BBC Urdu TV

عنوان : میڈیا مالکان کے نام کھلا خط ۔۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان : میڈیا مالکان کے نام کھلا خط ۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

ایک مسلمان کے بچے کو زندگی میں لازماً ماں باپ کے بعد ایک استاد معلم پیر اور بزرگوں کی تربیت و نصیحت ہی ایک اچھا انسان بتاتی ھے۔ تربیت سے مسلمان کا بچہ خود اپنے لئے اور دنیا بھر کیلئے نافع ھوجاتا ھے۔ تربیت کا مرکز قرآن الحکیم اور آپ ﷺ کی زندگی ھے جس پر عمل کرکے اشرف المخلوقات کی صف میں شامل کرسکتے ھیں جو ہمیں ایک نظم و ضبط کی راہ دیتا ھے جو نہایت پاک شفاف عدل و انصاف ایثار و قربانی مساوی تقسیم اور حقوق کی پاسداری کا سبق سیکھاتا ھے۔ ھم نے دیکھا کہ تاریخ کے اوراق میں ایسے ایسے حکمران گزرے جنھوں روشن سنہری سیاہی سے لکھا گیا جن کے نظام عدل و مساوات کے چرچے دنیا بھر میں رھے اور ھیں۔ ایسے بھی اوراق دیکھے ج پر نحوست پھٹکار سیاہ بدنمائی سے بھرے پڑے تھے یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے قدرت سے بغاوت کی اور اجناس کو انسانوں تک پہنچنے نہیں دیا بلکہ ذخیرہ کرکے مٹی بنادیا صرف ہوس دولت کمانے کے چکر میں، یہ وہ لوگ تھے جنہیں اپنی طاقت اور غرور پر اس قدر ناز تھا کہ وہ انسان کو استعمال شدہ جانور سے بھی کہیں حقیر رکھتے تھے لیکن ان جیسے حکمرانوں کا ایسا انجام ھوا کہ وہ دنیا بھر میں عبرت کا نشان بن گئے۔ موجودہ زمانے میں دنیا بھر میں ہر ممالک میں ایک ایسا حاکم پیدا کردیا گیا جو اپنی طاقت سے سپر پاور ممالک کو بھی بے بس کردیتا ھے اپنے جھوٹ بناوٹ بہروپیی پن منافقت ریاکاری اور سازش سے اس حکمران کو میڈیا کہتے ھیں۔ میں اس انڈسٹری سے سنہ انیس سو نوے سے وابسطہ ھوں۔ اس دور میں میڈیا نجی شعبہ میں اس قدر نہ تھا مگر سابق صدر و ریٹائرڈ جنرل سید پرویز مشرف مرحوم نے نجی میڈیا انڈسٹری کو بام عروج بخشا اور اسکی اخلاقی قانونی گرفت کیلئے ایک ادارہ بنایا جسے پیمرا کہتے ھیں جو بعد میں سیاست کی نظر ھوکر تباہ و برباد ھوگیا ھے۔ گویا سرخی لگائی بیٹھی ایک دلہن کی مانند رہ گیا خیر یہ میرا موضوع نہیں۔۔۔ میں میڈیا مالکان سے ہوچھنا چاہتا ھوں کہ کیا آپ دھن دولت عیش عشرت اور ہوس دولت کے خاطر ہر وہ کام کرنے کیلئے تیار رھیں گے کہ جس میں ایک جانب ریاست تباہ ھوسکتی ھے تو دوسری جانب عوام کا جنازہ نکل سکتا ھے۔ کیا آپ سچ و حق ایمانداری دیانتداری مساوات کو اپنا سکنے میں کیا معزوری و مجبوری ھے۔ کیا آپ میڈیا کو اس کاروبار سے جوڑنا چاہتے ھیں جس کی اخلاقی دینی اور قانونی ممانعت ھے۔ کیا آپ دانستہ و غیر دانستہ ملک دشمن عناصر کا آلہ کار بننا چاہتے ھیں اگر نہیں تو پھر آپ اپنے ٹاک شوز میں حقائق کو اجاگر کیوں نہیں کرتے، آپ سب کسی نہ کسی سیاست جماعت کا میڈیا سیل کیوں بنے ھوئے ھیں اور آپ میں مذہبی چینلز کے مالکان کیوں مسلکی نفرت میں دیوار بنائے بیٹھے ھیں ان مذہبی چینلز کے مالکان اور ان میں موجود بیشمار علماء کرام و مفتیان صاحبان یہ بتائیں قرآن و حدیث کی روشنی میں کہ امام زمانہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور پزیر ھونے کے بعد کونسا مسلک ھوگا جسے آپ پسند فرمائیں گے اگر مسلک اور تفرقوں میں نہیں بٹے ھونگے تو اب کیوں؟ آپ سب کے سب میڈیا مالکان کی اخلاقی مذہبی قانونی ذمیداری عائد ھوتی ھے کہ آپ کاروبار ضرور کریں مگر ضابطوں میں رہ کر کیونکہ آپ کے اینکرز کبھی بھی نہیں بتاتے کہ اس ملک کے پاس تیل تو نہیں مگر گنے کی پیداوار میں پوری دنیا میں پانچواں نمبر ہے. کیا آپ سستی چینی حاصل کر پا رہے ہیں۔ گندم کی کاشت میں آپ کا آٹھواں نمبر ہے. کیا آپ کو سستی روٹی دستیاب ہے۔ چاول کی پیداوار میں آپ دسویں نمبر پر ہیں تو کیا عام شہری با آسانی اچھا چاول خرید سکتا ہے۔ کپاس کی پیداوار میں آپ کا چوتھا بڑا ملک ہے تو کیا ہر شہری با آسانی تن ڈھاپنے کا کپڑا خرید سکتا ہے۔ دنیا کے ممالک صرف تیل سے ہی نہیں بلکہ دیگر وسائل کی منصفانہ تقسیم سے ترقی کرتے ہیں۔ عوام دریافتوں سے نہیں عدل و انصاف سے خوش حال ہوتے ہیں. اس لیئے تھوڑا نہیں ہر زاویئے ہر پہلو سے مکمل تحقیقات مشاہدات اور تجربات سے خود کو گزاریں اور جائزہ لیں کہ ھم کہاں گھڑے ھیں اور کن کی وجہ سے ھم اس حالت تک پہنچے یقیناً آپ کو ہر سو ہر جانب کرپٹ نظام نظر آئیگا جس میں عدل و انصاف کا جنازہ اور وحشی پن غالب دکھائی دیگا اس لادینی شیطانی فسطانی دجالی کرپٹ شدہ ظلم کردہ نظام کے خلاف شعور بیدار کرنے میں آپ میڈیا مالکان اپنا کردار ادا کیوں نہیں کرتے۔

Exit mobile version