BBC Urdu TV

عنوان: پاکستان بد قسمت یا خوش قسمت ۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: پاکستان بد قسمت یا خوش قسمت ۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

آج سے پچھہتر سال قبل برصغیر پاک و ہند میں دو قومی نظریہ پر سرگرم تحریکیں چلیں جنمیں تحریک خلافت دوسری تحریک پاکستان درحقیقت تحریک خلافت ہی تحریک پاکستان کی بنیاد ٹھری کیونکہ تحریک خلافت میں ایسی ریاست جس میں اسلامی نظام رائج ھو جیسے خلفائے راشدین اور بعد کے آنے والے خلافت کے ادوار۔ قائداعظم محمد علی جناح نے جب کانگریس میں رہتے ھوئے حق الیقین کے ساتھ جان لیا کہ اس خطے برصغیر پاک و ہند میں غاضب انگریز چالاک و مکار حکمران جاتے جاتے مسلمانوں کیلئے راہِ رکاوٹیں کھڑی کردیں گے تو آپ نے حکمت دانائی ہوشمندی سیاسی صلاحیتوں سے ہندوستانیوں کو بتادیا کہ مسلمان اپنا نظریہ تشخص اور مذہب رکھتا ھے جبکہ ہندوؤں کا مذہب مکمل اسلام کے برخلاف ھے اسی بابت ہندوستان کے مسلمان اپنا ایک الگ ملک چاہتے ہیں جو اسلامی ریاست پر مبنی ھے بالآخر لاکھوں جان و مال کی قربانی کے بعد پاکستان معروضِ وجود میں آیا تھا یاد رھے الله کو قربانی سب سے زیادہ پسند ھے اسی لیئے نیک اور پاک عزم کیلئے قربانی دی جاتی ھے جیسے حضرت اسماعیل نے قربانی پیش کی۔ جیسے کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام نے قربانی پیش کی۔ جیسے تحریک پاکستان کے وقت ایمان والوں نے قربانی پیش کیں اسی طرح افغانستان میں ایمان والے مجاہدین نے بھی قربانی پیش کی۔ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین مسلسل کئی سالوں سے قربانی پیش کررھے ہیں۔۔۔۔ معزز قارئین !! آج کا کالم میں اپنی نئی نسل کیلئے لکھ رھا ھوں کہ وہ جان سکیں کہ آج کے سیاستدان کس کس کی نسل سے ہیں اور ان کے آباؤاجداد کیا تھے ھم جنہیں سر پر بیٹھا رھے ہیں وہ سر کے قابل ہیں یا جوتے کی نوک کے بحرحال اس کیلئے مجھے تاریخ کی کئی کتب سے سہارا لینا پڑا ھے تاکہ حقائق میں شک و شبہات کی گنجائش نہ رہ سکے ان کتب میں ڈکٹیٹر کون ۔۔ ایس ایم ظفر
میرا سیاسی سفر۔۔حسن محمود کی کتاب فاطمہ جناح۔۔ابراھیم جلیس کی کتاب مادرملت۔۔ ظفر انصاری کی کتاب فاطمہ جناح۔۔حیات وخدمات۔۔ وکیل انجم اور کئی پرانی اخبارات پڑھیں اور جانے اپنا ماضی ریاض خالق کی وال سے منتخب کئے گئے ہیں۔۔۔۔ معزز قارئین !! ھماری نئی نسل سے اصل تاریخ جو چھپالی گئی ہیں پیش خدمت ھے ۔۔۔۔۔۔!! پاکستان میں پہلی دھاندلی سنہ انیس سو پینسٹھ عیسوی کے صدارتی الیکشن میں فوج، بیوروکریٹس، پیروں اور وڈیروں کےگٹھ جوڑ سے ہوئی جس کے بعد حق و سچ کا ساتھ دینے والے کتنے ہی لوگ جنہوں نے پاکستان کیلئے سب کچھ قربان کردیا تھا غدار کہلائے اور کیسے کیسے لوگ معتبر بن بیٹھے۔ سنہ انیس سو پینسٹھ عیسوی کے صدارتی الیکشن میں پہلی دھاندلی خود فیلڈ مارشل ایوب خان نے کی جو پہلے الیکشن بالغ رائے دہی کی بنیاد پر کروانے کا اعلان کرکے مُکر گئے۔ ایوب خان کے منہ بولے بیٹے ذوالفقار علی بھٹو نے مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کو بڑھیا اور ضدی کے القابات سے نوازا لیکن دوسری طرف جماعت اسلامی کے مولانا ابو الاعلیٰ مودودی، سندھ سے جی ایم سید اور صوبہ سرحد سے خان عبدالغفار خان نے جبکہ مشرقی پاکستان سے شیخ مجیب الرحمٰن نے کھل کر اور دبنگ انداز میں فاطمہ جناح کی حمایت کی۔ جس کا غصہ ایوب نے یوں نکالا! جماعت اسلامی کے مولانا مودودی کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی، جی ایم سید ملک کے غدار ٹہرے، خان عبد الغفار خان کو پٹھانوں کا دشمن اور شیخ مجیب الرحمٰن کو ملک توڑنے کا الزام لگا کر بنگلہ دیش بنوا دیا گیا! یہ سارا منصوبہ ایوب خان کی انتظامی مشینری نے ترتیب دیا تھا اور الیکشن تین طریقوں سے لڑنے کا فیصلہ کیا۔ پہلا مذہبی سطح پر
جس کے انچارج پیر آف دیول شریف تھے جنہوں نےمحترمہ فاطمہ جناح کے خلاف فتوے نکلوائے۔ دوسرا انتظامی سطح پر ایک حاضر سروس طاقتور صدر کے حق میں پوری سرکاری مشینری استعمال کی گئی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج بھی الیکشن سرکاری ملازمین کے دباؤ سے جیتے جاتے ہیں۔
محترمہ فاطمہ جناح کے حامیوں پر جھوٹے مقدمات درج کئے گئے۔ عدالتوں سے ‏ان کے خلاف فیصلے لئے گئے
اور یہی عدلیہ کے تابوت میں پہلی اور آخری کیل ثابت ہوئی جو آج تک ٹھکی ھوئی ہے۔ سندھ کے تمام جاگیردار گھرانے ایوب خان کے ساتھ ہوگئے تھے۔ بھٹو فیملی، جتوئی فیملی، محمد خان جونیجو فیملی، ٹھٹھہ کے شیرازی، خان گڑھ کے مہر نواب شاہ کے سادات، بھرچونڈی۔ رانی پور۔ ‏ہالا کے اکثر پیران عظام، ایوب خان کے ساتھ تھے۔ سوائے کراچی میں گہری جڑیں رکھنے والی جماعت اسلامی، اندرون سندھ کے جی ایم سید_ حیدرآباد کے تالپور برادران، بدین کے فاضل راہو اور رسول بخش پلیجو
محترمہ فاطمہ جناح کے حامی تھے۔ تاریخ کا جبر دیکھیں یہی لوگ بعد میں پاکستان کے غدار بھی ٹہراےُ گئے اور آج بھی جماعت اسلامی اس کی سزا کسی نہ کسی پروپیگنڈا کی شکل میں بھگت رہی ہے۔ پنجاب کے تمام گدّی نشین اور صاحبزادگان و سجادہ نشین سوائے پیر مکھڈ۔ صفی الدین پیر آف دیول نے داتا دربار پر مراقبہ کیا اور فرمایا کہ داتا صاحب نے حکم دیا ہے ایوب خان کو کامیاب کیا جائے ‏ورنہ خدا پاکستان سے خفا ہوجائے گا۔
آلو مہار شریف کے صاحبزادہ فیض الحسن نے عورت کے حاکم ہونے کے خلاف فتوی جاری کیا۔ معراج الدین نے فاطمہ جناح پر اخلاقی بد دیانتی کا الزام لگایا موصوف موجودہ بیمار
‏وزیر صحت یاسمین راشد کے سسر تھے۔ گجرانوالہ کے غلام دستگیر نے محترمہ فاطمہ جناح کی تصویریں کتیا کے گلے میں ڈال کر پورے گجرانوالہ میں جلوس نکالے۔ میانوالی کی ضلع کونسل نے فاطمہ جناح کے خلاف قرار داد منظور کی۔
دوسری طرف جماعت اسلامی کے امیر مولانا سید ابو الاعلی مودودی کا ایک جملہ زبان زد عام ہوگیا۔ ایوب خان میں ‏اس کے سوا کوئی خوبی نہیں کہ وہ مرد ہیں اور فاطمہ جناح میں اس کے سوا کوئی کمی نہیں کہ وہ عورت ہیں۔ بلوچستان میں مری سرداروں اور جعفر جمالی ظفر اللہ جمالی کے والد صاحب کو چھوڑ کر سب فاطمہ جناح کے خلاف تھے۔ قاضی محمد عیسٰی جسٹس فائز عیسٰی کے والد مسلم لیگ کا بڑا نام ‏بھی فاطمہ جناح کے مخالف اور ایوب خان کے حامی تھے۔
انہوں نے کوئٹہ میں ایوب خان کی مہم چلائی تھی۔
حسن محمود نے پنجاب اور سندھ کے روحانی خانوادوں کو ایوب کی حمایت پر راضی کیا۔ شیخ مسعود صادق نے ایوب خان کے لئے وکلاء ‏کی حمایت کا سلسلہ شروع کیا کئی لوگوں نے ان کی حمایت کی، پنڈی سے راجہ ظفرالحق بھی ان میں شامل تھے۔ اس کے علاوہ میاں اشرف گلزار بھی فاطمہ جناح کے مخالفین میں شامل تھے۔ صدارتی الیکشن سنہ انیس سو پینسٹھ عیسوی کے دوران گورنر امیر محمد خان صرف چند لوگوں سے پریشان تھے
ان میں سرفہرست سید ابو الاعلی مودودی، ‏شوکت حیات، خواجہ صفدر والد خواجہ آصف، چودھری احسن والد اعتزاز احسن، خواجہ رفیق والد سعدرفیق، کرنل عابد امام والد عابدہ حسین اور علی احمد تالپور شامل تھے یہ لوگ آخری وقت تک فاطمہ جناح کے ساتھ رہے۔ صدارتی الیکشن کے دوران فاطمہ جناح پر پاکسان توڑنے کا الزام بھی لگا۔ یہ الزام زیڈ اے سلہری نے ‏اپنی ایک رپورٹ میں لگایا جس میں محترمہ فاطمہ جناح کی بھارتی سفیر سے ملاقات کا حوالہ ديا گیا تھا۔ یہ بیان کہ قائد اعظم تقسیم کےخلاف تھے یہ وہی تقسیم تھی جس کا پھل کھانے کیلئے آج سب اکٹھے ہوئے تھے۔ یہ اخبار ہر جلسے میں لہرایا گیا۔ ایوب اس کو لہرا لہرا کر محترمہ فاطمہ جناح کو غدار کہتے رہا۔ پاکستان کا مطلب کیا
‏لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللہ مُحَمَّدُ الرَّسُوْلُ اللہ
جیسی نظم لکھنے والے اصغر سودائی ایوب خان کے قصیدے اور ترانے لکھتے تھے۔ اوکاڑہ کے ایک شاعر ظفر اقبال نے چاپلوسی کے ریکارڈ توڑ ڈالے یہ وہی ظفراقبال ہیں جو بعد میں اپنےکالموں میں سیاسی راہنماؤں کا مذاق اڑاتے رہے۔
میانوالی جلسے کے دوران جب گورنر امیر خان کے غنڈوں نے فائرنگ کی تو فاطمہ جناح ڈٹ کر کھڑی ہوگئیں۔ اسی حملے کی یادگار۔۔ "بچوں پہ چلی گولی۔۔ماں دیکھ کے یہ بولی” ۔۔۔ نظم ہے۔ فیض صاحب خاموش حمائتی تھے
‏چاغی، لورالائی، سبی، ژوب، مالاکنڈ، باجوڑ، دیر، سوات، سیدو شریف،خیرپور میرس، نوشکی، دالبندین،ڈیرہ بگٹی، ہرنائی، مستونگ، چمن، سبز باغ سے فاطمہ جناح کو کوئی ووٹ نہیں ملا۔ سارا اردو اسپیکنگ طبقہ جو جماعت اسلامی کی طاقت تھا فاطمہ جناح کی حمایت کرتا رہا تھا۔ انہیں کراچی سے ایک ہزار چونسٹھ اور ایوب خان کو آٹھ سو سینتیس ووٹ ملے۔ ‏مشرقی پاکستان محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ تھا۔ فاطمہ جناح کو ڈھاکہ سے تین سو تریپن اور ایوب خان کو ایک سو ننانوے ووٹ ملے جس کی سزا اسٹیبلشمنٹ نے یہ دی کہ انہیں دو نمبر شہری اور پاکستان سے الگ ہونے پر مجبور کردیا گیا۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایوب خان اور محترمہ فاطمہ جناح کے ووٹ برابر تھے۔ فاطمہ جناح کے ایجنٹ ایم حمزہ تھے اور اے سی جاوید قریشی جو بعد میں چیف سیکرٹری بنے
‏محترمہ فاطمہ جناح کو کم ووٹوں سے شکست اکیلی عورت محترمہ فاطمہ جناح فوج، بیوروکریٹ، پیروں، وڈیروں، جاگیر داروں سے مقابلہ کررہی تھی۔ جہلم سے ایوب کے بیاسی اور فاطمہ جناح کے سرسٹھ ووٹ تھے
اس الیکشن میں جہلم کے چودھری الطاف فاطمہ جناح کے حمائتی تھے مگر نواب کالاباغ کے دھمکانے کے بعد پیچھے ہٹ گئے یہاں تک کہ جہلم کے نتیجے پر دستخط کیلئے ‏محترمہ فاطمہ جناح کے پولنگ ایجنٹ گجرات سے آئے اسطرح کی دھونس اور دھاندلی عام رہی۔ اس الیکشن میں فاطمہ جناح نہیں ہاریں بلکہ جمہوریت ہار گئی، پاکستان ہار گیا، جو محبِ وطن اور جان نثار تھے، غدّار ٹہرے اور اسمبلیوں اور ایوانوں سے ان کا خاتمہ ہوگیا۔ابن الوقت اور چاپلوسی کرنے والے معتبر ٹہرے اور آج بھی اسمبلیوں میں انہی ‏کی اولادیں موجود ہیں "اور ھم ان کے اور انکے آباؤاجداد کے نعرے بلند کرتے تھکتے نہیں انہیں جیوے جیوے، زندہ ھے زندہ ھے کے نعروں سے زندہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ انہیں مرے ھوئے کئی سال بیت گئے ہیں”۔ اس کے بعد پاکستان کی عوام نے کوئی نیا لیڈر پیدا نہیں کیا۔ ضرورت اس بات کی ہے کیا ہم اپنی سوچ بدلنا چاہتے ہیں؟ کہ نہیں یہ ھم سب کو پاکستان کیلئے سنجیدگی سے سوچنا ھوگا۔ الله نیک خاتون کو بعد موت بھی عزت و مقام سے نوازا ھے ہر ایک ان کی لحد پر محبت و عقیدت سے پہنچتا ھے اور دعائے استغفار کے نذرانے پیش کرتا ھے جبکہ ایوب خان اور اس کی چیلا اپنے انجام کو پہنچا کوئی انہیں نہ اہمیت دیتا ھے کہ قدر کی نگاہ سے دیکھتا ھے بیشک عزت و ذلت کا مالک واحد لاشریک الله ہی ھے۔ اقتدار کے نشے میں الله سے آگے نہیں بڑھنا چاہئے غرور و تکبر صرف الله کیلئے ھے انسان کیلئے شرک اور گناہ کبیرہ ھے غرور و تکبر کا انجام ذلت و رسوائی ھے۔۔۔ معزز قارئین!! آج ھم من حیث القوم چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں منقسم ہوکر ان غداروں، منافقوں، غاصبوں، جابروں، ظالموں، حق تلفوں، چوروں، ڈاکوؤں، لٹیروں اور ان کی اولادوں کے ہاتھوں پس کر رہ گئے ہیں انھوں نے ھم عوام کو لسانیت، تعصب، عصبیت، مسلکیت، نفرت، بغض و عناد جیسی زہریلی دماغی و جسمانی کینسر میں مبتلا کرڈالا ھے۔ من حیث القوم ایک مسلمان ھونے کے باوجود اللہ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو فراموش کرچکے ہیں اور ان مستوی بتوں ی پیروی میں اوندھے جاہل بن چکے ہیں۔ دینِ اسلام اخوت بھائی چارگی ایثار و قربانی عدل و انصاف کا درس دیتا ھے ھم نے قرآن اور قرآنی احکامات کو بھلا دیا ھے اب بھی وقت ھے کہیں الله ھم سب کو نہ بھلا دے توبہ استغفار کرتے ھوئے اپنے شعور کو بلند کریں ماضی کی تحریر کو پڑھتے ہوئے سبق سیکھتے ھوئے اپنے حال کو درست کریں تاکہ مستقبل روشن تابناک ھوسکے اور دنیا میں خوشحال کامیاب آزاد قوم بن کر ابھریں آمین یا رب العالمین۔۔۔۔!!

Exit mobile version