BBC Urdu TV

عنوان: میرپورخاص، ٹرین سروس، دل خون کے آنسو روتا ھے

*ٹائٹل : بیدار ھونے تک*

*عنوان: میرپورخاص، ٹرین سروس، دل خون کے آنسو روتا ھے۔۔۔۔!!*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

سندھ کا تیسرا بڑا ڈویژن میرپورخاص جو اپنے چاروں اطراف زرعی اعتبار سے بھرپور بین الاقوامی منڈی میں خاص مقام رکھتا ھے یہاں کی زرعی اجناس میں گیہوں کپاس گنا امرود کیلا مرچیں ٹماٹر اور خاص طور پر آم بہت نایاب و منفرد ھونے کے علاوہ دیگر اجناس بھی اندرون ملک و بیرون ملک میں بھرپور منافع بخش کاروبار کی حیثیت رکھتی ھیں۔ میرپورخاص ریلوے ایک بڑا جنگشن ھے جو کئی شہروں کو ریل سروس سے ملاتا ھے لیکن عدم توجہ اور حکومتی لاپرواہی کے سبب یہ جنگشن تباہ و بربادی کے دھانے پہنچ چکا ھے ، ایک زمانہ تھا جب میرپورخاص جنگشن سے مال گاڑیوں کا لامتناہی سلسلہ شب و روز متحرک رہتا تھا اس وقت چھوٹی لائن اور اسٹیم انجن تھے پھر بھی کاروباری ھو یا سفر سطح پر مصروف ترین جنگشن رہا مانا کہ یہ جنگشن مین لائن پر موجود نہیں مگر پھر بھی اپنی محل و وقوع کے سبب مصروفیت میں مشغول رھا وقت گزرتا رھا حکومتیں آتی جاتی رہی لیکن جو بھی وزیر ریلوے آیا اس نے اس شعبہ کو سوائے نقصان اور تباہی کے کچھ نہ دیا خاص طور پر اے این پی کے بلور نے تمام حدیں پار کرکے پاکستان ریلوے کی کرچیاں کر ڈالیں۔۔ معزز قارئین!! میرپورخاص سے حیدرآباد کسی زمانہ میں نوے کلومیٹر فی گھنٹہ کی اسپیڈ سے آپ اینڈ ڈاؤن بیس ٹرینز چلا کرتی تھیں، آج کے جدید دؤر میں ٹرینز چالیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی اسپیڈ سے صرف تین ٹرینز چل رہی ہیں، میرپورخاص سے حیدرآباد پورے ٹریک کی حالت خراب، بغیر مرمت کے اسپیڈ بڑھائی گئی تو کوئی بھی حادثہ پیش آسکتا ہے، اس سیکشن پر بھی اسٹاف انتہائی کم اتنے بڑے جنگشن پر صرف دو سے تین گاڑی چلتی ہیں۔ ٹرین سے حیدراباد کا سفر ایک گھنٹہ دس منٹ ہوا کرتا تھا جو اب ایک گھنٹہ چالیس سے پینتالیس منٹ ہوچکا ہے۔ میرپورخاص سے حیدراباد ٹریک پر اسٹاف کی کمی، اسٹاف نہ ہونے کے برابر ہے جن لوگوں کی یہاں ڈیوٹیاں تھیں انہیں دوسرے سیکشن پر بھیج دیا گیا ہے۔ میرپورخاص سے حیدراباد کے تباہ حال ٹریک کو دیکھا جائے تو کرپشن کی نئی داستانیں ملتی ہیں اور حکمرانوں کی لاپرواہی زیادتی اور ہٹ دھرمی کی بڑی بڑی داستانیں میرپورخاص ٹو حیدراباد کسی دؤر میں پاکستان ریلویز کا کامیاب ترین سیکشن تھا اور اب اس وقت ہر سہولیات سے محروم اور تباہ حال ریلوے ٹریک بن چکا ہے۔ میرپورخاص سے نوابشاہ و جھڈو لوپ سنہ دو ہزار پانچ سے مکمل تباہ اربوں روپے مالیت کی بلڈنگز کوارٹرز قبضہ مافیہ کے قبضہ میں ہے، میرپورخاص ریل کی واشنگ لائن نشہ کرنے والے لوگوں کو گفٹ کردی گئی ہے، ریلوے افسران مکمل طور پر لا تعلقی کرچکے ہیں۔ میرپورخاص سے ٹنڈو الہ یار، ٹنڈوجام، حیدرآباد ایک بڑا ٹریک ہے۔ گورنمنٹ آف پاکستان سے مطالبہ ہے کہ اس ٹریک کو مکمل طور پر دوبارہ سے تعمیر کیا جائے تاکہ پاکستان ریلویز کی آمدن میں واضع اضافہ ہوسکے اور عوام اپنی سفری سہولیات باآسانی کر سکیں اور تجارتی بنیاد پر مال گاڑیوں کا استعمال زیادہ سے زیادہ رکھا جائے تاکہ ایک جانب میرپورخاص ڈویژن کے تاجر زیادہ سے زیادہ مال کی ترسیل بہتر انداز میں کرسکیں دوسرا پاکستان ریلوے کو زیادہ آمدن کا فائدہ مل سکے۔ میر پورخاص ایک بڑا جنکشن ہے جھڈو لوپ و نواب شاہ اسٹیشن سے بہت ٹرینیں چلا کرتی تھی جو چھوٹے چھوٹے شہروں کو جاتی تھی اسے مکمل بند کردیا گیا ہے ان سیکشنز کی دوبارہ بحالی میرپور خاص کی عوام کا مطالبہ بھی ھے۔ میرپور خاص سے حیدراباد اور کراچی کیلئے مزید ٹرینیں چلائی جائیں اس وقت میرپورخاص سے جو دو سے تین ٹرینیں چلتی ہیں ان میں تین سے چار ڈبے لگے ہیں جو ضرورت سے بہت کم ہیں روزانہ ہزاروں افراد میرپور خاص سے حیدرآباد اور کراچی سفر کرتے ہیں۔ پچھلے دس سے پندرہ سالوں سے میرپورخاص کی عوام کو ٹرانسپورٹ مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے اور سب سے بہترین سفری سسٹم ٹرین جسے مکمل طور پر تباہ کردیا گیا تھا عوام کی بہت زیادہ احتجاج پر صرف دو ٹرینیں چلائی گئی ہیں۔ میں دس سال قبل لاہور ہیڈ آفس پاکستان ریلوے گیا تھا اس وقت سعد رفیق وزیر ریلوے تھے وقت کی کمی کے باعث ان سے ملاقات نہیں ھوسکی لیکن ان کے پی آر او یعنی سیکریٹری سے ملاقات ھوئی انہیں میرپورخاص ریلوے کی زبوں حالت اور ٹرین کی بندش پر آگاہ کیا اور چلتے چلتے بآور کرایا کہ عوامی فلاحی بنیاد پر اس ٹریک کو آباد کریں گے تو میں سب سے پہلے تعریفی کلمات کی خبر لگاؤ گا کچھ ماہ بعد سعد رفیق صاحب نے دو ٹرینیں شروع کیں جو قابل تعریف ھیں مگر پھر اس پر توجہ کسی نے نہیں دی اب جبکہ صدر پاکستان آصف علی زرداری اسی خطے سے وابسطہ ھیں اور انکے سیاسی اتحادی ساتھی وزیراعظم پاکستان شہباز شریف ہیں اور انہیں کی جماعت کے وزیر ریلوے اور پی پی پی کے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ تیسری بار منتخب ھوئے ھیں ان سب سے امید اور توقع کرتا ھوں کہ سنہ دو ہزار پچیس تک میرپورخاص ریلوے ٹریک کو مثالی بنانے میں اپنا موثر کردار ادا کریں گے اور ان سب سے مطالبہ کرتا ھوں کہ میرپورخاص اور حیدراباد کے درمیان ریلوے ٹریک کو دوبارہ از سر نو سے تعمیر کرکے سبک رفتار مضبوط ٹریک بنادیا جائے تاکہ میرپورخاص تا کراچی ایک گھنٹہ کا فاصلہ ھوجائے اور مزید جدید سبک رفتار ٹرینیں بھی چلائی جائیں اور میرپورخاص سے جھڈو لوپ و نوابشاہ سیکشن کو دوبارہ بحال کرکے دیہی و شہری عوام کو جدید سبک رفتار ریل کے سفر سے فائدہ پہنچایا جائے تاکہ ایک جانب ریلویز کی آمدن میں اضافہ ہوسکے دوسری جانب سفر آرام دہ اور مقصود منزل کم وقت میں ممکن ہوسکے۔ صدر پاکستان آصف علی زرداری، وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، وزیر ریلوے اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ آپ سب کو ڈوب مرنے کا مقام ھے کہ چند گھنٹوں کے فرق سے آپکا پڑوسی ملک بھارت جس قدر ریلوے میں ترقی اور جدت اختیار کرچکا ھے ممکن ھے اگر یہی بے حسی بے حیائی بے شرمی بیغیرتی قائم رہی تو آپ سب کی ہزار نسلیں بھی بہتر نہیں کرسکیں گی ترقی و کامیابی کیلئے نیک نیتی خلوص سچائی اور ایمان کی شرط لازمی ھوتی ھے اگر آپ سب میں رتی برابر ابھی باقی ھے تو خدارا اس بابت مثبت کام کر جائیں بصورت تاریخ آپ کو اچھے کلمات سے قطعی یاد نہیں کریگی، یاد رکھئے انسان اور جانور میں فرق ھے گر آپ سب میں شعور ھو تو ۔۔۔!!

Exit mobile version