ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: پاکستان کے 75 سال,سندھ بلوچستان کے اصل مجرم ۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
پاکستان کے پچھہتر سال کے بعد بھی آج تک سندھ اور بلوچستان بنیادی ضروتوں سے محروم ھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ دنیا کا جہاں موسم میں تبدیلیاں واقع ھوئی ہیں وہیں پاکستان بھی متاثر ھوگیا ھے۔ سندھ اور بلوچستان کی مماثلت یہ ھے کہ ان دونوں صوبوں میں وڈیروں جاگیرداروں اور سرداروں نے صرف اپنے ذات کی تعائش و عیش عشرت اور طاقت کو اپنا مرکز بنائے رکھا۔ ان دونوں صوبوں کی عوام جو نہایت ایماندار۔ مہمان نواز۔ محبت و بھائی کا پیکر۔ اخوت اور یگانگی کا نشان اور دین سے والہانہ محبت رکھنے والی ہیں ان کی شرافت دیانتداری ایمانداری سے ان وڈیروں جاگیرداروں اور سرداروں نے ہمیشہ ناجائز فائدہ اٹھایا۔ ہمیشہ انہیں کے وڈیروں جاگیرداروں اور سرداروں اور ان کی اولادوں نے ایوانوں اقتداروں اور وزارتوں کے مزے لوٹے اور اپنی اپنی قوم کو پستی و غربت میں دھکیلے رکھا۔زمینی حقائق شاہد ہیں کہ تعلیمی سطح پر نہ تدریسی مدارس کی بہتر عمارتیں بنائی گئیں اور نہ ہی قومی و بین الاقوامی سطح پر تدریسی عمل جاری کیا گیا البتہ نجی سطح پر بھاری بھاری فیس وصول کرنے والے اداروں کو بھرپور معاونت جاری رکھی تاکہ ان سے کمایا جائے درحقیقت یہ سندھ اور بلوچستان کے ان وڈیروں جاگیرداروں اور سرداروں اور ان کی نسلیں جاہلیت کے گڑھے میں بند ہیں اسی لیئے نہ ان میں سوچ و افکار کا مادہ ھوتا ھے اور نہ ہی ان کے دل نرم ھوتے ہیں۔ یہ وہ طبقے ہیں جن کی جاہلیت کی سزا ان کی قوم پچھہتر سالوں سے سہہ رہی ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ ان کی قوم انہیں ہی کیوں انتخابات میں ووٹ دیتی ہیں تو اس کا بہت ہی آسان جواب یہ ھے کہ بد قسمتی سے ھمارا ملک ان ملکوں میں صفِ اؤل ھے جہاں ابتک انتخابات کا طریقہ شفاف نہیں بنایا جاسکا ھے اس کی سب سے بڑی وجہ انہی وڈیروں جاگیرداروں اور سرداروں کے وزارتوں کے حصول کے بعد من پسند اور غلامان ذہن والے نوکر شاہیوں کے تقرر کرتے ہیں۔ یہ اس ملک کا المیہ ھے کہ پچھہتر سال سے یہی قابض ہیں اقتدار پر یقیناً انقلاب کے بناء ممکن نہیں اور انقلاب اسی وقت آئیگا جب تمام صوبوں کی قوم تعصب, عصبیت, لسانیت اور مسلکی جنگ سے باہر آئیں ۔۔ معزز قارئین!! اللہ نے ان دونوں صوبوں کو قدرتی خذانوں سے مالا مال کیا مگر بد نیتی کے سبب ترقی و خوشحالی پیدا نہیں کرسکے ہیں لیکن اس کیلئے انہیں اپنی نیت درست کرنی ھونگیں۔ حدیث مبارکہ ھےکہ ’’إنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ‘‘ ترجمہ: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ایک روایت میں ہے ’’الاعمال بالنية‘‘ یعنی اعمال نیت پر منحصر ہیں۔ من حیث القوم ھم سب جانتے ہیں کہ ھمارے سیاستدان, حکمران, وزراء, مشراء, ممبران ایوان, اشرفیہ, نوکر شاہی طبقہ اور میڈیا کس قدر نیک نیتی کے ساتھ ریاستی امور میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں یہ میرے معزز قارئین مجھ سے کہیں زیادہ بہتر سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں۔ بات ھورہی تھی صوبہ سندھ اور بلوچستان کی۔ سندھ اور بلوچستان کے ان وڈیروں جاگیرداروں اور سرداروں نے اپنی ذات کے فائدے کیلئے ہمیشہ ریاست کو بلیک میل بھی کیا۔ اگر ان دونوں صوبوں کے وڈیروں جاگیرداروں اور سرداروں کو ذرا بھی اپنی قوم اور صوبے کا احساس ھوتا تو یہ دونوں صوبے جت النظیر بنا سکتے تھے لیکن از خود جان کر ایسا نہیں کیا گیا۔۔۔ معزز قارئین!! موجودہ وقت میں موسم برسات کے انتظامات ان کی ناقص کارکردگی نااہلی اور بد دیانتی کا کھلا ٹبوت پیش کررہی ہیں مگر یہ جھوٹے, فاسق و جابر, منافق ذمہداران ہیں اسی لیئے ان کا کہنا ھے کہ میں نہ مانوں کی ضد لئے کھڑے ہیں۔صوبہ بلوچستان نے آج تک کیوں نہیں ڈیم بنائے کہ اگر بارش کا سیلاب آجائے تو اس کا پانی ذخیرہ کرلیا جائے اسی طرح سندھ حکومت نے چھوٹے چھوٹے ڈیم کیوں نہیں بنائے۔ اٹھارہ ویں ترمیم کے بعد آج تک کیا آزاد صوبوں نے صوبے کی ترقی و خوشحالی کی اہیں کھول دیں کیا ھم دیک سکتے ہیں کہ کشمور سے دادو تک اور روہڑی سے کراچی تک درختوں کی قطاریں اور بنجر زمینوں کی ہریالیاں پھیلی ھوئی ہیں کیا ھم دیکھ سکتے ہیں کہ اٹھارہ ویں ترمیم کے بعد رن کچ تھرپارکر بدین سے براستہ کراچی اور پھر بلوچستان کی ساحلی علاقوں پر درخت کے درخت جھنڈ کے جھنڈ ہریالی و سبزہ پیدا کرلیا گیا ھو۔ دنیا کے ساحلی علاقوں میں سبزہ کاری اور زراعت پر بھرپور توجہ دی جاتی ھے مگر سندھ اور بلوچستان کے ان وڈیروں جاگیرداروں اور سرداروں نے ان بچے کچے درختوں اور سبزہ زاروں کو برباد و بیانان کردیا میرے معزز قارئین کو یاد ھوگا کہ جب آصف علی زرداری نے صدر کا منصب سنبھالا تو اپنی اجناس کو پورٹ تک بآسانی پہنچانے کیلئے کورین کمپنی کو ٹھیکہ دیا کہ حیدرآباد ٹو میرپورخاص موٹروے تیار کرے اس کمپنی کی آسانی کیلئے سندھ حکومت جو اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کی ہی تھی اس نے دس ہزار کروڑ درخت جو بہت بڑے اور نایاب ترین تھے کٹ وادیئے دیا آج تک اتنی بڑی رقوم کا کچھ نہیں پتہ چلا اور نہ ہی کسی نے ہمت کی کہ اس پر سوال کریں اور حساب پوچھیں جب ادارے میڈیا اور ریاست اس قدر کمزور مجبور ہوں تو پھر بہتری کی امید کس سے کی جائیگی۔ میں اس لیئے لکھتا ھوں کہ آج نہیں تو کل کوئی تو محب الوطن محب القوم محب الصوبہ پیدا ھوگا جو خالصتاً نیک نیتی کیساتھ اس وطن اور قوم کی خدمت کرلے کیونکہ ریاستیں نیک, ایماندار, دیانتدار, مخلص لیڈروں رہنماؤں سے ترقی و خوش حالی کی جانب بڑھتی ہیں اپنی تحریر میں اسی امید کیساتھ سمیٹتا ھوں کہ کاش صوبہ سندھ اور صوبہ بلوچستان سے انہیں کی نسلوں سے غیرت مند ہمدرد محب الصوبہ محب الوطن اور محب القوم پیدا ھو جو ان خطوں کی قسمت چمکا دے آمین یا رب العالمین پچھہتر سالوں سے سندھ اور بلوچستان کے اصل مجرم اور قصور وار یہاں کے وڈیرے جاگیردار اور سردار ہیں جو ترقی و خوشحالی تعلیم و ہنر اہلیت و قابلیت کے اصل دشمن ہیں یہ ڈرتے ہیں کہ ان کی غلام قوم ان کے سامنے حق و سچ بات کہنے اور انسانی اقدار کو سمجھنے سوچنے کی صلاحیت پیدا نہ کرلیں کہیں ان میں شعور بیدار نہ ھوجائے۔۔۔۔۔!!
