ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: پاکستانیوں کی خوابِ غفلت سے بیداری ناگزیر۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
الحمدللہ ریاست پاکستان ٹھاونوے فیصد مسلم عوام پر مشتمل ھے اور یہ ملک نظریہ اسلام پر معروض وجود میں آیا، یاد رھے جب ون یونٹ پاکستان تھا تب ھمارا تعلیمی نظام، معاشی نظام، معاشرتی نظام، اقتصادی نظام، ریاستی نظام، صحتی نظام، صحافتی نظام، عدل و انصافی نظام، عسکری نظام، محافظی نظام، صنعت و حرفتی نظام، تجارتی نظام، درآمدی و برآمدی نظام، آمد و رفتی نظام، سفری نظام گوکہ شعبہ ہائے زندگی کے باریک سے باریک ترین شعبے، ادارے اور وزارتیں ایک تسلسل اور متواتر نظم و ضبط، قوائد و ضوابط، اصول و قوانین کے تحت رواں دواں چل رھے تھے یہی وجہ ہیکہ قبل از نظام جمہوریت پاکستان دنیا میں شاد و آباد اور خوش حال ملک میں شمار کیا جاتا تھا یہی نہیں بلکہ پاکستان دیگر ممالک کو قرض بھی دیتا تھا لیکن غداران وطنوں نے سازشوں، مکاریوں، عیاریوں، دھوکہ بازیوں اور گمراہ گن پروپیگنڈوں کے ذریعے سب سے پہلے اس قوم کی ماں کو بیچ چوراہے میں ذلیل کیا، رسوا کیا اور بدقسمت عوام ان کے دھوکہ میں آگئی اور ساتھ دیتی رھی، وہ جمہوریت کا علمبردار ڈیڈی ڈیڈی کی پتلون چاٹنے والے نے جس قدر مادر ملت کے خلاف نازیبا الفاظ ادا کئے اور بے غیرت لوگوں نے تالیاں بجائیں ساتھ دیا۔ اس نیک پاک دامن ماں پر تہمت لگانے کی اس نے تو سزا پائی لیکن اسکا اور اسکی اولادوں ساتھ دینے پر قدرت کے عذاب میں یہ قوم مبتلا تاحال ھے۔ اس قوم پر فرنگیوں کے غلاموں، کرپٹ، بدکردار خاندان اور انکی اولادیں حاکم بنادی گئیں، یہ سب کچھ اس قوم کی سنگین گناہوں، کوہتاہیوں اور غلطیوں کے سبب ھوا ھے۔ اسکا ازالہ ممکن ھے مگر سچے دل سے توبہ استغفار اور جمہوریت کو رد کرکے۔ مزید بات کرنے سے قبل قرآن پاک کی سورة عمران کیجانب توجہ کرانا چاہتا ھوں ۔۔ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ھے ترجمہ: اور اللہ نے یقینا اس وقت اپنا وعدہ پورا کردیا تھا جب تم دشمنوں کو اسی کے حکم سے قتل کررھے تھے، یہاں تک کہ جب تم نے کمزوری دکھائی اور حکم کے بارے میں باہم اختلاف کیا اور جب اللہ نے تمہاری پسندیدہ چیز تمہیں دکھائی تو تم نے (اپنے امیر کا) کہنا نہیں مانا تم میں سے کچھ لوگ وہ تھے جو دنیا چاہتے تھے، اور کچھ وہ تھے جو آخرت چاہتے تھے پھر اللہ نے ان سے تمہارا رخ پھیردیا تاکہ تمہیں آزمائے۔ البتہ اب وہ تمہیں معاف کرچکا ھے، اور اللہ مومنوں پر بڑا فضل کرنے والا ھے۔ سورہ آل عمران، آیت ١٥٢ ۔۔۔ اب میں اپنے معزز قارئین کو بتانا چاہتا ھوں کہ پاکستان کا آئین چھپن، باہتر اور بار بار تبدیلیوں کے بعد اسی مقام پر پہنچ چکا ھے جو یہود و عیسائی زائینسٹ پاکستان کو لانا چاہتے تھے ان غیر مسلم ممالک کو گوارا نہیں تھا کہ دنیا میں ایک شفاف مضبوط اسلامک بلاک بننے یوں تو انھوں نے ہر کمزور مسلم ممالک میں اپنے اثرات ریاستوں میں مضبوط کرلئے تھے لیکن ایران افغانستان اور پاکستان ان کے شکنجے میں نہیں آئے۔ ترکیہ، ایران اور افغانستان پر بیشمار دباؤ اور پابندیاں لگائی گئیں مگر قوم اور ریاست کے مضبوط اتحاد و رشتے کو توڑ نہ سکے۔ ان سپر پاور قوتوں کو ترکیہ افغانستان اور ایران سے زیادہ پاکستان کو تباہ و برباد کرنے کا عزم پیدا ھوا کہ کس طرح اسے پاش پاش کیا جائے۔ جنرل یحیٰی کے زمانے میں ایٹمی طاقت بنانے کی طرف توجہ دلائی گئی مگر انھوں نے عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا ایک بار پھر جنرل ایوب کے زمانے میں اس پر توجہگی کی تو نتیجہ مثبت برآمد ھوا اور بھٹو کے زمانے میں سیٹھ عابد کے تعاون سے ڈاکٹر قدیر خان کو اس بابت ذمہداری عائد کی گئیں۔ بحرکیف سنہ انیس سو اٹھاونوے میں لاکھ منع کرنے کے باوجود پاکستان کی سلامتی و بقاء کیلئے ایٹمی دھماکہ ناگزیر ھوچکا ھے اسی سبب کرنا پڑا۔ اس وقت کے نے ملک غداری کی کوئی کسر نہ چھوڑی، جنرل ضیاء الحق سے قبل وزیر اعظم نے ملک کو دولخت کیا بیٹی نے ملکی راز فاش کئے پھر کنجے صاحب نے غیروں کی وفا میں کوئی حد نہ چھوڑی اور اگر داماد کی بات کی جائے تو سب پر بھاری اور تسبیح والے نے بھی شیطانی یوٹرن اور جھوٹ کے بڑے بڑے گولے فائر کئے حاصل نتیجہ ان سب ہی نے جمہوریت کا الاپ گا گا کر عوام کو الو اور بیوقوف بنایا اور خوب قومی خذانہ لوٹا کیونکہ نہ ان سب کا احتساب ھوسکتا ھے نہ پکڑ گر کوئی ایک آدھ سر پھرا ایماندار، دیانتدار، سچا، مخلص وطن نکل باہر آئے تو کبھی گولی سے، تو کبھی زہر سے، تو کبھی حادثے سے ہلاک کردیتے ھیں۔ بے ضمیروں کی منڈی سجاکر بیٹھے ھوتے ھیں ہر دوسرا اینکر اور صحافی و میڈیا مالکان کسی نی کسی پارٹی کے گیت گا رھا ھوتا ھے، اندرون خانہ یہ سب ایک خبیث روح ھیں جو اس ملک و قوم کو تباہ و برباد کرنے پر تلے ھوئے ھیں افسوس کہ چند ایک فور اسٹار جنرلز بھی ان دجالیوں، فسطانیوں اور ابلیسی شاطر پن کو نہ سمجھتے ھوئے انکا شکار ھوتے رھے ھیں یہی نہیں بلکہ ان میں کئی جسٹس صاحبان بھی خوب داد عیش وصول کرتے رھے ھیں، میں اسی لئے کہتا ھوں کہ پاکستان مزید جمہوریت کا متحمل نہیں ھوسکتا فی الفور ھمارے جسٹس صاحبان، فور اسٹار جنرلز کو اسلامی صدارتی نظام کو رائج کرنے کیلئے پیش قدمی کرنی چاہئے کیونکہ پاکستان اس وقت شدید حالات جنگ میں ھے ذرا سی غفلت ہمیں شکست سے دوچار کرسکتی ھے جسکا خمیادہ پوری قوم اور اسکی نسلیں برسوں برداشت کرتی رہیں گی۔ میں زندہ رہوں یا نہ رہوں میرا پیغام، میری آواز، میرے وطن اور اسلام کیلئے بلند ھوتی رہے گی۔ مانا کہ دجالی و فسطانی اور ابلیسی طاقتیں بہت زیادہ طاقتور و مضبوط ھیں مگر میرا ایمان ھے کہ اللہ ﷻ واحد لاشریک اور رسول اللہ ﷺ کی رضا کے بغیر کچھ ممکن نہیں بیشک اللہ قادر مطلق ھے۔ ڈاکٹر انجینئر سید صادق علی اس وقت وطن عزیز پاکستان سلامتی و بقاء کیلئے پریشان اور بے چین رہتے ھیں۔ اسی سبب انھوں نے قانونی و آئینی طریقہ کار کے ذریعے قائداعظم محمد علی جناح ؓ کی طرح پاکستان کا کیس لڑ رھے ھیں فرق یہ ھے کہ قائداعظم محمد علی جناح ؓ انگریزوں اور ہندوؤں سے مسلمانوں کیلئے علیحٰدہ خودمختیار ریاست چاہتے تھے اور اس بابت کیس لڑ کر جیتے، اس کیس میں مسلم قوم قائداعظم کیساتھ بھاری تعداد میں تھی اور اب اسی قائد کے وطن کو بچانے کیلئے سپریم کورٹ میں ڈاکٹر انجینئر سید صادق علی نے پٹیشن دائر کی ھے افسوس کہ سنوائی نہیں ھورہی اس کیوجہ فرد واحد کا میدان میں اترنا اور لڑنا ھے جبکہ جنگ نفوس اور مجمع پر مشتمل ھوتی ھے، اب ھم پاکستانی قوم کو ڈاکٹر صاحب کا ساتھ دینا اور اس کیس میں ہر ایک کو فریق بننا چاہئے تاکہ قائداعظم محمد علی جناح ؓ کی وصیت نامہ سننا، پڑھا، سمجھا اور دیکھا جائے۔ معزز قارئین!! آئین و دستور پاکستان کے بارے میں ڈاکٹر انجینئر سید صادق علی سے جب بات ھوئی تو انھوں نے بتایا کہ گستاخی کی معافی چاہوں تو عرض کرنا تھا کہ آئین کو پڑھنے کا ایک خاص طریقہ ہے جو اب تک آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے، یہی بات آپ کو سمجھانے کی کئی بار کوشش کرچکا ہوں، آئین و قانون بڑے انجینئرڈ طریقہ سے اور احتیاط کیساتھ بنایا گیا ہے جو غور سے سمجھنے پر ہی سمجھ میں آتا ہے دوسرے آسان لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ آئین و قانون و ذرا مشکل رکھ کے بنایا گیا ہے تاکہ ہر کوئی اسکو پہلے نظر میں سمجھ نہ سکے اور خاص بات یہ رکھی گئی ہے کہ آئین و قانون یونیورسل لاء آف ڈیکلیریشن کی خلاف ورزی بھی نہ ہو چونکہ آئین و قانون انگریزی میں ہے اس لئے ہر کوئی اس پر دست ترس نہیں رکھتا۔ قوانین و آئین میں جو پیچیدگیاں آپ کو بظاہر نظر آرہی ہیں وہ دراصل آئین کے دوسرے آرٹیکلز میں کور یعنی محفوظ کردی گئیں ہیں جو آپ اب تک نہیں سمجھ پا رہے اور نہ ہی سمجھا پا رہے ہیں۔ آرٹیکل انہتر میں ہی درج ہے کہ آرٹیکل چھیاسٹھ کیساتھ پڑھیں گے تو آپ کو قانون سازوں کی اوقات بھی نظر آئیگی کہ وہ انصاف و قانون سے بالا نہیں ہیں۔ آرٹیکل چھیاسٹھ کو غور سے ہجے کرکے پڑھیں تو آپ کو پہلی ہی لائن میں یہ عبارت نظر آئیگی، ذرا کسی قابل جی جی قابل قانون دان سے اس "Subject to the” کا مطلب بھی سیکھ لیں ۔۔۔Subject to the Constitution and to the rules of procedure of 1[MajliseShoora (Parliament)], there shall be freedom of speech in۔ معزز قارئین!! یاد رھے آئین بنانے والے پارلیمنٹیرین نے آئین کی شقوں کو ایک دوسرے سے مربوط اسی وجہ سے رکھا کہ ان کے جرائم اور گناہوں کے سبب راستہ ملتا رھے یہی وجہ ھے کہ اس جمہوری نظام میں کبھی بھی عوام اور ملک خوش حال و ترقی نہ کرسکے۔ تاریخ شاہد ھے کہ اس جمہوریت کے سبب یہ سب کے سب سیاستدان آپس میں دکھاوے کے اختلاف کرتے ھوئے ملک و قوم کی دولت لوٹتے گھسوٹتے رھے ھیں حتیٰ کہ اس میں عدالت اور دیگر مضبوط اداروں کے سربراہان کو بھی شامل رکھا گیا گویا بہتے دریا میں سب نے ہاتھ دھوئے ۔۔۔ معزز قارئین!! تمام وہ لوگ جو پاکستان میں علامہ اقبال ؓ کا خواب اور قائد آعظم ؓ کا تعبیرِ کی تکمیلِ پاکستان دیکھنا چاھتے ہیں وہ لوگ ڈاکٹر انجینئر سید صادق علی کی آواز سے آواز ملائیں اور قائد آعظم ؓ کی وصیت کو نافذالعمل کرانے میں انکا بھرپور ساتھ دیں اور اس فرسودہ، ناکارہ، کرپٹ شدہ پارلیمانی نظام سے قوم کی جان چھڑائیں۔ اربوں روپے ان منسٹروں، سفیروں، مشیروں، وزیروں وغیرہ کے حلق میں جانے سے بچائیں، خلقِ خدا پر لگائیں آنے والی نسل کیطرف سے عین نوازش ہوگی۔ اگر آپ اس میں ایک خاص بات نوٹ کریں تو آپکو مسلمانوں کے زوال کی وجوہات نظر آجائیں گی اور یہ بھی سمجھ آجاۓ گا کہ قرآن کریم بہترین کتاب ہونے کے باوجود مسلمانوں کی تنزلی کی وجوہات کیا ہیں۔ تمام قابل لوگوں کو، جو اپنی تحقیق سے قوانین قدرت یعنی سنت الٰہی کی ترکیب سمجھنے کے بعد انسانوں کی راہنمائی کیلئے کتابیں لکھ رہے تھے جیسا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی زندگی میں پاکستان کا آئین لکھ دیا تھا، ملا نے حاکم کیساتھ مل کر ان قابل لوگوں کیخلاف فتاویٰ دیئے اور بہترین اذہان کو انکے علم کی سزا دی گئی۔ ڈاکٹر انجینئر صادق علی کہتے ھیں کہ پچھہتر سال بعد میری تحقیق یہ ثابت کر رہی ہے کہ پارلیمانی نظام حکومت جمہوریت کی نفی ہے لیکن کوئی بھی میری بات اس لیئے نہیں مان رہا کیونکہ انکے ہاتھ میں اختیار ہے اور میں بے اختیار ہوں۔ ہم پاکستانی قوم کو یہ سمجھنا پڑیگا کہ لا ریب فیہ کے بعد کوئی بھی شخص یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ قرآن کریم اور احکام رب العالمین کی خلاف ورزی کرے۔ جس دن ہمیں یہ بات سمجھ آجائیگی، اس دن مسلمان بہترین قوم بن جائیں گے، انشاءاللہ تعالیٰ مجھے اختلاف ہے۔ ہمارے معاشرے میں پارلیمانی نظام کے نقائص اپنی جگہ بالکل واضح ہیں مگر یہ جمہوریت نہیں ہے یہ بات بھی ٹھیک نہیں۔ یہ جمہوریت کی ہی ایک شکل ہے۔ احمر اشفاق چوہدری صاحب لکھتے ھیں کہ جدید دنیا میں جدید ریاست کی عمارت تین ستونوں یعنی عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ پر قائم ہوتی ہیں۔ جہاں مقننہ دورِ حاضر اور مستقبل کے تقاضوں کیمطابق ریاست کو آگے لیکر جانے کیلئے قانون سازی کرتی ہے وہیں انتظامیہ ان قوانین کو عملی جامہ پہناتے ہوئے عوام کیلئے زندگی کو آسان، محفوظ اور عدل و انصاف سے بھرپور بنانے میں کردار ادا کرتی ہے یعنی ریاست میں گورننس کی بہتری و ابتری یا عوام کی خوش حالی و بدحالی کی ذمہدار براہِ راست انتظامیہ ہوتی ہے، انتظامیہ کی کارکردگی یعنی گورننس کا معیار ملک میں سیاسی استحکام کی مرہونِ منت ہوتا ہے۔ جتنا سیاسی استحکام ہوگا اتنی ہی بہتر انتظامیہ اور اسکے ماتحت اداروں یعنی تعلیم، صحت، خوراک، ٹرانسپورٹ، دفاع، خارجہ، پولیس وغیرہ کی کارکردگی ہوگی اور اتنے خوشحال اس ریاست کے باشندے ہونگے جبکہ بے یقینی و افرتفری کی کیفیت اسکے بالکل الٹ تصویر پیش کریگی۔ اب سیاسی استحکام پر بات ہوجاۓ۔ کسی بھی ریاست میں سیاسی استحکام کی بنیاد وہاں کے عوام کی تعلیم، اخلاقیات، معمولاتِ ریاست کی سمجھ بوجھ، قومی یکجہتی، ایک قومی تشخص، عوام کی مالی حیثیت اور بالخصوص سیاسی نظامِ حکومت پر ہوتی ہے. سیاسی اور جمہوری نظامِ حکومت کی دو اشکال ہوسکتی ہیں
1۔ پارلیمانی نظامِ حکومت
2۔ صدارتی نظامِ حکومت
پارلیمانی نظامِ حکومت میں انتظامیہ و مقننہ میں اختیارات و کارکردگی کی علیحدگی نہیں ہوتی لہٰذا سیاسی طور پر استحکام ہو یا پھر غیر یقینی و افراتفری ریاست کے یہ دونوں ستون بیک وقت متاثر ہوتے ہیں۔ اس صورت میں اگر امن و استحکام ہو تو دونوں ستون بہتر نتائج دے سکتے ہیں جبکہ بصورت دیگر عدم استحکام میں نہ ہی انتظامیہ بہتر گورننس کرسکتی ہے نہ ہی کوئی قابلِ ذکر قانون سازی ہو پاتی ہے لہٰذا عوام کا حال تو ابتر ہوتا ہی ہے ساتھ ہی مستقبل بھی مخدوش ہوجاتا ہے جبکہ دوسری طرف یعنی صدارتی نظامِ حکومت میں انتظامیہ اور مقننہ یکسر الگ اور آزاد ہوتے ہیں لہٰذا مقننہ کی سطح پر کوئی عدم استحکام یا احتجاج انتظامیہ کی کارکردگی کو متاثر نہیں کرتا اسی طرح انتظامیہ کیخلاف عوام یا کسی اور سیاسی جماعت کا احتجاج مقننہ کی کارکردگی میں رکاوٹ نہیں ڈالتا اور اسی وجہ سے صدارتی طرزِ حکمرانی میں ریاست کے مستقل مزاجی سے آگے بڑھتے رہنے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ معاشرتی ساخت اور سیاسی نظامِ حکومت کی مطابقت۔ اب جس معاشرہ نے طویل ادوار کے دوران اپنی ترجیحات متعین کرلی ہوں، تاریخ کے تاریک واقعات سے بہت کچھ سیکھ کر اپنے اندر انقلابی تبدیلیاں پیدا کرلی ہوں، انفرادی مفاد پر قومی مفاد کو ترجیح دی ہو، وسائل کے بہتر استعمال سے عوامی مالی حالت بہتر ہو، تعلیم و ہنر ہو وہاں تو شائد پارلیمانی نظام کارگر ثابت ہوسکتا ہو اور وقتی اختلاف و عدم استحکام، انتظامیہ و مقننہ کے افعال کو محض وقتی جمود کا شکار کرے مگر ایسا معاشرہ جہاں ہم بستے ہیں جہاں نہ تعلیم ہے نہ صحت، معاشی و معاشرتی تقسیم انتہا پر، نہ ایک تشخص ہو نہ ہی قابلِ ذکر قومی یکجہتی، سیاسی لیڈران ہوسِ اقتدار سے اتے ہوں، سیاسی جماعتوں میں نظریاتی نظم و ضبط نام کی شے نہیں، اندھی تقلید ہو غرض یہ کہ بحران کی ہر قسم میسر ہو ایسے معاشرے میں پارلیمانی نظامِ حکومت کیونکر کارگر ثابت ہوسکتا ہے۔ آج پاکستان کا معاشرتی، سیاسی اور معاشی منظر نامہ اس بات کا غماز ہے کہ مذکورہ بالا بحرانوں اور پارلیمانی نظامِ حکومت کی وجہ سے گورننس اور قانون سازی دونوں جمود کا شکار ہیں اور کیونکہ معاشرہ اس عدم استحکام کی وجہ سے معاشی، علمی و مالی انحطاط کا شکار ہے اس لئے آج یا مستقبل میں پارلیمانی نظام سے کوئی بھی مثبت اور تعمیری توقع رکھنا دیوانے کا خواب ہے۔۔ معزز قارئین!! ہر دور میں انسان نے خود کو در پیش چلینجز کا حل نکالا اسی طرح جبکہ ہمیں بھی معاشرتی طور پر مذکورہ بالا بحرانوں کا سامنا ہے تو ہمیں بھی "امرھم شوریٰ بینہم” کرتے ہوئے بہتر اور معاشرتی مطابقت و موافقت رکھنے والے نظام یعنی صدارتی نظام کے نفاذ کیطرف قدم بڑھانا چاہئے۔اب چونکہ یہ نظام اور اس میں نافذ قوانین اسلامی تعلیمات اور قرآن و سنت سے کسی طور متصادم نہیں ہونگے لہٰذا یہ اسلامی صدارتی نظام ہی ہوگا۔ انشاللہ العزیز۔ معزز قارئین!! کیا حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک کے آخری شخص کی ضرورت مثلاً کھانا، پینا، لباس، سفر، سیکس، بیماری وغیرہ اور فطرت یعنی ضرورت ہی اسکی فطرت کا تعین کرتی ہے کیا تبدیل ہوسکتی ہے؟ جواب یہ ہیکہ انسانی ضروریات اور فطرت کبھی تبدیل نہیں ہوگی تبدیل صرف اسے حاصل کرنے کے ذرائع ہوتے ہیں اور وہ بھی ایک محدود حد تک جیسے کہ سفر ہر دور میں ہر انسان کی ضرورت ہے کل یہ پیدل، گھوڑے، گدھے اور اونٹ پر سوار تھا تو آج موٹر بائیک، کار، ٹرین، ہوائی جہاز اور بحری جہاز پر سوار ہے لیکن ہے حالت سفر ہی میں اسی طرح بھوک کے کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ میعار بھی دائمی ہے فرق یہ ہے کہ آج آپ بھوک پیزے برگر سے بھی مٹا لیتے ہیں کل اس کیلئے گندم جو باجرہ کی روٹی تھی جو کہ آج بھی ہے سو چونکہ ضرورت و فطرت تبدیل نہیں ہوتی تو قرآن کریم میں فطری قوانین کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بیان کردیا گیا ہے جیسے کہ سورہ انعام آیت ١٥١ اور ١٥٣ میں موجود دس احکامات ہیں اور سورہ نور میں موجود معاشرتی احکامات چور کی سزا نشہ کو حرام قرار دینا زنا کی سزا کیساتھ ساتھ وراثتی قوانین کا تعلق چونکہ انسانی ضروریات سے ہے تو اللّٰہ سبحان و تعالٰی نے اسے ہمیشہ کیلئے قرآن کریم میں بیان کردیا ہے اور جدید دور کے تقاضوں کیلئے دین اسلام نے اجتہاد کا دروازہ بھی کھلا چھوڑا ہے کہ اگر آج کے دور میں گاڑیوں کیلئے سڑکیں بنائی گئی ہیں تو ریاست کو اسکے قوانین مرتب کرنے کی مکمل آزادی کیساتھ عوام کو حکم دیا گیا ہیکہ ریاست کی خیر میں مکمل تابعداری اختیار کریں لہٰذا یہ کہنا کہ قرآن کریم میں قوانین موجود نہیں ہے یہ سائل کی لاعلمی کی دلیل ہے۔ محمد عابد وزیر صاحب اس بارے میں کہتے ھیں کہ غلامی چھوڑو، اس ملک کے ہر شہری کا حق ہے کہ وہ حکومت سے سوال پوچھے اور کرے کہ میرا بچہ آئی ایم ایف کا مقروض اور تمہارا بچہ ارب پتی کیوں ہے؟؟؟ ڈاکٹر انجینئر سید صادق علی کہتے ھیں کہ پارلیمانی نظام حکومت اور صدارتی طرز حکومت میں فرق کیا ہے اور یہ پاکستان میں کیوں ضروری ھے۔ خود اپنے ضمیر سے سوال کریں کہ جو گلا سڑا نظام حکومت ستر سال سے پاکستان میں استعمال کیا جارہا ہے اس نظام کے تحت چلنے کی وجہ سے ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود دنیا بھر سے بھیک مانگ رہے ہیں۔ Bager are not chooser
سوچو اور نظام تبدیل کرو، مارشل لاء لگانے کی گزارش آرمی چیف سے کون کرسکتا ہے اور کون کرتا رہا ہے۔ مردم شماری ہو یا الیکشن یا پھر ریفرینڈم، کوالیٹی سے زیادہ کونٹیٹی کامیاب کیوں ہوتی ہے یہاں۔۔۔!!
