تحریر: آمنہ فردوس (جہلم)
عنوان: منظر سے پسِ منظر تک
قوانینِ قدرت ، بنی نوع انسان کی پیدائش اور ابتدائے آفرینش کے بارے میں تجسس تو ہر ذی عقل انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ہر انسان زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر خود سے یہ سوال تو ضرور کرتا ہے کہ وہ کہاں سے آیا ہے اور موت کے بعد کہاں جائے گا؟دنیا میں ارتقائے حیات کے حوالے سے جن لوگوں نے تحقیق کی ہے ان میں سب سے زیادہ مشہور نام ڈارون کا ہے جس کے "نظریہ ارتقاء” theory of evolution کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ انسان یک خلوی جاندار کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ عرفِ عام میں انسان بندر کی ترقی یافتہ شکل ہے۔اگرچہ سائنسی اور استدلالی دلائل کا حامل ہونے کے باعث یہ نظریہ مجھ جیسے اچھے خاصے مذہبی انسان کو اپنی
صداقت کا قائل کر چکا تھا۔ لیکن پھر مجھے اس نظریے کے مخالف نظریات کو پڑھنے کا اشتیاق ہوا۔
اس ضمن میں جس مسلم شخصیت کو میں نے بہت سال پڑھا اور جن کے کریشنسٹ نظریات کی میں مداح بھی ہوئی، اسے دنیا عدنان اوکتار کے نام سے جانتی ہے۔عدنان اوکتار جن کا قلمی نام ہارون یحییٰ اور عدنان ہوجاہے 1956 میں ترکی میں پیدا ہوئے۔ترکی چونکہ اپنا برادر اسلامی ملک ہے لہذا وہاں کے باشندوں کے لیے دل میں ویسے بھی بہت ستائشی جذبات پائے جاتے ہیں۔لیکن عدنان اوکتار کے لیے میری مداحی کو زوال 11 جنوری 2021 کو آیا جب ایک بین الاقوامی جریدے میں عدنان اوکتار کو ایک ہزار پچھتر سال کی قید کی خبر نظر سے گزری۔اس طویل العمر سزا کے پیچھے موجود محرکات کو جاننا میرے لئے ناگزیر تھا کیونکہ جس شخصیت کے اسلامی کریشنزم نظریہ کو درست ثابت کرنے کے لئے میں نے اپنی زندگی وقف کئے رکھی، اسے اس کے اپنے ملک نے یہ سزا کیونکر سنائی ؟ عدنان اوکتار کو سنائی جانے والی سزا کی وجوہات نے نہ صرف میرے ذہن میں موجود آئیڈیل کو توڑا بلکہ وہ سنگین جرائم جن کی پاداش میں اسے یہ سزا سنائی گئی، میرے لئے کسی ذہنی دھچکے سے کم نہ تھے۔ اس سے قبل کے میں ان جرائم کی تفصیل پیش کروں، عدنان ہوجا کی زندگی اور خدمات کا مختصر احوال بیان کرنا ضروری ہے۔
گزشتہ چند برس سے میں ہارون یحییٰ کے نام سے مشہور جس مصنف کی کتابیں بڑے ذوق و شوق سے پڑھ رہی تھی وہ یہ عدنان اوکتار نکلے گا میں نے کبھی سوچا نہ تھا۔بات کی جائے اگر ہارون یحییٰ کے تعلیمی ریکارڈ کی تو ہارون نے میمار سینان فائن آرٹس یونیورسٹی سے انٹیریئر آرکیٹیکچر کی ڈگری حاصل کی۔روحانی معاملات میں ہارون ایک مایہ ناز اسلامی سکالر سعید نورسی سے متاثر ہے۔ ہارون اسلامک کریشنزم فرقے کا بانی اور روحِ رواں ہونے کے ساتھ ساتھ دو بڑی تنظیموں BAV / Science Research Foundation اور MDKV/National Values Presentation کا سربراہ بھی ہے۔
ہارون یحییٰ کی تمام کتابوں کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کائنات اور اس میں موجود تمام جاندار اللہ تعالی نے اسی شکل و صورت، ساخت اور خصوصیات کے ساتھ پیدا کیے جس طرح وہ آج ہمیں نظر آتے ہیں۔یعنی ڈارون کا "نظریہ ارتقاء” سراسر جھوٹ اور بے بنیاد ہے۔اور یہ کہ انسان کو انسان ہی پیدا کیا گیا تھا نہ کہ بندر۔2008 میں ہارون یحییٰ نے چیلنج دیا کہ جو کوئی بھی ڈارون کے نظریہ ارتقاء کی توثیق کرنے والے فوسل دکھائے گا، وہ اسے 10 ٹریلین ترکش لیرا دے گا۔ہارون یحییٰ کے بقول کوئی ایک بھی فوسل ڈارون کے بیان کردہ مافوق الفطرت جانداروں سے مشابہت نہیں رکھتا جو ڈارون نے اپنے "نظریہ ارتقاء” کو درست ثابت کرنے کے لئے پیش کئے ہیں۔ اس ضمن میں ہارون یحییٰ کی شہرہ آفاق کتاب The Atlas of Creation آج بھی میری پسندیدہ کتابوں میں سے ایک ہے۔ہارون نے اس کتاب میں بڑے مؤثر انداز میں بتایا ہے کہ ڈارون کا نظریہ ارتقاء خدا کے وجود کو جھٹلاتا ہے اور مادہ پرستی اور اشتراکیت کی ترغیب دیتا ہے۔ہارون یحییٰ اپنی تمام کتابوں میں نظریہ ارتقاء، یہودیوں اور فری میسنز کی مخالفت کرتا ہے۔ہارون کے مطابق یہودی اور فری میسنز ترک لوگوں کی روحانیت اور اخلاقی اقدار کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔اس حوالے سے ہارون کی دو کتابیں Judaism and Free Masonry اور Islam Denounces Terrorism قابلِ ذکر ہیں۔
ہارون A9 کے نام سے ایک ٹی وی چینل کی سربراہی بھی کر رہا تھا جہاں وہ اسلام کی نام نہاد تبلیغ کرتا تھا۔ 1980 میں اس نے اشرافیہ طبقے کے ممی ڈیڈی بچوں کو بڑے ماڈرن انداز میں اپنی تعلیمات اور نظریات سے متعارف کروانا شروع کیا۔ ممی ڈیڈی بچوں کا یہ حلقہ 2021 تک نیم عریاں، ماڈرن اور میک اپ سے آراستہ مریدنیوں تک محدود ہوگیا۔ان مریدنیوں کے جن انٹرویوز نے عدنان ہوجا کے مکروہ چہرے سے نقاب ہٹایا ہے وہ آج بھی یوٹیوب پر موجود ہیں۔ 11 جنوری 2018 کو عدنان کو اس کے 160 معاونین و معتمدین کے ہمراہ گرفتار کر لیا گیا۔عدنان اوکتار اور اس کے معاونین کو جن الزامات کی پاداش میں گرفتار کیا گیا ان میں فراڈ، غبن، جنسی تشدد اور سیاسی و عسکری جاسوسی شامل ہیں۔
عدنان اوکتار اپنی مریدنیوں کو kittens کہہ کر پکارتا تھا اور بے شمار یوٹیوب ویڈیوز میں ان نیم برہنہ لڑکیوں کے ساتھ ناچتے ہوئے پایا جاتا ہے۔ان مریدنیوں کی زندگی کا مطالعہ مزید انکشافات کا باعث بنا۔ان ہی میں سے ایک مریدنی نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ عدنان کی پیروکار لڑکیاں سب اعلی تعلیم یافتہ اور امیر گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ عدنان ان لڑکیوں کو لبرل انداز میں اسلامی تعلیمات سے روشناس کروانے کے لیے اپنے محل نما گھر میں گھیر کر لاتا ہے اور پھر انہیں ان کے خاندان اور دوست احباب سے ہمیشہ کیلئے ناطہ توڑنے کا حکم دیتا ہے۔اس حکم کی تعمیل انہیں ہر حال میں کرنا پڑتی ہے۔عدنان اوکتار کا محل نما گھر جس میں ہر طرف سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں ان مریدنیوں کے لیے ایک غلام گردش ہے جس سے باہر نکلنا ان کے لئے ناممکن ہے۔ یہاں تک کہ وہ کسی سے اس غلام گردش میں ہونے والی خفیہ سرگرمیوں کا تذکرہ بھی نہیں کر سکتیں ۔انٹرویو کے دوران اس مریدنی نے مزید بتایا کہ اس محل نما گھر میں لڑکیاں داخل تو اپنی مرضی سے ہوتی ہیں لیکن معاہدے کے مطابق وہاں سے اپنی مرضی سے باہر نہیں نکل سکتیں۔ اس غلام گردش کے باہر سیکورٹی گارڈز کی ایک فوج ہر وقت تعینات رہتی ہے۔ عدنان اوکتار نوجوان لڑکیوں کے ساتھ ساتھ ایک سات سالہ بچی کے ساتھ بھی جنسی زیادتی کر چکا ہے۔
المختصر منظر پر موجود لبرل مذہبی رہنما ہارون یحییٰ پسِ منظر میں ایک شیطان صفت، مادہ پرست اور ہوس پرست درندہ تھا جس نے اپنا مکروہ چہرہ کئ سال دنیا سے چھپائے رکھا ۔
