ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: میں مہاجر ھوں مگر مہاجر نہیں ۔۔۔۔!!
اسلامی تاریخ میں کئی معرکہ جنگ و دجل فتوحات اور تحاریک اسلام کی سربلندی اور اسلامی ریاستوں کی بقا و سلامتی کیلئے جاری رہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے اسلامی ریاست کی بقا کیلئے معرکوں کا سلسلہ تاحال جاری ھے۔ فلسطین ہو یا لبنان اردن ہو یا شام عراق ہو یا ایران سب کے سب اسلامی ریاستیں یہودی زینئسٹ کی شرانگریزیوں اور دجالی فتنوں سے نبردآزما رہے ہیں۔ گزشتہ صدی میں دو قومی نظریہ ہندو ازم اور اسلام ازم پر تحریک نے دو ملکوں ریاستوں کو جنم دیا۔ نہرو کی قیادت میں ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والوں کیلئے ہندوستان اور مسلمانوں کیلئے پاکستان معروضِ وجود میں آیا۔ تحریک خلافت سے تحریک پاکستان کا سفر انتہائی کٹھن مشکل اذیت زدہ تکلیف دہ اور مصائب پر منحصر تھا اس آزادی کے سفر میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں پرہیزگار سچے مومن مسلمانوں کی شہادت کے بعد حاصل ھوا۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے فروغ اور اسلامی ریاست کے حصول کے خاطر جامِ شہادت قبول کیں۔ بالآخر الله تبارک تعالیٰ نے اپنے حبیب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے ہمیں پاکستان ماہِ مبارک رمضان الکریم کی انتہائی بابرکت ساعت شبِ قدر میں دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ ان ایمان افروز سچے مہاجروں کی ایک بہت بڑی نسل صوبہ سندھ میں موجود ھے لیکن یہ خود کو مہاجر کہلاتے فخر محسوس کرتے ہیں مگر اصل میں مہاجر نہیں ہیں کیونکہ ان کے آباؤ اجداد جب یہاں آباد ھوئے تو انھوں نے اپنی خاندانی روایات روش اور طریق کو ہرگز ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ بیشتر تعلیم کے زیور سے آراستہ تھے اور بہت سے مختلف فنون کے ماہر ان سب کا دین سے بہت گہرا لگاؤ تھا یہی وجہ ہے کہ ان کے آباؤاجداد میں شرافت انکساری عاجزی ادب و احترام شائستگی تہذیب محبت اور خلوص پنہاں تھا۔ پاکستان کی تمام قوم میں بڑی عزت و احترام سے دیکھے اور پہچانے جاتے تھے ۔۔۔۔ معزز قارئین!! میرپورخاص کے میرے دوست افتخار احمد مجھے تحریر بھیجتے ہیں کہ مہاجر اردو اور کراچی کی بنیاد پر مہاجر نہ بنے تھے. انہیں مہاجر بنانے والے اپنے منشور کو دوبارہ یاد کرنا ہوگا۔ کراچی اور اردو تو محض سہارے ہیں۔ ہند کو چھوڑ کر سندھ کو آباد کرنے کا مقصد دوبارہ اختیار کرنا ہوگا۔اسلام کی خاطر ہند سے سندھ ہجرت کرنے والے اسلام ہی کو چھوڑ کر لبرل ہوچکے ہیں اور زخم خوردہ آل انڈیا نیشنل کانگریس نے ان اسلامی مہاجرین کے خلاف اپنی وفادار جماعت دیوبند کو اسلام کی کمان دے کر ایک نئے جہاد سے اسلام اور مہاجرین اسلام کو پراگندا کردیا. سوچئے اور بہت سوچئے. اسلام کیلئے نکلنے والے مہاجروں سے اسلامی مقصد لے کر چار صوبائی جاہل و غلام سوچ قبیلوں کو مہاجر دشمن پی پی پی اور جئے سندھ کی بجائے امریکی جہاد کیلئے مجاہد بنادیئے گئے اور لاچار و اپاہج مہاجر لبرل کہلانے لگے کیونکہ انہیں کراچی کے وسائل کے خون کا چسکا جو لگ چکا تھا. مہاجر بھی اسی ساحل پر جمع ہونے لگے پھر لندن سے پیکج آنے لگے اور انڈیا و پاکستان بنانے والوں کے خلاف انگریز نے یہودی مقاصد کو مسلط کرنا شروع کردیا کیونکہ اسلام کیلئے نکلنے والوں کو وہ گمراہ کرچکے تھے۔ اب مہاجر قیامت تک کامیاب نہ ہو پائے گا اگر اس نے اپنے گمشدہ مقصد کو تلاش نہ کرلیا ۔۔۔۔ معزز قارئین!! کیا آج کے مہاجر کہلانے والی نسل اپنے آباؤاجداد کے نقشِ قدم پر ہیں یقیناً نفی میں جواب آئیگا اس مہاجر قوم کا لڑنا مرنا صرف وطنِ عزیز پاکستان اور اسلام کی بقا ہونا چاہئے کیونکہ ان کے آباؤاجداد نے اس پاک سر زمین کو ترقی یافتہ خوشحال بنانے میں جو گراں قدر خدمات پیش کیں تھیں وہ کسی انسان کی خوشنودگی کیلئے ہرگز نہیں کیں بلکہ رضائے الہیٰ اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی کیلئے۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! میں مہاجروں کے تمام ٹھیکیداروں سے سوال کرتا ھوں کہ جب جب ان کے آباؤاجداد کے حقوق یہاں سلب ہوئے تو ان کا عمل کیا تھا میں بتاتا ھوں ان ٹھیکیداروں کو کہ ہمارے والدین و بزرگوں نے ہر وقت صبر شکر اور قناعت کی تربیت دی اور بتایا کہ سچائی پر رہتے ھوئے محنت مشقت کا ہاتھ نہ چھوڑنا اور کامیابی و ناکامی کو اللہ کی جانب سے فیصلہ سمجھنا کیونکہ جو اللہ نے لکھا ھے وہ مل کر رہیگا نہ کم اور نہ زیادہ اگر کوئی حق تلفی یا ظلم و ناانصافی کرتا ھے تو اسے اللہ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں مقدمہ پیش کردو بیشک وہ بہت بڑا ھے اور بہترین انصاف کرنے والا بھی۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! مہاجر نسل کا مہاجر اس وقت کہلائے گا جب وہ اپنے اندر ایمان سچائی خلوص نیک نیتی لگن محنت و مشقت صبر و قناعت اور ایک دوسرے کا احترام کو اپنی عادت نہ بنالے۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
