٹیشن، گریجوئٹی اور ایل پی آر لینا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگیا ھے۔ سندھ بھر کے چوبیس اضلاع میں ریٹائرڈ ملازمین کے کمیوٹیٹیشن، گریجوئٹی اور ایل پی آر کے اٹھارہ ہزار آٹھ سو تینتیس کیسز التوا کا شکار ھیں۔ التوا کا شکار کیسسز کی مد میں محکمہ خزانہ سندھ پر پینتیس ارب اڑتیس کروڑ باون لاکھ چھبیس ہزار تین سو اڑسٹھ روپے واجب الادا ہیں۔ محکمہ خزانہ کے دستاویزات کے مطابق بدین، ٹھٹھہ، سجاول، ٹنڈو محمد خان، عمرکوٹ اور دادو کے اضلاع شامل ہیں۔ التوا کا شکار کیسسز میں جامشورو، نوشہروفیروز، سکھر، جیکب آباد، لاڑکانہ، ٹنڈوالہیار، کشمور، حیدرآباد، سانگھڑ اور تھرپارکر شامل ہیں۔ التوا کا شکار کیسسز میں شکارپور، شہید بینظیر آباد، مٹھی، مٹیاری، خیرپور میرس، میرپورخاص، قمبر اور شہدادکوٹ شامل ھیں۔ التوا کا شکار کیسسز میں گھوٹکی اور کراچی کے سات اضلاع کے کمیوٹیشن کے گیارہ ہزار دو سو پانچ کیسز میں انتیس ارب تینتیس کروڑ نو لاکھ تین ہزار تین سو پچاس روپے،
گریجوئٹی کے پانچ سو باون کیسز میں چھہتر کروڑ انناسی لاکھ گیارہ ہزار سات سو چونسٹھ روپے، ایل پی آر کی مد میں پانچ ارب اٹھائیس کروڑ چھیاسٹھ لاکھ گیارہ ہزار تین سو چوون روپے کے واجبات ہیں، محکمہ خزانہ روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں شکایات سنتا ہے لیکن فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث پنشنرز کے واجبات ادا نہیں کرپاتا، اس وجہ سے پنشنرز بے یارو مددگار پھر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سندھ بھر کے پینشنرز کے گروپ انشورنس کی رقوم کو برسوں سے ادائیگی کو روکے رکھا ھے جبکہ عدالت عظمیٰ کو بے وقعت سمجھتے ھوئے ہر پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومت نے جوتے کی نوک پر رکھا دیکھیں عبوری حکومت منصفانہ عمل کرتی ھے کہ نہیں یہاں اس امر کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اس وقت سندھ کے وزیراعلیٰ بھی سابق جسٹس ہی ھیں۔

Exit mobile version