BBC Urdu TV

عنوان: میڈیا مالکان اور کالی بھیڑوں کا احتساب اور آڈٹ ناگزیر۔

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: میڈیا مالکان اور کالی بھیڑوں کا احتساب اور آڈٹ ناگزیر۔۔۔!!

سالہا سال سے لکھتا چلا آرہا ھوں کہ میڈیا مالکان اور انکے معاونین کیساتھ ساتھ میڈیا انڈسٹری میں پھیلی کالی بھیڑوں کا محاسبہ لازم و ملزوم ھوچکا ھے ان میں میڈیا انڈسٹری کے چند ایک اینکرز’ بیورو چیف’ ڈائریکٹر نیوز اور ایس ای وی پی کے ساتھ ساتھ چند ایک صحافی تنظیموں اور پریس کلبوں کے عہدیداران بھی شامل قتل معاش اور ناانصافی کے مرتکب رھے ہیں۔ اسی بابت میں نے اپنے تحقیق اور مشاہدہ کو مکمل کرتے ھوئے یہ کالم مرتب کیا ھے۔ مجھے ملک بھر میں میڈیا مالکان کی سہولتکاری کرتے صحافی اور اینکرز کے چہرے عیاں نظر آئے جو اپنے منصب کے تحفظ اور عیش و عشرت کیلئے کس حد تک گرچکے ھیں جبکہ انکی مجرمانہ خاموشی کے سبب ملک بھر کے صحافی اور میڈیا پرسن معاشی قتل سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ جب جب متاثرین نے احتجاج اور ریلی نکالی تو یہ شریک ھوکر ایک آدھ بیان دے دیا اور ہمیں بے وقوف بنایا کیونکہ دوسری جانب مالکان کو یقین دلاتے رہے کہ ھم آپ کے خیرخواہ ہیں اور آپ ہی کیساتھ کھڑے ہیں۔ گزشتہ روز موجودہ حکومت کے نمائندے بھی میڈیا مالکان کی زبان ٹاک شو میں بولتے نظر آئے کہ میڈیا مالکان نے متاثرین کو واپس بلایا ھے لیکن اس میں ذرہ برابر صداقت نہیں چند ایک واپس بھی گئے تو انہیں آدھی تنخواہ پر مامور کیا جبکہ انکی ترقی اور انکریمنٹس کو بھی مجمند رکھا گیا ھے۔ حکومتِ وقت کے نمائندگان ثابت کررہے ہیں کہ وہ نا اہل’ نا کارہ اور بدنیتی پر کام کررھے ہیں ٹاک شو میں بیٹھنے سےپہلے ہوم ورک کرلیتے تو انصاف اور عدل کا بول بالا ھوتا اگر تحریکِ انصاف کی حکومت نے بھی جھوٹ اور فریب کا سہارا لینا ھے تو پھر سابقہ حکومتوں پر یہ انگلیاں نہ اٹھائیں۔ مجھے حیرت و تعجب ھے کہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری اس سے قبل بھی اس وزارت میں وزیر رہ چکے ہیں یقین ھے کہ وہ میڈیا مالکان اور ان میں چھپی کالی بھیڑوں کو با خوبی طور پر جانتے ھونگے۔ یہ مسلمہ حقیقت ھیکہ چور بآسانی چوری کا اعتراف نہیں کرتا تاوقتکہ چوری کا سامان برآمد نہ کیا جائے اسی طرح میڈیا انڈسٹری کے مالکان سمیت اینکرز’ بیورو چیف’ ڈائریکٹر نیوز اورایس ای وی پی کا ہر صورت ہر حال میں احتساب اور آڈٹ کرایا جائے اس عمل سے عدل و انصاف کےتقاضے کو پائے تکمیل تک پہنچایا جاسکے گا کیونکہ جب تک میڈیا انڈسٹری کا آڈٹ اور احتساب نہ کیا گیا تب تک پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا جبکہ احتسابی عمل سے میڈیا ملازمین کا مشاہرہ میں توازن اور مراعات بھی اعتدال میں لائے جائیں۔۔۔
معزز قارئین!! میرے ذرائع نے مجھے کچھ معلومات سے آگاہ کیا ھے کس حد تک درست ہیں اور کس حد تک غلط یہ فیصلہ آپ پر ھے لیکن جو معلومات دیں وہ یہ ہیں۔میڈیا انڈسٹری تاحال کیسے کیسے مکروہ معاملات میں ملوث ھے ذرا اس طرف بھی توجہ کرتے ہیں۔ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض نے دھماکہ کردیا۔ملک ریاض سے جو جو صحافی پیسے لیتے رہے اس نے ان کی خفیہ ویڈیو بنارکھی تھی اور آج جب دوبارہ بلیک میل کرنے لگے تو اس نے ویڈیو جاری کردی جس میں مختلف وقت پر مختلف لوگ اس سے پیسوں کے بھرے بیگ لے رہے ہیں اور اسے یقین دھانی کروا رہے ہیں کہ ہم آپ کے کیس ختم کروا دینگے۔ ملک ریاض کے حمام میں نہانے والے خوش نصیب "اینکر نجم سیٹھی” نے ملک ریاض سے ایک کروڑ چورانوے لاکھ روپے وصول کئے اور موصوف نے تین امریکہ کے دورے اور ہوٹل کرایہ کی سہولت بھی حاصل کیں ان کو یہ رقم ڈی ایچ اے لاہور پاکستان بحریہ ٹاؤن اکائونٹ نمبر 14/7 swift code mucbpkkaa کے ذریعے کی گئی۔”اینکر منیب فاروق” نے بھی پانچ لاکھ روپے دبئی کا ٹرپ ایک ہفتہ فائیو اسٹار ہوٹل میں اسٹے حاصل کیا انہیں جو رقم ٹرانسفر کی گئی وہ عسکری بنک کے اکائونٹ نمبر 010001011011180 کے ذریعے کی گئی۔”کالم نگار اور اینکر جاوید چوہدری” ملک ریاض کے نام سے ایک کالم لکھنے کے لاکھ وصول کرتے تھےجو ملک ریاض کے اخبار روزنامہ جناح میں شائع ہوتا تھا۔ملک ریاض کی طرف سے لکھی گئی کتاب کی قیمت بحریہ ٹاؤن میں ایک دس مرلہ کا گھر مع ایک کروڑ روپے نقد وصول کئے جو یو بی ایل اکاؤنٹ نمبر 37100154 کے ذریعے ملے۔ "کالمکار نصرت جاوید” جن کے سید اور بٹ ہونے کا معاملہ ابھی حل طلب ہے وہ بھی اٹھہتر لاکھ روپے اور ٹیوٹا کرولا کار ملک ریاض سے چپکے سے لے اڑے انہیں جو رقم ٹرانسفر کی گئی وہ مسلم کمرشل بنک Main boulevard DHA لاہور اکاؤنٹ نمبر بحریہ ٹاؤن پرائیویٹ لمیٹڈ 14-7swift code MUCBPKKAA کے ذریعے کی گئی۔”اینکر مشتاق منہاس” نے بھی پچپن لاکھ روپے دو اقساط میں وصول کرنا ضروری سمجھا انکو یہ رقم بحریہ اکاؤنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کے اکاؤنٹ نمبر 51077-6 اور حبیب بنک لمیٹڈ ایل ڈی اے پلازہ برانچ لاہور کوڈ 1315swift HABBPKKAX315 سے کی گئی۔ "اینکر مبشر لقمان” جب دنیا ٹی وی سے وابستہ تھے تو انہوں نے ملک ریاض سے دو کروڑ پچاسی لاکھ روپے تین اقساط میں وصول کئے اور یہ رقم نیشنل بنک اکاؤنٹ کے ذریعے مبشرلقمان کو ٹرانسفر کی گئی جبکہ ایک مرسیڈیز بینز کار بھی تحفہ کے طور پر دی گئی۔
"اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود” نے ایک کروڑ سات لاکھ روپے کی پہلی قسط نیشنل بنک کے ذریعے وصول کی جبکہ موصوف نے سات ٹرپ دوبئی کے لگائے جس میں ہوٹل اسٹے اور کرائے پر کار کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔”صحافی و اینکرکامران خان” نے باسٹھ لاکھ روپے وصول کئے دو کروڑ روپے اور بحریہ میں گھر کی آفر خود قبول کرنے کی بجائے کسی تھرڈ پارٹی کے ذریعے وصولی۔ یہ رقم جو کامران خان کو ٹرانسفر کی گئی وہ این آئی بی سی بنک لمٹیڈ بحریہ ٹاؤن برانچ اکائونٹ نمبر 8283982 کے ذریعے کی گئی۔ کالم نگار اور ہر وقت الفاظ کے تیر برساتے اور خود کو قوم کو مسیحا ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرنے والا اور دوسروں کو گریبان دیکھانے والا "حسن نثار” بھی کسی سے پیچھے نہ رہا جنھوں نے ایک کروڑ اور دس لاکھ روپے وصول کئے اور دس مرلے کا بحریہ ٹاؤن میں پلاٹ بھی حاصل کیاانکو جو رقم ٹرانسفر کی گئی اسکا بھی اکاؤنٹ ٹائٹل بحریہ ٹاؤن پرائیویٹ لمیٹڈ اکاؤنٹ نمبر 42279 اور حبیب بنک لمیٹڈ ایل ڈی اے پلازہ برانچ Swift Habbpkkax315 ہے۔پاکستان کے بڑے اینکر جو جیو ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر میڈیا اور قوم کو سچ کا بھاشن دیتے اخلاقیات کی بات کرتے اور اپنے آپ کو دیانتداری کا پیکر سمجھتے ہیں جی ہاں "حامد میر” جنھوں نے دو کروڑ پچاس لاکھ روپے ملک ریاض سے وصول کئے پانچ کینال کا پلاٹ اسلام آباد میں حاصل کیا انکو جو رقم ٹرانسفر کی گئی وہ این آئی بی سی بنک لمیٹڈ / بحریہ ٹائون اکائونٹ نمبر 82840597 کے ذریعے ٹرانسفر کی گئی۔ پی ایف یو جے کے سابق سیکرٹری صحافیوں کو ضابطہ اخلاق اور دیانتدار ی سکھانے والے سینئر صحافی مظہر عباس بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے موصوف نے نوے لاکھ اور دس مرلے کا پلاٹ لاہور میں حاصل کیا۔ انہیں جو رقم ٹرانسفر کی گئی وہ ایم سی بی بنک اکائونٹ نمبر 0075232201000124 کے ذریعے کی گئی۔ "اینکر مہر بخاری” نے شادی ہونے سے قبل ہی اسلام آباد میں ایک کینال کا پلاٹ اورپچاس لاکھ روپےکی سلامی حاصل کرنے میں دیر نہیں لگائی۔ "اینکر آفتاب اقبال” نے دو کروڑ روپے اور ایک ٹیوٹا جیپ وصول کی اور ملک ریاض نے بیدیاں روڈ لاہور پر انہیں زمین بھی فارم ہاؤس کیلئے دی انہیں جو رقم ٹرانسفر کی گئی وہ بحریہ ٹاؤن برانچ اکاؤنٹ نمبر 3620 سے کی گئی۔ ایک دن جیو کے ساتھ پروگرام کے "اینکر سہیل وڑائچ” نے بھی ملک ریاض کیساتھ جو پروگرام کیا اس کے پندرہ لاکھ روپے اور ہنڈا سوک گاڑی حاصل کرنے میں دیر نہیں لگائی ان کو جو رقم ٹرانسفر کی گئی وہ بحریہ ٹاؤن کے اکاؤنٹ نمبر 42279-2 سے کی گئی اور اسی طرح حبیب بینک ایل ڈی اے پلازہ برانچ لاہور کوڈ 1315 swift HABBPKKAX315 سے کی گئی۔ "اینکر ثناء بُچّہ” نے تیراسی لاکھ روپے لاہور میں دس مرلے کا گھر اور مسلم کمرشل بنک Main boulevard DHA لاہور اکاؤنٹ بحریہ ٹاؤن اکائونٹ نمبر 14-7swifcode MUCBPKKAA سے کی گئی۔ "اینکر ارشد شریف” جن کو ملک ریاض کی جانب سے خصوصی سفارش پردنیا ٹی وی میں بیورو چیف کی سیٹ پر تعینات کیا گیا تھا موصوف نے دو اقساط میں پچاسی لاکھ روپے وصول کئے ان کو جو رقم ٹرانسفر کی گئی وہ اکاؤنٹ نمبر یو بی ایل 37100154 کے ذریعے کی گئی۔”اینکر عاصمہ شیرازی” نے پینتالیس لاکھ روپے وصول کئے انہیں جو رقم ٹرانسفر کی گئی وہ بحریہ ٹاؤن کے اکاؤنٹ نمبر 51077-5 اور حبیب بنک ایل ڈی اے پلازہ برانچ لاہور 1315 swift HABBPKKAX315 کوڈ کے ذریعے کی گئی۔ "اینکر سمیع ابراہیم” نے ایک کروڑ روپے ایک کینال کا بحریہ ٹاؤن میں پلاٹ اور ٹیوٹا کرولا گاڑی حاصل کی انہیں یہ رقم KASB بینک بحریہ ٹاؤن برانچ3710581401h کے ذریعے کی گئی۔ "ماروی سرمد” بھی فیضیاب ہونے والوں میں شامل ہیں۔ انہیں جو رقم ٹرانسفر کی گئی وہ بحریہ ٹاؤن برانچ سے اکاؤنٹ نمبر 8284059
کے ذریعے کی گئی۔۔۔۔ معزز قارئین!! ان اینکروں میں ڈاکٹر شاہد مسعود’ ارشد شریف’ مبشر لقمان’ مظہر عباس ان شخصیات کیساتھ سابقہ چینل اےآروائی میں کام کیا ھے۔معزز قارئین!! بڑے تجربے اور مشاہدے کے بعد میں یہ کہتا ھوں کہ ان سب اینکروں صحافیوں میں رتی برابر ہمت نہیں کہ کوئی میڈیا مالکان کے سامنے حق و سچ بول سکیں اور مالکان کے ظالمانہ غیر منصفانہ رویئوں پر اعتراض کرسکیں یا انھیں ظلم و بربریت سے روک سکیں۔ میرے ذرائع نے بتایا کہ اینکرز کسی اشو پر بات کرتے ہیں تو مالکان کے ساتھ باہم اشتراک سے لاکھوں وصول کرتے ہیں اس کی کئی حقیقتیں موجود ہیں۔ اینکرز ھوں یا بے ایمان صحافی ان سب نے میڈیا انڈسڑی کو دلال خانہ بنادیا ھے جہاں ریاست اور حساس اداروں کی ہرزہ سرائی کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا جس طرح تھانے بکتے ہیں اسی طرح بیورو بھی فروخت ھوتے ہیں اور جو رپورٹر یا معاونین بیورو چیف کی اچھی دلالی کرتا ھے وہ نور چشم بن جاتا ھے۔ صحافت کو ایک بازار بنا کر رہ دیا ھے کراچی پریس کلب میں میرے ایسے ایسے عظیم خودار باظرف باضمیر اور عزت نفس رکھنے والے بے پناہ سینئر صحافی موجود ہیں جن سے سیکھ کر دل خوش ھوجاتا ھے اورسچائی ایماندری کیساتھ صحافت کے رموز ہمیں جب وہ بتاتے ہیں تو یقین جانئیے وہ جو چند ایک بد نما صحافی اور اینکرز اور چھپی کالی بھیڑیں ھیں جو اپنے ضمیر کا سودا کرکے میڈیا انڈسٹری کو بدنام کرتے تھکتے نہیں ان کے منفی روئیوں سے دکھ اورافسوس ھوتا ھے ایسے لوگ ہمارے درمیان آٹے میں نمک کےبرابر ہیں اسی لیئے میں وزیراعظم جناب عمران خان صاحب کو کہتا ہوں کہ آپ کے پاس اب وقت کم ھے اگر واقعی عمران خان اور ان کے وزراء و مشیران اس ملک و قوم سے مخلص ہیں تو دو تین ماہ میں میڈیا انڈسٹری کو احتسابی دائرے میں ضرور بلضرور لائے تاکہ حقیقی معنوں میں میڈیا درست اور صحیح سمت میں کام کرتے ھوئے آگے بڑھیں وگرنہ یہ پی سی ایل کے جواری ہیں جواری ہی رہیں گے اور دولت کی ہوس میں ملک دشمن کو تقویت در تقویت پہنچائیں گے۔عمران خان صاحب پی سی ایل کو تمام میڈیا مالکان سے جدا کی جائیں تاکہ میڈیا ہر سال پی سی ایل میں جوا کھیلنے کے بعد ڈاؤن سائزنگ کے نام پر معاشی قتل کرنا نہ شروع کردیں اسی لیئے اب پی سی ایل میڈیا مالکان سے علیحدہ کرنے کیلئے ناگزیر ھوچکا ھے۔۔۔ پاکستان سب سے پہلے اور عظمتِ قوم’ عظمتِ افواج کو قائم رکھا جائے۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیق

Exit mobile version