BBC Urdu TV

عنوان: من حیث القوم ھمیں خود بدلنا ھوگا۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: من حیث القوم ھمیں خود بدلنا ھوگا۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

دنیا کے بڑے اور عظیم رہنماؤں لیڈروں اور سپہ سالاروں کے نشانِ اعمال میں سب سے پہلے اپنی قوم کیلئے نیک نیتی کیساتھ خلوص احساس اور درد پنہا ھوتا ھے۔ تاریخِ انسانی ہو یا دنیائے تاریخ یا اسلامی تاریخ ہمیں بتاتی ھے کہ ریاستوں کی خوشحالی و ترقی وہاں کے آزادانہ فیصلے اور آزادانہ خارجہ و داخلہ پالیسیاں تھیں۔ حکمران سے لیکر وزیر و مشیران تک اپنے اپنے منصب کو عوام کی خدمات کا بہت بڑا ذمہدارانہ مقام سمجھتے تھے اسی سبب وہ ذاتی زندگیوں میں سادگی کفایت شعاری کو اپناکر دفاعی و معاشرے کیلئے بھرپور آسانیاں پیدا کرتے تھے۔ ھمارا ملک پاکستان میں جب سے جمہوری نظام رائج ھوا ھے تب سے نہ یہاں جمہوریت نظر آئی اور نہ ہی دیگر ادارے و شعبے اپنی اپنی سمت میں کھڑے نظر آئے۔ آئین تو صرف ایک کاغذ پر تحریر ھوکر رہ گیا جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے منقولہ کے تحت نظام ریاست رواں دواں ہیں۔ نظام حکمران اور اداروں کے سربراہوں کی ناہلی غفلت اور منافقت کے سبب پاکستانی قوم اور مقید قوم بن کر رہ گئی ھے۔ مقید قوم کو انسانی حقوق سے محروم رکھا جاتا ھے اور اس پر مشقت بوجھ اور ذہنی اذیت کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں آج یہی حال اس قوم کا ھے اشرفیہ نوکراہی طبقہ عیش و تعائش میں زندگی بسر کررہا ھے جبکہ بظاہر آزادی اور جمہوریت کے نام پر غیروں کی غلامی میں تمام حدیں پار کرلی ہیں۔ عوامی دولت یعنی قومی خذانے کی لوٹ مار کوئی جرم ہی نہیں رہا وجہ ہمارے انصاف کے اداروں میں بددیانتی کرپشن اور اقربہ پروری کا تسلسل ھے۔ ھم عوام نے عصرِ حاضر میں ممالک کو خوشحالی و ترقی کی جانب بڑھتے ھوئے دیکھا تو تحقتق و مشاہدے سے معلوم ھوا کہ وہ اپنے ملک و قوم سے انتہاء کے درجے پر مخلص پائے گئے۔ وہاں نہ کسی مذہبی جماعتوں کی بلیک مینگ نظر آئی اور نہ ہی کسی مسیحا ڈاکٹر کی جعل سازی وہاں ڈاکٹر ہیں ڈاکوٹر نہیں یہی حال ھم نے جرائم کی روک تھام اور ختم کرنے والے ادارے پولیس کو دیکھا تو وہ نہایت ایماندار نظر آئے مجرموں کیساتھ سخت رویہ مگر عام شہری کیساتھ انتہائی مودبانہ اور شریفانہ برتاؤ اور اگر عدالتوں کی طرف جائیں تو انصاف ایک مزدور کسان کی دہلیز پر بآسانی انتہائی کم خرچے پر دیکھا اچھے عمل کا صلہ اور برے عمل پر سخت سزا بھی دیکھیں پھر ھم جو خود کو اسلام کا قلعہ کہتے تھکتے نہیں خود کو فخریہ مسلمان اور عاشقِ رسول کی گردانے کرتے رکتے نہیں یہ زبانی بیانی ھم عوام سمیت ہر شعبہ ادارہ اور سیاسی جماعتوں کا وطیرہ بن چکا ھے ھم سب کو پاکستان کی سلامتی خوشحالی و ترقی کیلئے بدلنا ھوگا۔ حق و سچ کو اپنانا ھوگا۔ عداوتیں نفرتیں عصبیت لسانیت مسلکیت کو ختم کرنا ھوگا ایک قوم بننا ھوگا بصورت ہم پر اللہ کا نہ کرم ھوگا اور نہ ہی رحمتیں ۔۔۔۔ اللہ بھی اس قوم کو سہارا دیتا ھے جس قوم میں بیداری لگن اور حوصلہ ھو مردہ قومیں مردہ ہی رہ جاتی ہیں۔ پاکستان کو معروضِ وجود میں آئے پچھہتر سال سے زائد ھوا چاہتے ہیں اور دولخت ھوئے تقریباً باون سال۔۔۔ ان باون سالوں میں ھم کہاں کھڑے ہیں اور بنگلہ دیش کہاں کھڑا ھے یہ لمحہ فکریہ ھے ھم سب کیلئے۔ہمیں دعاؤں سے زیادہ ہر ایک کو من حیث القوم اپنے اپنے اعمال کو درست کرنا ناگزیر بن چکا ھے ۔

قائد اعظم زندہ باد, پاکستان پائندہ باد۔۔۔۔!!

Exit mobile version