BBC Urdu TV

عنوان: پاکستانی قوم اور غیبی مدد

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: پاکستانی قوم اور غیبی مدد ۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

غیبی مدد نہ اسپین کے وقت آئی, نہ ہی خلافتِ عثمانیہ کو بچانے کیلئے آئی اور نہ اسرائیل کا قیام کو روکنے کیلئے آئی۔ نہ بابری مسجد کے وقت آئی اور نہ ہی عراق اور شام کے وقت آئی, نہ میانمار کے وقت آئی, نہ گجرات کے وقت آئی اور نہ کشمیر کیلئے آئی پھر بھی گھروں اور مسجدوں میں بیٹھ کر غیبی مدد کی صدائیں بلند کرنے سے باز نہیں آرھے ہیں ۔۔۔۔ معزز قارئین!! تاریخ ہمیں بتاتی ھے کہ غیبی مدد یقیناً آئی مگر کس وقت تو جان لیجئے کہ جنگ بدر میں آئی جب ایک ہزار کے مقابلے میں تین سو تیرہ میدانِ جنگ میں اُترے اور دوسری بار غیبی مدد آئی جنگ خندق میں جب اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پّیٹ پر دو پتھر باندھے اور خود خندق کھودی اور میدانِ جنگ میں اُترے۔ تیسرا یہ کہ غیبی مدد افغانستان میں آئی جب بھوکے پیاسے مسلمان بے سرو سامانی کے عالم میں میدانِ جنگ میں اُترے اور اس طرح کے کئی جنگیں اور مواقع میں غیبی مدد آئی پاکستان کے حوالے سے خاص کر انیس سو پینسٹھ کی جنگ میں غیبی مدد آئی ۔۔ معزز قارئین!! آج ھم پاکستانی غیبی مدد کی متظر ہیں مگر ھمارا عمل رویہ اس طرح ھے کہ دنیا کا قیمتی لباس پہن کر, مال و زر جمع کرکے, لگژری ائر کنڈیشنڈ گاڑیوں میں بیٹھ کر, جُھک جُھک کر لوگوں کے ہاتھ چومنے کی خواہش لے کر , لوگوں کی واہ واہ کی ہنکار کی خواہشات لئے, مساجد کے ممبروں پر بیٹھ کر بد دعائیں کرکے, طاغوت کے نظام پر راضامند ھوکر اللہ کی زمین پر اللہ اور اُس کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نظام کے نفاذ کی جدوجہد کے بجائے صرف نعت خوانی, محفلِ میلاد یا تسبیح کے دانوں کو دس لاکھ بیس لاکھ گھما کر اور آفاقی دین کو چند جزئیاتِ عبادت میں محصور و مقید کرکے, مسلمانوں کو مجاہد کے بجائے مجاور بنا کر جہاد فی سبیل اللہ اور جذبۂ شہادت سے دُور رہ کر اور دُور رکھ کر مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و جبر اور مصائب و مشکلات دیکھ کر
اللہ دشمن کو غرق کر دے۔ اللہ دشمن کو تباہ و برباد کر دے۔ یا اللہ مظلوموں کی مدد فرما۔ یا اللہ دشمنوں کو ہدایت عطا فرما دے اور اگر اُن کے نصیب میں ہدایت نہیں تو انہیں غرق کردے جیسی بد دعاؤں پر اکتفاء کرکے سکوت اختیار کرلینے اور سکون سے نوالۂ حلق سے نیچے اُتار کر پیٹ بھر بھر کر گہری نیند سونے والے یعنی سب کچھ اللہ کے ذمہ لگا کر اور خود کنارہ کشی اختیار کر کے غیبی مدد کے منتظر ہیں۔ میدانِ جہاد میں اُترنے سے ڈرتے اور کتراتے ہوئے آسمانوں سے فرشتوں کے نازل ہو کر مسلمانوں کی غیبی مدد کے منتظر ہیں۔ ھم سب پاکستانی اللہ اور اُس کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منافقت کرتے ہیں۔ اتنی جرأت تو شیطان میں بھی نہ تھی اور نہ ہے. سُنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو ہمیں بتاتی ہےکہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےمیدانِ جنگ سجایا اور بعد میں اللہ کی غیبی مدد کیلئے دُعا کا ہاتھ بلند فرمایا جبکہ آج کا جہاد صرف بد دعا ہے اور نہ دُعا سے پہلے اور نہ دعا کے بعد کوئی عملی اقدامات و جدوجہد ہوتی نظر نہیں آتیں۔ ایسی صورت میں صرف اللہ کی پکڑ اور عذاب ہى آتا ہے نہ کہ کوئی غیبی مدد اترتی ھے۔۔۔۔ معزز قارئین!! آج پاکستانی جس ذہن و سوچ میں مدہوش ہے اتنا پہلے کبھی نہیں تھا ناجائز دولت کے حصول میں اندھا بہرہ ہوگیا۔ منصفین ظالمین بن گئے ہیں صاحبِ مقتدر و اقتدار جاہلیت کے تمام حدیں پار کرچکے ہیں۔ بے حسی خود غرضی لالچ حرص و متاع دین سے دوری عام عوام سے لے کر اشرفیہ تک پھیل چکی ھیں۔ مذہبی رہنماؤں میں روحانیت کی جگہ دنیاویت بھر چکی ہیں گویا ان لوگوں کو تقویت مل رہی ھے جن کا دینی علوم اور دین سے دور دور تک تعلق نہیں۔ شعبدہ باز جھوٹے فاسق دھوکے باز سیاسی ہوں یا مذہبی یا مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے سب کے سب عروج پا رہے ہیں ایسے حالات میں عوام بھی صراط المستقیم سے بھٹک کر اللہ سے غیبی مدد کے متظر نظر آتے ہیں گویا دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو میڈیا کے بند انڈے میں قید کردیا گیا ھوں۔ وہ اینکرز جن کا علم فقہ علم نحو علم نفسیات اور علم روحانیت سے کوئی تعلق نہیں وہ درس و بیان دینے کیلئے اہل قرار دیئے جارہے ہیں ھم من حیث القوم بھٹکی گمراہ اور منافق قوم ہیں پھر بھی بے شرمی بے حیائی سے اللہ اور اس کے حبیب سے مدد کی آرزو رکھتے ہیں ہم لعنتی اعمال میں مصروف ہیں وہ اعمال جن پر اللہ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنتیں بھیجی ہیں پھر ہم کیونکر مستحق ہیں اور کیونکر منتظر ہیں کہ اللہ کی جانب سے غیبی مدد آ اترے گی یہی خام خیالی اور مدہوشی اس قوم کو تباہی و بربادی کی جانب تیزی سے دکھیل رہی ہیں ہمیں چاہئے کہ ھم اب بھی سنبھل جائیں اسوہ حسنہ اور سنتِ رسول کو اپناکر اسلامی نظام کے تحت بہترین اسلامی معاشرہ تشکیل دیں تو پھر انشاءاللہ بنا دعا اللہ ھماری غیبی مدد فرمائے گا آمین یا رب العالمین۔۔۔۔۔!!

Exit mobile version