*ٹائٹل : بیدار ھونے تک*
*عنوان : پاکستان کو آگے بڑھنا ھے ۔۔۔!!*
*کالمکار : جاوید صدیقی*
ریٹائرڈ جنرل حمید گل کے ایک ایک الفاظ آج بھی کانوں میں تروتازہ موجود ھیں وہ ایک نہایت ذہین، قابل، دیانتدار اور دیندار جرنل تھے، ایک جانب ان میں عشق رسول ﷺ بھرا ھوا تھا تو دوسری جانب ملک و قوم اور ریاست سے والہانہ لگاؤ بھی موجود تھا، آپ کی تقریر آج بھی یاد ھے جس میں انھوں نے افواج پاکستان کے چند بڑے اشخاص کو متنبہ کرتے ھوئے ان گندے غلیظ مورثی سیاستدانوں، رہنماؤں اور حکمرانوں سے دور رہیں اور خود کو سیاست سے پاک رکھیں لیکن کھلی آنکھ سے پاکستان کے تحفظ کو یقینی بنائیں چاہے وہ بارڈر سے متعلق ھوں یا معاشی و اقتصادیت سے متعلق ھوں کیونکہ خوشحالی ہی مضبوطی کی ضمانت ہوتی ھے اور انھوں نے متنبہ کرتے ھوئے چند اہم عسکری شخصیات کو اصلاحی انداز میں مشورہ دیا کہ کرپٹ سیاستدانوں، رہنماؤں اور حکمرانوں کی قربت سے فاصلہ رکھیں وگرنہ چند منصب اعلیٰ کی غفلت و کوتاہی کے سبب پوری افواج قوم میں اپنا عزت و وقار کھو بیٹھے گی۔ کچھ عوامی طبقات کے مطابق بظاہر ایسا ہی محسوس ھوا ھے لیکن کچھ عوامی طبقات کا کہنا ھے کہ ان گندوں، غلیظ اور جھوٹے سیاستدانوں، رہنماؤں اور حکمرانوں کے کاکے کرتوت کو پوری طرح سچائی کیساتھ عیاں کرنا وقت کی ضرورت بن گیا ھے کیونکہ ستر سالوں سے زائد انہی کرپٹ سیاستدانوں، رہنماؤں اور حکمرانوں نے ملک و قوم کو تباہی و بربادی میں دھکیلنے کے سوا کچھ نہیں دیا اور خود راجہ اِندر بنے بیٹھے رھے، جیسے یہ ملک انکے باپ کی جاگیر ھو اور اپنے خاندان در خاندان کو دولت سے مالا مال کیا، کرپشن، لوٹ مار، بدامنی، بیروزگاری، عدم تحفظ اور غربت کے نئے ریکارڈ قائم کیئے۔ احتساب اور احتسابی عمل کو اپنی لونڈی بنائے رکھا اور ہر احتسابی کیس کو پاؤں تلے کچل دیا، ہر کرپٹ سیاستدان ہو یا رہنما و حکمران خود کو اور اپنے خاندان کو آئینی و قانونی طور آزاد سمجھتا رھا بلکہ یوں سمجھئے کہ جہاں پر انکا پہلا قدم اٹھتا اور جہاں پر انکا قدم رکتا وہیں سے جو وہ چاہیں جس طرح چاہیں انکے مطابق وہی قانون بن جاتا گویا آئین و دستور انکے غلام ھوں۔ پاکستانی عوام نے دیکھا کہ سابقہ حکومتوں میں اسمبلیوں میں صرف اور صرف پارلیمینٹیرین کی حق میں ہر طرح کی سہولت اور تحفظات کے تحت قانون سازی کی جاتی رہیں اور آرڈینس در آرڈینس جاری کئے جاتے رھے لیکن ان ستر سالوں میں عوامی و فلاحی امور میں سنجیدگی، خلوص دیانتداری اور سچائی نہیں ملی بلکہ عوامی جذبات و احساسات اور انکے ووٹ کا صرف مزاق اڑایا گیا۔ انہیں بدھو، جاہل، گنوار اور جانور سمجھ کر ملکی و مالیاتی بوجھ ٹیکس در ٹیکس اور مہنگائی کی صورت میں پیش کرتے رھے، وقت کبھی یکساں نہیں رہتا اور ظالموں کے ظلم بالآخر اپنے انجام کو پہنچ جاتے ھیں۔ الحمدللہ!! اب وقت آچکا ھے کہ عوام میں سیاسی و سماجی اور دینی شعور بیدار ھورھا ھے اور لوگ عصبیت، تعصب، لسانیت، مسلکیت سے قید سے آزاد ھورھے ھیں اب لوگ وہی دین کی طرف بڑھ رھے ھیں جو رسول خدا ﷺ نے اس امت کو ریاست مدینہ میں دین الہٰی دیا اور دین محمدی ﷺ کو روشن پھیلایا اور پھر زمانے نے دیکھا کہ آپ ﷺ کے غلاموں نے خلافت کا ایسا نظام جاری کیا جو مکمل دین محمدی ﷺ پر رائج تھا اور اسی نظام خلافت کے سبب تین چوتھائی دنیا پر حکومت کی۔۔۔۔معزز قارئین!! اگر آج کی سیاسی صورتحال کو دیکھتا ھوں تو محسوس ھوتا ھے کہ یہ کامیاب ھونے والے سیاستدان و رہنما اور سیاسی جماعتیں ایسے گیم میں بُری طرح سے پھنس گئے ہیں، اگر ن لیگ حکومت نہیں بنائے گی تو محترم ان کو سخت سزا دیں گے اور اگر پیپلز پارٹی اتحاد نہیں کرے گی تو ن لیگ حکومت نہیں بنا پائے گی اور اگر یہ دونوں پارٹیاں اپوزیشن میں بیٹھیں گی تو خان ان کو وہاں سے چھوڑے گا نہیں اور اگر ن لیگ حکومت بناتی ہے تو ان کو پتہ ہے یہ ملک ہم سے نہیں چلے گا اور جب ملک نہیں چلے گا تو اس بار عوام ہوشربا مہنگاٸی کی وجہ سے الگ ان کا سخت احتساب کرے گی، ووٹ پر ڈاکا مارنے کے چکر میں الگ رسوائی اور بے عزتی سے دوچار ہونگے اگر پیپلز پارٹی، ن لیگ کیساتھ الحاق کر بیٹھتی ھے تو سمجھ جائیں پیپلز پارٹی کی تھوڑی بہت سیاست بھی ختم ھوجائے گی تو ان سب کے پاس ممکن ھے آخری حل یہی ھے کہ اپنا اپنا بوریاں بستر اُٹھائیں اور بیرون ملک بھاگ جائیں مگر محترم ان کو ایسا نہیں کرنے دیں گے، اب تو پوری دنیا جان چکی ہے یہ سب منتخبین چور ہیں ان کی حکومت باہر کے کسی ملک نے بھی نہیں ماننی اور نہ ہی ان کو کسی ملک نے امداد دینی ہے کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ یہ عوام کے حق پر ڈاکا مار کر آئے ہیں۔ اس صورتحال میں سب سے پہلے محترم اپنے ملک اور افواج کے تقدس کو سنبھالتے ھوئے پاکستانی عوام اور دنیا کو بآور کرانے میں کامیاب ھوجائیں گے کہ تم بیرونی طاقتیں وطن عزیز پاکستان میں ان جیسے غلیظ و خبیث کی ہر طرح تحفظ فراہم کرتے ھیں، اب پاکستانی قوم سے کچھ پوشیدہ نہیں ان سب کو اپنے انجام تک پہنچنا ھوگا کیونکہ "پاکستان کو آگے بڑھنا ھے۔”
