*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: میموگیٹ کی حقیقت اور قوم کی ذمہداریاں۔۔۔۔!!*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
مئی سنہ دو ہزار گیارہ عیسوی میں آصف علی زرداری کی جانب سے امریکن ایڈمرل مائکل مولن کے نام ایک خط لکھا گیا "جس میں اوباما انتظامیہ سے پاک فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف مدد مانگی گئی اور بدلے میں مندرجہ ذیل پیشکش کی گئیں تھیں” جن میں امریکی سفارشات کی روشنی میں اسامہ بن لادن کو پناہ دینے یا اس سے تعلقات رکھنے والے تمام مشتبہ جرنیلوں کے خلاف کاروائی اور اس کاروائی کے نتیجے میں پاک افواج کی تمام سینئرز قیادت بشمول جنرل کیانی اور جنرل پاشا کی فوری معطلی شامل تھیں”۔ امریکہ کی پسندیدہ ترین شخصیات پر مشتمل ایک نئے سول دفاعی ادارے کا قیام جو آئی ایس آئی کو کنٹرول کریگی”۔ امریکہ فورسز کو پاکستان بھر میں کہیں بھی آپریشن کرنے کی اجازت جس میں سول حکومت پوری طرح انکی مدد کرے گی”۔ مذکورہ سول دفاعی ادارہ ایمن الظواہری ملا عمر اور سراج الدین حقانی کو فوری طور پر امریکہ کے حوالے کر دیگا”۔ یہ نیا سول دفاعی ادارہ آئی ایس آئی کے "سیکشن ایس” کو بند کر دیگا جو افغان طالبان کی مدد اور سپورٹ کرتا ہے اس طرح افغان طالبان اور آئی ایس آئی میں موجود خفیہ اتحاد کو توڑ دیا جائیگا”۔ 3ممبئی حملوں میں انڈیا کو مطلوب تمام پاکستانیوں کے خلاف فوری کاروائی اور انکی انڈیا حوالگی بشمول آئی ایس آئی کے حاضر سروس انٹیلی جنس افسران کے شامل ھوگا”۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی نگرانی کیلئے امریکہ کے ساتھ ایک مشترکہ فرم ورک کے قیام پر آمادگی دوسرے لفظوں میٰں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو امریکی نگرانی میں دینے اور ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے کی پیشکش شامل ھوگی”۔ اس مراسلے کا انکشاف پاکستانی نژاد بزنس مین منصور اعجاز نے اپنے ایک آرٹیکل میں کیا تھا "اس نے دعوی کیا کہ آصف علی زرداری حکومت نے پاک افواج کو لگام ڈالنے اور آئی ایس آئی کو ختم کرنے کیلئے امریکی مدد مانگی ھے اسکی وجہ یہ ہے کہ پاک افواج کو یقین ہوگیا ھے کہ ایبٹ آباد آپریشن آصف علی زرداری کی ایما پر امریکینز نے کیا اس لئے فوج بغاوت پر آمادہ ھے۔ "اس مراسلے کا خالق آصف علی زرداری کا مقرر کردہ سفیر حسین حقانی تھا جس نے یہ مراسلہ آصف زرداری کے حکم پر تیار کیا تھ ” انیس اپریل سنہ دو ہزار بارہ عیسوی کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک پیٹیشن دائر کی گئی جس میں حیسن حقانی کو بذریعہ انٹر پول واپس پاکستان لانے کی درخواست کی گئی کیونکہ اس نے واپس آنے سے انکار کردیا تھا لیکن بعد میں حسین حقانی واپس آیا اور اس سے استعفی لے کر معاملے کی تحقیقات شروع کردی گئیں مائکل مولن نے تصدیق کی کہ انہیں یہ مراسلہ ملا تھا”۔ افتخار چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے خود معاملے کی تحقیقات کیں اور بارہ جون کو اپنا فیصلہ سنایا کہ مراسلہ حقیقت تھا اور اس کا خالق حسین حقانی تھا جو ملک کے مفادات سے غداری کا مرتکب ہوا۔ حقانی کو سفیر مقرر کرنا آصف علی زرداری کی غلطی تھی”۔ اس وقت کی سپریم کورٹ نے دو کمالات دکھائے، پہلا یہ کہ مذکورہ فیصلہ سنانے سے پندرہ دن پہلے حسین حقانی کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دے دی جس نے امریکہ پہنچتے ہی پاکستان کے خلاف دوبارہ زہر اگلنا شروع کردیا۔ یاد رھے کہ یہ اس وقت بھی وہ پاکستان کو ایف سولہ طیارے دینے کا سب سے بڑا مخالف بنا ہوا تھا۔ دوسرا یہ کہ جن شواہد کی بنیاد پر حیسن حقانی کو غداری کا مجرم قرار دیا گیا عین انہی شواہد پر آصف علی زرداری کا معاملہ گول کرکے اس کو صاف بچا لیا گیا”۔
حسین حقانی کی وکالت عاصمہ جہانگیر نے کی۔وہ مسلسل عدالت کے ججوں پر جانبداری کے الزامات لگاتی رہیں لیکن اسکے خلاف توہین عدالت کی کوئی کاروائی نہیں ہوئی”۔ آصف زرداری نے عدالت میں جواب تک داخل نہیں کروایا، الٹا سپریم کورٹ پر سخت تنقید کی اور مراسلے کو محض کاغذ کا ایک ٹکڑا قرار دیا”۔ آج وہی آصف علی زرداری کسی کی مہربانی سے پاکستان کا دوسری مرتبہ صدر بن گیا ھے جس نے اوباما انتظامیہ سے پاک افواج اور آئی ایس آئی کیخلاف مدد مانگی تھی۔ اب عوام کو سنجیدگی سے سوچنا ھوگا کہ پاکستان کے خلاف کتنی بڑی سازش ھوئی اور غدار کون کون ھیں؟”۔ ھم عوام کو مسلسل اٹہتر سالوں سے اشرفیہ سیاسی جماعتوں حکمرانوں اور ایلیٹ جماعت بیوقوف بناتی چلی آرھی ھیں انہی طبقہ نے اس عوام کے کاندھوں پر اپنے عیش و عشرت میں خرچ ھونے والے تخمینوں کا بوجھ لادتے رہنا ھے اور یہ بیغیرت قوم انہی کے نعرے لگاتے لگاتے اپنے اور اپنی نسلوں کا مستقبل تاریک کرتے رہنا ھے جبتک اس بیغیرت بے ضمیر قوم میں اتحاد اتفاق یگانگت یقین پیدا نہیں ھوگا یہ طبقہ انہیں گدھا بناکر سواری کرتے رہیں گے انہیں اور انکی نسل در نسل کو بد ترین غلامی کی زنجیروں میں قید کرتے رہیں گے۔ نظام کی تبدیلی کیلئے قوم کا بدلنا ناگزیر ھوچکا ھے۔ غیور قوم ہی ملک کی قسمت بدل سکتی ھیں، کسی کو برا بھلا کہنے سے بہتر ھے قوم اجتماعی طور پر خود کو سدھارے اور مسلکی نفرت، تعصب، لسانیت، عصبیت، اقربہ پروری اور مذہب و انسانیت دشمنی سے باہر نکلے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر دین محمدی ﷺ کے اصولوں پر سختی سے کاربند ھوجائے تو عوام خود دیکھے گی کہ ان ظالموں جھوٹوں منافقوں غداروں اور جعل سازوں کو الٹے پاؤں ملک پاکستان سے بھاگتے دیکھیں گے انشاءاللہ۔۔۔۔!!
