*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان : مٹی کا پتلا ، مٹی میں غرق*
*کالمکار : جاوید صدیقی*
بیشک اللہ واحد لاشریک نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا اور جنات کو آگ سے ، آگ کی خصلت میں ضد ، اکڑ اور غرور ھے جبکہ مٹی کی خصلت میں نرمی ، انکساری و عاجزی اور ٹھنڈک ھے۔ جب رب العزت نے حکم دیا کہ آدم سب سے پہلا انسان اور نبی کو تعظیمی سجدہ کرو تو اللہ تباک تعالیٰ کی تمام مخلوق نے سجدہ تعظیمی بجا لائے صرف ایک نافرمان شیطان ابلیس اکھڑ گیا اور رب العزت سے کہنے لگا کہ اسے میں نے رب تیرے حکم سے اپنے ہاتھوں سے بنایا ھے یہ مجھ سے کمتر ھے میں اسے کسطرح سجدہ کروں جبکہ میں اعلیٰ ہوں اللہ نے اسے وقت اسے اپنے دربار سے نکال کر اسے لعنت کا طوغ پہنا کر دنیا میں پھینک دیا۔ شیطان نے رب سے اجازت چاہی کہ تا قیامت میں تیرے بندوں کو گمراہ ، بھٹکا اور دھوکہ دیتا رہونگا تو اس کی یہ درخواست رب نے قبول کرلی اور بتادیا کہ رحمٰن کے بندے جب جب دعا کریں گے قبول کرونگا اور سیدھی راہ پر چلیں گے تو انکا حصار بنادونگا تاکہ وہ تیرے شر سے محفوظ رھ سکیں۔ معزز قارئین عصر حاضر میں سب سے بڑا فتنہ و فساد دولت کی ہوس اور مال کا جمع کرنا ھے۔ ہم مسلمانوں کیلئے رب العزت نے پیارے حبیب محمد مصطفیٰ ﷺ کے ذریعے قرآن پاک نازل کیا جو جشمہ ہدایت اور روشن دلیل ھے جس زبان رب اور کلام الہٰی ھے جس نے قرآن و حدیث کو سمٹائے رکھا اور پڑھنے کیساتھ ساتھ زندگی کے ہر فعل میں شامل رکھا تو ایسے مسلمان دونوں جہاں کی دولت عزت اور مرتبہ کو پالیتے ہیں۔ انسان جب بھی پیدا ھوتا ھے تو وہ مسلمان ہوتا ھے کیونکہ روح اور جسم کا خالق و مالک رب الکائنات ہی ھے شعور کی زندگی میں آکر انسان دنیا کے رنگ میں بدل جاتا ھے کسی بھی مذہب یا لا مذہب میں۔ اس کالم میں ایک حقیقی واقعہ پیش کررہا ہوں، قصہ کچھ اس طرح کا ھے کہ ممتاز کاروباری شخصیت اور ایپل کمپنی کے چیئرمین، ارب پتی اسٹیو جابز، چھپن سال کی عمر میں لبلبے کے عارضے کینسر کے باعث انتقال کر گئے۔ انہوں نے سات ارب ڈالر کی دولت چھوڑی اور یہ ہیں انکے چند آخری الفاظ:
"میری موجودہ حالت سے، میری زندگی کامیابی کا جوہر نظر آتی ہے، لیکن مجھے اپنے پاس موجود چیزوں سے زیادہ خوشی محسوس نہیں ہوتی۔ آخر میں، دولت محض ایک عدد بن گئی ہے یا ایسی چیز جس کی میں عادت ڈال چکا ہوں۔ اس لمحہ، جب میں اپنے بستر پر لیٹا ہوں، بیمار ہوں اور اپنی زندگی کی فلم یاد کررہا ہوں، مجھے احساس ہوتا ہے کہ میری ساری شہرت اور دولت موت کے سامنے بے معنی ہیں۔ آپ کسی کو گاڑی چلانے کیلئے، یا نوکر کو آپکے کام کرنے کیلئے، یا قائدین کو آپکے کاروبار کو چلانے اور مزید پیسہ اور شہرت حاصل کرنے کیلئے کرائے پر لے سکتے ہیں۔ لیکن یقیناً آپ کسی کو بھی، کسی قیمت پر بھی، اپنے درد یا بیماری کو برداشت کرنے کیلئے کرائے پر نہیں لے سکتے۔ انسان جتنی بھی مادی چیزیں چاہے، حاصل کرسکتا ہے، لیکن ایک چیز جو کھو جانے پر کبھی واپس نہیں ملتی وہ ہے "زندگی”۔ جیسے جیسے ہم عمر میں بڑے ہوتے جاتے ہیں، ہم زیادہ سمجھدار ہوتے جاتے ہیں، اور ہمیں احساس ہوتا ہے کہ چاہے گھڑی کی قیمت تیس ڈالر ہو یا تین ہزار ڈالر، دونوں ایک ہی وقت دکھاتی ہیں اور ہمیں احساس ہوتا ہے کہ چاہے ہم تیس ڈالر کی یا پانچ سو ڈالر کی بٹوے میں پیسے رکھیں، رقم وہی رہتی ہے اور چاہے ہم ڈیڑھ لاکھ ڈالر کی گاڑی چلائیں یا پندرہ ہزار ڈالر کی، راستہ اور فاصلہ وہی رہتا ہے اور ہم آخرکار ایک ہی منزل پر پہنچتے ہیں۔ چاہے ہم تین سو مربع میٹر کے گھر میں رہتے ہوں یا تین ہزار مربع میٹر کے، تنہائی وہی رہتی ہے اور ہم چند میٹر سے زیادہ جگہ پر نہیں سوتے۔ آپکی حقیقی اندرونی خوشی مادی چیزوں سے نہیں آتی جو آپکے پاس ہیں۔ چاہے آپ پہلی جماعت میں سفر کریں، یا اقتصادی کلاس میں، اگر جہاز گر جائے تو سب گر جاتے ہیں۔ لہٰذا، میں امید کرتا ہوں کہ آپ سمجھیں کہ جب آپکی زندگی میں ایک اعلیٰ مقصد ہو، اور آپ نے دوسروں کو خوش کیا ہو، تو یہی حقیقی خوشی ہے! اور چند حقائق ہیں جن پر ہمیں دھیان دینا چاہئے اپنے بچوں کو امیر ہونا نہ سکھائیں۔ انہیں خوش ہونا سکھائیں۔ تاکہ جب وہ بڑے ہوں تو انہیں چیزوں کی قیمت معلوم ہو، نہ کہ قیمت۔ اپنا کھانا دوا کی طرح کھائیں، ورنہ آپکو دوا کو کھانے کی طرح کھانا پڑیگا۔ اپنا پیسہ دھوپ میں چھوڑ دو اور سایہ میں بیٹھو۔ اپنے آپ اور اپنے ارد گرد کے لوگوں پر خرچ کرنے میں بخل نہ کرو کیونکہ پیسہ ہمیں جینے کیلئے دیا گیا ہے، نہ کہ پیسے کیلئے جینا۔ "ان لوگوں سے محبت کرو جنہیں اللہ نے تمہارے پاس بھیجا ہے، اور انکے ساتھ احسان کرو، ایک دن آپکو ایک دوسرے کی ضرورت ہوگی۔” اگر آپ امیر زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو اکیلے جاؤ! لیکن اگر آپ خوش رہنا چاہتے ہیں، تو دوسروں کے ساتھ جاؤ!! اللہ کا شکر ادا کریں ان نعمتوں کیلئے جو بے شمار ہیں۔ معزز قارئین !! میں نے اپنی زندگی میں کچھ لوگوں کا بغور مطالعہ کیا جن سے براہ راست رابطہ و تعلقات بھی تھے ایک نہیں کئی پاکستانی شخصیات تھیں جو موت سے قبل موت کی وادی میں چلے گئے تھے یعنی "کومہ” میں۔ دولت اسقدر کمائی کہ بے حساب لیکن علاج بے سود یہ مالدار بااختیار شخصیات بیرون ملک علاج کراتی رہیں کھربوں رقم خرچ ہوئی نتیجہ وہی موت۔ پیچھے بے انتہا دولت چھوڑنے کے باوجود لحد میں صرف کفن اور اعمال ساتھ گیا۔ ان مالداروں کی چھوڑی گئی دولت کو جس جس طرح استعمال کیا جاتا رھا ھے تو مجھے احساس ہوا کہ کاش یہ اصحاب کرام و اجمعین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دولت کو نجات کا باعث بنادیتے خیرات صدقات امداد کے دریچے در دریچے کھول دیتے۔ سفید پوشوں کے دو آنسو پونچھ لیتے خیر جو زندہ ھیں اشرفیہ، ایلیٹ جماعت، نوکر شاہی طبقہ، پارلیمینٹیرین، سیاستدان و حکمران، جرلز اور ججز و جسٹس کچھ سنبھل جائیں وگرنہ رب کے ہاں سزا و جزا کا عمل واضع اور شفاف ھے۔ اس وقت ہزاروں مجبور و مفلس کمزور و مستحقین اور سفید پوش گھرانوں کی بادہ خواتین کے آنسو رائیگا نہیں جائیں گے تم سب اشرفیہ، ایلیٹ جماعت، نوکر شاہی طبقہ، پارلیمینٹیرین، سیاستدان و حکمران، جرلز اور ججز و جسٹس نے ملکر اس ملک کو اس ریاست کو اور اس قوم کو آئی پی پیز کے ظالمانہ عمل میں دھنسادیا، مہنگائی آسمان تک پہنچادی۔ آج کی عوام تم سب کیلئے روز بد دعا کرتی چلی آرھی ھے مجھے ڈر ھے کہ کسی کی بھی بد دعا رب نے قبول کرلی تو تم سب روز قیامت کیا منہ دکھاؤ گے۔ یہ عارضی زندگی کیلئے ہوس دولت میں اس قدر ظلم مت کرو تم مٹی سے بنو ہو آج نہیں تو کل مٹی میں چلے جاؤ گے۔۔!!
