BBC Urdu TV

*عنوان: پاکستان خوفزدہ ملک نہیں۔۔۔!!*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: پاکستان خوفزدہ ملک نہیں۔۔۔!!*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

دنیا میں اسلامی ممالک لگ بھگ تاون کے قریب ہیں ان ستاون اسلامی ممالک میں معاشی و اقتصادی اور سیاسی و انتظامی طور پر سب سے کمزور لاغر اور بے ایمان غیر مخلص حکمران سیاستدان سائنسدان صحافی اور بااختیار چند کے علاوہ اکثریت ہیں اسی سبب ہم اپنے ملک کو بد قسمت کہنے پر مجبور بھی ہیں کیونکہ ہماری قوم نہیں بلکہ کرچیاں ہیں جو لسانیت تعصب اقربہ پروری کے سبب چھوٹے چھوٹے قبیلوں ذاتوں مسلکوں میں منقسم ہوکر رہ گئی ھے اور اس قوم کو اس حالت میں چند مفادپرست خودغرض منافق اور ملک دشمنوں کے آلہ کاروں نے اپنی سازشوں مکاریوں عیاریوں چالاکیوں اور دھوکے کیساتھ کئے ہیں۔ سلام ہو ان تمام عظیم شہداؤں اور غازیوں پر جنہوں نے تحریک پاکستان کے موقع پر ہر طرح کی قربانی دیکر ریاست پاکستان کے وجود میں اپنا حصہ ڈالا ہم انہیں عظیم ترین اس لئے کہتے ہیں کہ اللہ اور اسکے حبیب ﷺ کے منشاء حکمت اور دانائی کے سبب پاکستان کا وجود ہونا لازمی تھا اور پھر سلام پیش کرتے ہیں پاکستان کے دو عظیم شہداء سیاستدانوں شہید محترم ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو پر کہ جنکے خلوص نیک نیتی اور وطن پرستی کے سبب آج پاکستان دنیا کے سب سے بڑے خطرناک طاقتور اور جدید تر ایٹمی وقت کا مالک ہے، بھٹو نے ایٹمی پلان شروع کروایا اور معاون کو بھی سلام اسمگلر سیٹھ عابد مرحوم کو جنھوں نے ایٹمی سامان کو خفیہ طریقے سے پاکستان پہنچایا اور سلام ہے اس عظیم سائنسدان اور مخلص پاکستان ڈاکٹر قدیر احمد خان پر کہہ جس نے صرف وطن اور اسلام کے خاطر اپنی زندگی کا محور پاکستان کو بہترین ایٹمی طاقت بنانا تھا اور بنایا۔ یہ حقیقت ہے کہ من الحیث القوم ہم میں اتفاق و اتحاد کی شدید کمی ھے یہی سبب ہے کہ دشمن اور اسکے سہولتکار بآسانی ہم قوم میں گمراہی پھیلانے میں کسی طور پریشانی نہیں ہوتی لیکن دشمنانان پاکستان اور اسلام یہ بھول جاتے ہیں کہ اس ملک کی حفاظت خود اللہ نے لے رکھی ھے یہی سبب ھے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ المنورہ والے ملک سعودی عرب کو انکے حال پر چھوڑ دیا ھے سوائے مکہ و مدینہ کی حفاظت کے اسی لئے انہیں دشمنوں کے مقابل طاقت سے محروم رکھا جبکہ دنیا بھر کی دولت سمیٹ کر عربوں کو عطا کردی لیکن پاکستان مفلسی تنگدستی اور مقروضیت کے باوجود دنیا کا سب سے بڑا طاقتور ایٹمی ملک ھے۔ آج اسرائیل، امریکہ، بھارت سمیت یورپ پاکستان سے خائف اس لئے رہتا ھے کہ پاکستان کی وار دنیا کے ہر ملک تک پہنچ چکی ھے۔ اس سارے عوامل میں جو چند ایک بدکرداری کا عمل کرتے رہے ان میں ثمر مبارک کی سازشیں اور عیاریاں قابل تکلیف رہیں۔ سابق صدر غلام اسحاق خان کا کردار بھی بہترین رہا۔ آج پاکستان جو مقام اعلیٰ حاصل کر بیٹھا ھے وہیں پاکستان کے مخلص بیٹوں نے بہت کٹھن مشکلات پریشانی تکالیف اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا یہ منفی عناصر کوئی اور نہیں بلکہ اپنے ہی ملک کے باشندے شہری مختلف اعلی ٰ منصبوں، عہدوں پر فائز تھے۔ ہمیں اچھی طرح یاد رکھنا چاہئے کہ ایٹمی پلان اور طاقت میں پاک افواج کا کردار لاثانی بے مثال رھا ھے اور کیوں نہ ہو اس وطن کے محافظ آپ ہی ہیں۔ دنیا کا سب سے بڑا دہشتگرد ملک امریکہ، دنیا کا بدترین، بداخلاق، بدکردار اور انسانیت کا دشمن ملک امریکہ ہی ہے۔ امریکہ کی تاریخ رہی ہے کہ سلطنت عثمانیہ کے دور سے ہی مسلمانوں میں نفرت تعصب عصبیت لسانیت اقربہ پروری اور مسلکیت کی تقسیم کرکے مسلم ریاستوں کو تہہ و بالا کرنے میں ہمیشہ سے لگے رھے یہی عمل انگلستان کا بھی رھا۔ آج ستاون مسلم ممالک میں انہی دونوں ملکوں لومڑی اور گیڈر یعنی امریکہ اور برطانیہ نے اپنی روش قائم رکھی ہوئی ھے اور انیس و بیس ویں صدی میں کتنے اسلامی ممالک کو تباہ کیا یہ تاریخ میں موجود ہیں ان مسلم ممالک کی تباہی و بربادی خود انکی غفلت اور ناکامی کو ظاہر کرتا ھے لیکن شکر ہے اللہ نے پاکستان کو چند ایک سہی لیکن بہترین عظیم ترین لوگ عطا کئے جنھوں نے پاکستان کو چار چاند لگادیئے۔ اب وقت ہے متحد اور اتفاق و اتحاد میں مضبوطی کیساتھ جمع رہنے کی ایک بار پھر تمام ناکامی کے بعد امریکہ پاکستان پر دباؤ ڈالنا چاہتا ھے جو اسے بھی خبر ہے کہ پاکستان اس کی کسی بھی مکاری عیاری اور سازش کا حصہ نہیں بنے گا اور بھی اپنی دنیا بھر میں جگ ہنسائی کروائے گا۔ اس پر بات کرنے سے قبل اپنے شعبہ میڈیا کی عظیم شخصیت اور میرے استاد جناب ناصر بیگ چغتائی صاحب کی تحریر شامل کرکے اپنے قارئین کو حقائق سے روشناس کراؤنگا۔ استاد محترم کی تحریر کو حاصل کرنا شاگرد کا ہی حق ہوتا ھے میرے استاد محترم جناب ناصر بیگ چغتائی جو این جی سی کے نام سے معروف ہیں۔ حالیہ پاک امریکہ تعلقات اور بحث پر آپ لکھتے ہیں کہ امریکا کو ابابیل سے خوف اگنی سے عشق یاالہیٰ یہ ماجرا کیا ہے، پوکھران پر چپ چاغی پر شور شرابا۔۔۔امریکا نے کل پاکستان کے میزائل پروگرام میں مبینہ سہولت کاری کے الزام میں کچھ کمپنیوں پر پابندی لگائی۔ یہ پابندیاں نئی نہیں ان کا سلسلہ بھٹو شہید کے دور میں اس وقت شروع ہوا جب امریکی انٹیلی جینس کی مکمل ناکامی کے بعد تاخیر سے یہ علم ہوا کہ پاکستان ایٹمی پروگرام شروع کرچکا ہے ۔ ایسی ایسی پابندیاں لگیں کہ بیرون ملک سے وطن واپس آنے والے سینکڑوں افراد کو مشکوک سمجھ کر روکا گیا تلاشی لی گئی اور بال بیرنگ جیسی معمولی چیزیں بھی ضبط کی گئیں۔ کانگریس نے پاکستان پر پابندیاں لگائیں مگر پاکستان کا ایٹمی پروگرام جاری رہا۔۔۔۔ یہ بہت خفیہ تھا کبھی کبھی کبھی مشاہد حسین سید جیسے اہم صحافیوں کے ذریعے ” آئس برگ ” کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا دکھا کر چھپا لیا۔۔۔ یہ دنیا کو وارننگ تھی کہ جی آپ کی ساری پابندیاں ناکارہ رہیں۔ پھر بے نظیر کے دور میں تاریخی میزائل پروگرام شروع ہوا ۔۔۔۔اس دور میں ڈاکٹر عبدالقدیر سے میری تفصیلی ملاقات ہوئی جب میں نے پوچھا کہ اس دور میں طیارے سے بم گرانا ” آوٹ آف فیشن ” ہے تو انہوں نے ہنس کر کہا تھا کہ ” فکر نہ کریں یہ کام بھی ہوگیا ہے ” سو یہ خبر کہ پاکستان نے ایٹمی میزائل تیار کرلیا ہمارے سعودی پبلیکیشنز کے کوئی ایک درجن اخبارات میں شائع ہوئی۔ پاکستان کا میزائل پروگرام اس وقت بہت ایڈوانس اسٹیج پر ہے۔ اب جو تجربات ہورہے ہیں وہ نئی نئی صلاحیت کے حصول کو ٹیسٹ کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ ماضی کو چھوڑیں صرف lame duck صدر بائیڈن کے دور میں چار بار لگی سب سے بدنام پریسلر ترمیم تھی ہر موڑ ہر قدَم پر پابندی لگی۔ مجموعی طور پر ایک درجن سے زیادہ پابندیاں پہلے ہی پاکستان کے میزائل پروگرام پر نافذ ہیں۔ اس لئے اس کو صرف مسترد کرنا ہی کافی ہوگا۔ کل کے بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکا کو پاکستانی میزائل ابابیل سے ” ڈر ” لگ رہا ہے۔ یہ بیلسٹک میزائل ہندوستانی میزائل کی طرح ” ملٹی وار ہیڈ” والا ہے جو ایک ساتھ کئی گولے دور فاصلے تک لے جاسکتا ہے اور دشمن کی دفاعی شیلڈ کو کنفیوز کرسکتا ہے مگر جب ہندوستان نے ایسا ہی میزائل تیار کیا تو واشنگٹن چپ چاپ رہا یہاں بُنتی ثابت ہوتی ہے۔۔۔ پہلے کی طرح ۔۔۔ پوکھران پر چپ اور چاغی پر شور ۔۔۔ یہ دو چہرے والی سفارت کاری ہے۔۔۔ کل ایک سینئیر امریکی اہلکار نے کہا پاکستان نے ایک ایسی’کار گر میزائل ٹیکنالوجی‘ تیار کر لی ہے جو اسے امریکہ کو بھی نشانہ بنانے کے قابل بنائے گی۔‘ یہ بات گھر جانے والی انتظامیہ کے نائب مشیر قومی جان فائنر نے کہی ۔ لیکن ہندوستان کے براہموس کے بارے میں ان کے ہونٹ اور زبان نہیں کھلی۔ ان کا کہنا ہے کہ ”اگر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو پاکستان کے پاس جنوبی ایشیا سے باہر بھی اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت آ جائے گی، اس میں امریکہ بھی شامل ہے اور اس چیز سے پاکستان کے ارادوں پر حقیقی سوالات اُٹھتے ہیں۔“ انہوں نے پاکستان کو روس چین کی فہرست میں دیکھا ہندوستان انہیں نظر نہیں آیا۔۔۔ ایک طرف تو وہ پاکستان کو ” طویل عرصے سے امریکہ کا پارٹنر” قرار دیا اور پھر پوچھا کہ پاکستان ایسی صلاحیت کیوں حاصل کر رہا ہے جو ہمارے خلاف استعمال ہو سکے۔‘پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلقہ اداروں اور سپلائزر پر امریکی پابندیوں کا سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آرہا اور اس سال میں تیسری مرتبہ بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کی معاونت کے الزام میں مزید چار اداروں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ بدھ کے روز پابندیوں کا اعلان کرنے سے قبل بھی امریکا ستمبر میں ایک چینی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور کئی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرچکا ہے الزام یہی کہ وہ پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے لیے آلات اور ٹیکنالوجی کی فراہمی میں ملوث ہیں۔ اپریل میں چین کی تین اور بیلاروس کی ایک کمپنی جبکہ اکتوبر 2023 میں پاکستان کو بیلسٹک میزائل پروگرام کے پرزہ جات اور سامان فراہم کرنے کے الزام میں چین کی تین مذید کمپنیوں پر اسی طرح کی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ دسمبر 2021 میں بھی 13 پاکستانی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں ۔۔۔ الزام تھا کہ بیجنگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف آٹومیشن فارمشین بلڈنگ انڈسٹری (آر آئی اے ایم بی) بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اور ان کی ترسیل میں ملوث ہے اور اس نے شاہین تھری اور ابابیل میزائل سسٹمز اور ممکنہ طور پر اس سے بھی بڑے سسٹمز کے لیے راکٹ موٹرز کی جانچ کے لیے آلات کی خریداری کے سلسلے میں پاکستانی ادارے نیشنل ڈویلپمنٹ کامپلیکس (این ڈی سی) کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔ جن کمپنیوں پر پابندی لگی ان میں چین کی ہوبئی ہوا چانگدا انٹیلیجنٹ ایکوپمنٹ، یونیورسل انٹرپرائز، ژیان لونگدے ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ اور پاکستانی کمپنی انوویٹیو ایکوئپمنٹ بھی شامل ہیں۔ سابقہ امریکی پابندیاں اپریل میں چین کی تین اور بیلاروس کی ایک کمپنی جبکہ اکتوبر 2023 میں پاکستان کو بیلسٹک میزائل پروگرام کے پرزہ جات اور سامان فراہم کرنے کے الزام میں چین کی تین مزید کمپنیوں پر اسی طرح کی پابندیاں عائد کی تھیں۔ اس کے علاوہ دسمبر 2021 میں امریکی انتظامیہ نے پاکستان کے جوہری اور میزائل پروگرام میں مبینہ طور پر مدد فراہم کرنے کے الزام میں 13 پاکستانی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ زیادہ شکایت بلیسٹک میزائل شاہین تھری (رینج 2750 کلومیٹر) اور ابابیل ( رینج 2200 کلومیٹر) شامل ہیں جو ملٹیپل ری انٹر وہیکل یا ایم آر وی میزائل کہلاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے یہ کہ پاکستان کے میزائل ہتھیاروں میں یہ سب سے موثر ہیں۔ بی بی سی ۔۔۔۔ کینبرا نیشنل یونیورسٹی میں اسٹریٹیجک اور ڈیفینس اسٹڈیز کے ڈاکٹر منصور احمد نے ابابیل کو ایشیا میں پہلا ایسا میزائل قرار دیا ہے جو 2200 کلومیٹر کے فاصلے تک متعدد وار ہیڈز یا جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور مختلف اہداف کو نشانہ بناسکتا ہے۔ ابابیل میزائل میں موجود ہر وار ہیڈ ایک سے زیادہ اہداف کو نشانہ بناسکتا ہے۔ ابابیل ایسے ہائی ویلیو اہداف کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے جو بیلسٹک میزائل ڈیفنس کی وجہ سے محفوظ ہو ۔۔۔۔ سوال ۔۔۔۔ ابابیل میزائل ( مار 2700 کلومیٹر ) سے خوف
ہندوستانی اگنی 5 ( 8000 کلومیٹر ) سے یارانہ ؟ پبلک سب جانتی ہے انکل سام ۔۔ پہلے بھی جانتی تھی کہ بھٹو کی پھانسی کیوں ہوئی یہ بھی کہ پاکستان کو بار بار چھوٹا سمجھ کر استعمال کیا گیا پھر نائیلون کے موزوں کی طرح پھینک دیا گیا ۔۔۔۔ یہ بھی پتہ ہے کہ ہندوستان سے یہ عشق کیوں۔۔۔
چلیں یہ پابندیاں بھی لسٹ میں شامل کرلیتے ہیں (پابندیوں کی تفصیلات مختلف ویب سائٹس اور خود سرکار امریکا کے صفحات پر موجود ہیں مختلف چینلز پر کل کی گفتگو۔ ابابیل سے کیوں ڈرتے ہو کہنے کے بعد پروگرام ختم ہوا تو ایک بزرگ کا فون آیا وہ کہہ رہے تھے میاں یہ ابابیل ہی سے تو ڈرتے۔ اصحاب فیل پڑھ جاو) ۔۔۔ یہ تحریر میں نے اپنے صحافت کے استاد محترم ناصر بیگ چغتائی "این بی سی” کے فیس بک وال سے لی ھے۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! حقیقت تو یہ ہے کہ بلاوجہ جنگ و جدول میں گھس کر رہنے کے سبب امریکہ بری طرح معاشی و اقتصادی اور مالیات کے شدید بحران میں مبتلا ھے، اپنی حالت پر پردہ ڈالنے کیلۓ مصنوعی اور فریبی عمل کرنا شروع کردیئے ہیں۔ امریکہ دنیا کا بدترین، بےغیرت اور غلیظ، مکار، دھوکہ باز ملک ھے جو برے وقت میں تنہا چھوڑ جاتا ھے۔ نجانے کیوں ہمارے حکمران اور پلانرز اس وطن عزیز سے مخلص نہیں کیونکہ انکی ناقص پالیسیوں ناکارکردگی کے سبب عوام مہنگائی اور ٹیکس کے دباؤ میں اس قدر دب کر رہ گئی کہ اب جینا محال ہوگیا ھے۔ افواج پاکستان کے تمام فور اسٹارز کی ذمہداری آئینی و دستوری عائد ہوتی ھے کہ وہ دشمنانان پاکستان کے سہولتکاروں کو بے نقاب کرتے ہوئے انکی تمام چالوں کو ناکام بناتے ہوئے ایک خوشگوار ماحول پائیدار امن اور بہترین تحفظ فراہم کریں، قومی مالیاتی تحفظ کی ذمہداری بھی انہی کے ہاتھوں میں ہے، ہمارا ملک کئی بار دیوالیہ کے قریب ہوا جنکی وجہ سے ہوا انہیں سزائے موت کیوں نہیں دی گئی۔ ہماری ایجنسیاں ان منفی عناصر کے سامنے بے بس کیوں نظر آتی ہیں اگر ہمارا اور ہمارے ملک کا تحفظ مضبوط ہاتھوں میں ہے تو ایسے منفی عوامل کیوں پیدا ہوتے ہیں سوال تو بنتا ھے۔ جو دین محمدی ﷺ میں سزا و جزا ھے اسے فوری نافذ کیا جائے وگرنہ ملک تباہ حالی و بربادی کے بھنور سے کبھی بھی نہیں نکل سکے گا اور شدید انکارکی پھیلی گی، قرآن کو پڑھیں سمجھیں اور عمل کریں اسی میں ہم سب کی بھلائی خوشحالی ترقی و کامرانی اور حکمرانی شامل ھے۔۔۔۔۔!!

Exit mobile version