BBC Urdu TV

عنوان: معرکہ حماس اور ھماری ذمہداریاں۔۔۔ !!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: معرکہ حماس اور ھماری ذمہداریاں۔۔۔ !!

کالمکار: جاوید صدیقی

سرکش قوم بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے سرکش ظالم قاتل جاہل اور اسلام کے بدترین دشمن یہودیوں نے ہمیشہ ہر دور میں اسلام اور مسلمان کو ہر سو نقصان پہنچانے میں ہمیشہ اپنا کلیدی کردار ادا کیا، ہٹلر ان بدبختوں کی شرانگیزیوں کو خوب بھانپ چکا تھا اسی لیئے اس نے انہیں چن چن کر قتل کروایا وہ جانتا تھا کہ یہ سرکش ظالم قوم کبھی بھی نہیں سدھرے گی، آنحضور ﷺ سے لیکر سلطنت عثمانیہ تک یہ یہودی اپنی شرانگیزیوں سے دنیا بھر کو بری طرح متاثر کرتے رھے انکی ان خباثتوں کے نتیجہ میں امریکہ وجود میں لایا گیا جہاں سے بیٹھ کر یہ یہودی زائینسٹ دنیا اور بلخصوص اسلام کے خلاف منفی کاروائیاں کرسکیں، تاریخ شاہد ھے کہ جب تک ایمان افروز سپہ سالار، حاکم وقت بادشاہ اور ریاست کے بااختیار ان یہودیوں کے خلاف جہاد کرتے رھے یہ چوہے اور گیڈر کے مانند بزدلی کیساتھ بلوں میں چھپے رہتے تھے اور انکی مکاریوں سے اسلامی ریاستیں اور ممالک انکی شرانگیزیوں سے محفوظ رہتے لیکن وقت گزرنے کیساتھ ساتھ مسلم دنیا میں عیاش اور غلام ذہنوں والے حکمرانوں سپہ سالاروں اور بادشاہوں کی نفس پرستی دنیا پرستی اور دین سے دوری کے سبب یہ سرکش قوم یہودی امریکہ کی چھتری کے نیچے بدمعاشی غنڈہ گردی اور ظلم و بربریت کی رقمیں پیدا کرتے رھے ھیں۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! پچھہتر سال سے زائد کا عرصہ بہت گیا ھے اسرائیل فلسطین کے علاقے پر جبراً قائم ناجائز ریاست بناکر مسلسل نہتے معصوم بچوں عورتوں بزرگوں اور نوجوانوں کو بیھانک تشدد کرکے شہید کرتا چلا آرھا ھے اور ان یہودیوں کی وحشانہ بربریت پر تمام مشرکین و کافرین اور غیر اسلامی ممالک چپ کی سادھ لیتے رھے ھیں جبکہ امریکہ کھلے عام ان ظالموں وحشی یہویوں کی حمایت کرتا چلا آرھا رھا ھے ساتھ ساتھ مالی اور عسکری سامان بھی فراہم کرتا رھا ھے اور دنیا کو بتاتا رھا ھے کہ امریکہ درحقیقت یہودیوں کا ہی ملک ھے جس کا تمام تر کنٹرول یہودی زائینسٹوں کے ہاتھوں میں ھے، یاد رھے کہ امریکہ کا کوئی بھی صدر آجائے وہ پابند ھے یہودی پلاننگ اور ایجنڈے کی تکمیل کو پورا کرنے کا یہی وجہ ھے کہ بڑھتے ھوئے اسلامی ممالک کو نائن الیون اور پینٹاگون جیسے جعلی خودساختہ حملے کرکے افغانستان، عراق، کویت، اردن، البنان، مصر اور شام پر بے پناہ گولہ باری کرکے تباہ و برباد کردیا۔ دوسری جانب بین الاقوامی ممالک کی تنظیم یو این او ہمیشہ یہویوں کی ہی سہولتکار ثابت رہی جبکہ او آئی سی کا کردار بھی مایوس کن رہتا ھے۔ آج کا وقت امت مسلمہ کو پیغام دے رھا ھے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ و عصبیت کے جال سے فوری باہر نکل آؤ کیونکہ یہی یہودی زائنسٹوں نے تمہیں عصبیت، مسلکیت اور تعصب میں تقسیم در تقسیم کرکے کمزور سے کمزور کردیا ھے "ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر” اس شعر میں علامہ اقبال نے وقت کے بدلتے تیزی سے حالات کو کی جانب اشارہ کرتے ھوئے بیداری کا احساس جگایا کیونکہ آپ جانتے تھے کہ زمانہ امام مہدی علیہ السلام کی طرف قریب سے قریب ترین ھوتا جارھا ھے اور یہ یہودی زائینسٹ جوکہ دجال کے غلام اور اس کے لشکر کا حصہ اور پیروکار ہیں ھم مسلمانوں کے دلوں سے ایمان اور جہاد جیسی نعمت کو نکالنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے جوکہ آج ھم اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی سکتے ھیں۔ ڈاکٹر اسرار احمد ھوں یا ڈاکٹر ذاکر نائیک یا مفتی و عالم دین اور پیر عظام پاک و ہند امت مسلمہ میں اپنی تقاریر، بیانات اور خطابات سے آگاہ اور بیدار کرتے چلے آرھے ھیں اسی طرح ادیب، لکھاری، کالمکار بھی ایسے ہیں جو اس نازک صورتحال کو سمجھتے ھوئے اپنا فریضہ احسن انداز میں پیش کررھے ھیں خاص طور پر اشاعتی اداروں کے مالکان اور میڈیا انڈسٹری کے مالکان کا کردار بہت اہمیت کا حامل ھے ان پر سب سے زیادہ بھاری ذمہداریاں عائد ھوتی ھیں کیونکہ انکا مقابلہ خبیث کفار و مشرکین اور یہودیوں سے ھے جو اس وقت دنیا بھر کی تجارت کیساتھ ساتھ میڈیا پر بھی حاوی ھیں لیکن ایمان یافتہ مالکان ان یہودیوں سے نہیں بلکہ ایک اللہ سے ڈرتے ھیں اور آخری رسول پاک ﷺ سے والہانہ محبت و عقیدت رکھتے ھیں محبت کا تقاضہ بھی یہی ھے کہ اس وقت دین محمدی ﷺ پر قربان ھونے کیلئے تیار ھوجائیں اور امت مسلمہ بلخصوص پاکستان اور پاکستانیوں میں جذبہ ایمانی کو بیدار کرنے میں اپنا موثر کردار ادا کریں۔ اپنے اشاعت اور الیکٹرونک میڈیا سے عوام الناس میں ایمان افروز پروگرام اور جذبہ جہاد کو ابھارنے کی ترغیب میں تیزی لانی چاہئے یاد رکھئے نائن الیون کے خودساختہ ڈرامہ کے بعد کچھ بذدل مسلم ممالک جہاد سے راہ فرار اختیار کررھے تھے اور ان دجالوں کی غلامی اور دلالی میں اسلام وطن ریاست اور قوم کو ناتلافی نقصان سے دوچار کیا۔ پاکستان بھی انہی میں سے ایک ھے۔ ہمارے سیاستدانوں رہنماؤں اور حکمرانوں کا کردار کچھ اچھا نہیں رھا۔ اب جنگ ھے ایمان افروز اور ایمان فروشوں کی کیونکہ یہود جانتا ھے کہ ایک ایمان فروش کو خریدنا بہت آسان ھے جبکہ ایمان افروز کو مارنا بھی بہت مشکل کیونکہ وہ جذبہ جہاد سے لڑ رھا ھے اور اسکے ساتھ اللہ کی قدرت و نصرت شامل ھے۔۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! معرکہ حماس پر ھماری ذمہداریاں ہیں کہ ھم بحیثیت مسلمان اور صحافی مظلوم کیساتھ کھڑے رہیں دنیا میں سب سے زیادہ مظلوم فلسطینی اور کشمیری ھیں جو نہتے ایٹمی طاقت کے حامل ممالک سے اپنے حقوق کی جنگ لڑ رھے ھیں اور لاکھوں شہادت ابتک نوش کرچکے ھیں میں ان کے ساتھ ھوں اس وقت تک جبتک کہ انہیں انکا حق نہیں ملتا، من حیث القوم ہمیں اپنی مذہبی جماعتوں مذہبی مراکز مذہبی تنظیموں اور مذہبی مدارس سے سوال کرنا ھے پوچھنا ھے کہ آپ تمام نے دین محمدی ﷺ کیلئے کتنے جہادی تیار کئے کیا جہاد ہر مسلمان پر فرض نہیں آپ ہمہ وقت صدقہ خیرات اور مالی عطیات و سالانہ زکواة و فطرہ جمع کرتے رہتے ھیں کیا یہی دین محمدی ﷺ ھے کیا ھمارا دین صرف صدقہ خیرات اور مالی عطیات و سالانہ زکواة و فطرہ جمع پر محیط اور قادر ھے یقیناً نہیں اگر دین کا مخلصانہ مطالعہ کیا جائے تو دین نماز روزہ کیساتھ ساتھ سب سے زیادہ جہاد کا حکم دیتا ھے جبتک ھم جہادی تھے اسلام دنیا میں عزت و وقار اور بلند مقام پر تھا اور جب سے ھم نے جہاد کو چھوڑا ھم کفار و مشرکین کے ہاتھوں ذلیل و خوار ھورھے ھیں ھونا تو یہ چاہئے کہ مسجد اقصیٰ کی حرمت و سلامتی کیلئے دعوت اسلامی تبلیغ جماعت سنی تحریک امامیہ فیڈریشن تحریک لبیک پاکستان جماعت اسلامی جمعیت علماء اسلام اور پاکستان عل الاعلان کرتے کہ ھمارے سرفروشان اسلام مجاہد لشکر کی صورت میں نکل پڑے ھیں اے کفار و مشرکین اپنے ناپاک عزائم سے باز آجاؤ وگرنہ سلطان صلاح الدین ایوبی، سلطان محمود غزنوی، سلطان محمد فاتح، سلطان نورالدین زنگی جیسے بہادر نڈر ایمان افروز سپہ سالاروں کی طرح تمہیں زمین بوس کردیں گے ھم مسلم ھیں ھمیں شہادت سے عشق ھے ھماری زندگی ہی شہادت کے بعد شروع ھوتی ھے ھمارا مقصد حیات رضائے الہٰی اور عشق رسول ھے یاد رکھو پاکستان سمیت مسلم امہ مسجد اقصٰی کی حرمت اور معصوم فلسطینیوں کیساتھ ھے دین محمدی ﷺ کیلئے ھم مسلم امہ کے ہر فرد قربان ھونے کیلئے تیار ھے ۔۔۔۔۔!!

Exit mobile version