*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: میڈیا انڈسٹری کی بڑی شخصیات کٹہرے میں کھڑے ہوں۔۔۔!!*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرونک میڈیا ان دونوں میں ایک ایسا طبقہ وارد ھے جس نے پوری میڈیا انڈسٹری کو نہ صرف ناپاک بلکہ گدلہ اور غلیظ بنادیا ھے یہ طبقہ مالکان کے انتہائی قریب اور چینل و اخبارات کے مالکان کی سپورٹ والا بھی ھے اسی سبب وہ صرف اپنی اور مالکان کے مفاد کو ہی مقدم و مقدس سمجھتا ھے۔ یہ مختلف شعبہ جات میں اچھی حیثیت اور اختیارات کیساتھ بھی موجود رہتا ھے ان سب کے حضور کراچی کے سینئر جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے چند سوالات رکھے ہیں۔ پہلا سوال گزشتہ روز بجٹ 2024۔2025 پر چینلز میں گریڈ 1 تا 16 یعنی نان گزیٹیڈ ملازمین کی پینشنرز میں 15 فیصد اضافہ کو بھی حوّا بناکر پیش کیا، کیا آپ سب اس طبقہ کی حقیقت اصلیت اور زمینی صورتحال سے مکمل واقف ہیں یا پھر فرضی اور غیر مشاہدی بنیاد پر الزام و تہمت داغ ڈالتے ہیں؟؟ ذرا اس بابت وضاحت کیجئے۔ دوسرا سوال یہ ھے کہ اشرفیہ، ایلیٹ جماعت، ججز، بیوروکریٹس اور افواج پاکستان کے ون سے فور اسٹارز کو ملنے والی بیشمار مراعات و سہولیات کیا ریاست پاکستان سے تعلق نہیں رکھتیں اس غریب اور کمزور ملک کیلئے یہ مراعات ممکن ہیں اس پر لب کشائی کیوں نہیں کرتے؟؟ مجھ سمیت کئی سو صحافی، رپورٹرز، کیمرہ مین اور دیگر میڈیا پرسن بیروزگاری سے دوچار ہیں اور اسکے دلدل میں مسلسل پھنسے ہوئے ہیں اسکی سب سے بڑی وجہ میڈیا انڈسٹری میں تنخواہوں کا عدم توازن، غیر منصفانہ عمل اور بندر بانٹ نظان ھے کیا میڈیا انڈسٹری میں تنخواہیں و مراعات گریڈ یا گروپ کے شیڈول کے تحت مرتب نہیں ہوسکتیں یقیناً ھوسکتی ہیں جبکہ ہر نجی ادارہ جس میں بینک ہو یا صنعت و حرفت یا پھر کاروباری کمپنیاں سب کی سب اسی ریاست پاکستان میں لیبر قوانین اور ریاست کے قوانین کے مطابق تنخواہیں اور مراعات فراہم کرتی چلی آرھی ہیں اس پر کھل کر بات کیوں نہیں کی جاتی سکتی اور کیا نجی کمپنیوں میں وارد لیبر قوانین کے تحت شیڈول میڈیا انڈسٹری میں لاگو نہیں کیا جاسکتا؟؟ آپ سے تیسرا سوال یہ ھے کہ میڈیا انڈسٹری کے چینلز اور دیگر اداروں اور بڑی شخصیات کا سالانہ آڈٹ کیوں نہیں ہوتا، کیا یہ آئین و قوانین سے آزاد ہیں؟؟ میڈیا انڈسٹری کو اخلاقی اور مذہبی دائرہ میں رہنے پر پابند ضرور کریں مگر اپنی ذات، اپنی سیاست جماعت اور کرپٹ شخصیات کی نشاندہی پر قدغن لگانا خود ایک بڑا جرم اور گناہ ھے اس بابت آپ سب نے کس قدر اپنا رول ادا کیا؟؟ آپ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ کتنے اینکرز، صحافی، کالمکار، تجزیہ نگار، مبصر، صحافی تنظیم کے سربراہان، کلبس کے صدور و سیکریٹریز اور نیوز کنٹرولر و ڈائریکٹر نیوز جنھوں نے ذاتی مال و دولت بنانے کیلئے ہر غیراخلاقی و غیر قانونی راستہ اپنایا تھا اور ھے اس پر آپ سب کبھی بھی نہ بولے آخر کیوں؟؟ کیا آپ سب نہیں سمجھتے اور خواہش رکھتے ہیں کہ میڈیا انڈسٹری کا ماحول عدل و انصاف پر سکون اور خوشگوار ہو تو مالکان کو احساس دلائیں کہ چینل ادارہ اور ریاست کی بہتری کے خاطر قوانین اخلاقیات اور قوانین قرآن کو ہرگز ہرگز فراموش نہ کریں، اس عمل سے ایک جانب میڈیا انڈسٹری میں بیروزگاری کا خاتمہ یقینی ہوجائیگا تو دوسری جانب خوشحال و خوشگوار ماحول بن جائیگا۔۔۔۔۔!!
