ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: مردہ قوم، بے حس حکمرانوں کیلئے ۔۔۔ بیداری تحریر!!
مسلم دنیا جس طرف جارہی ھے وہ اس کی تباہی کا پیش خیمہ ہوگی۔ دنیا میں ستاون کے لگ بھگ مسلم ممالک ہیں اور تین تہائی پر مشتمل مسلمان بستے ہیں مگر آج انکی ایمانی جسمانی زبوں حالت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلم امہ مردہ ہوچکی ہے اور مسلم حکمران بے حس۔ پاکستان دنیا میں مسلم ممالک میں ایک آدھ کیساتھ ساتھ ایٹمی طاقت ہے لیکن دیگر دولت اشرفیہ و امارات مسلم ممالک کے حکمران ہوں یا عوام سوائے زندگی کی رعنائیوں عیش و تعوش کے اپنی بقا اور مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے نہیں سوچا اور نہ ہی مسلم امہ کو متحد کرکے ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا البتہ مسالک و فرقہ ورایت میں بانٹ دیا یہی وجہ ہے کہ کافر و مشرکین یہود و نصاریٰ اور بت پرستوں نے نہ صرف مسلم ریاستوں کو تباہ و برباد کرنے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا کیونکہ ہم اپنی تاریخ کا مطالعہ نہیں کرتے اور نہ ہی کچھ سیکھنے کا عزم پیدا کرتے ہیں آج میں اپنے معزز قارئین کی خدمت میں اسلام مخالف قوتوں کی پلاننگ و عسکری حکمت عملی کا ذکر کروں گا کہ ماضی قریب کی تاریخی فتوحات مسلم حکومتوں کے خلاف کیونکر کامیاب رہیں۔۔معزز قارئین!! یہ سنہ انیس سو تاتہر عیسوی کی بات ہے۔
عربوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑنے کو تھی
کہ امریکی سنیٹر اہم کام کے سلسلے میں اسرائیل آیا۔ وہ اسلحہ کمیٹی کا سربراہ تھا۔ اسے فوراً اسرائیل کی چوتھی وزیراعظم ”گولڈہ مائیر“ کے پاس لے جایا گیا۔ گولڈہ مائیر نے ایک گھریلو عورت کی مانند سنیٹر کا استقبال کیا اور اسے اپنے کچن میں لے گئی۔ یہاں اس نے امریکی سنیٹر کو ایک چھوٹی سی ڈائننگ ٹیبل کی کرسی پر بٹھا کر چولہے پر چائے کیلئے پانی رکھ دیا اور خود بھی وہیں آبیٹھی۔ اس کیساتھ اس نے طیاروں، میزائلوں اور توپوں کا سودا شروع کردیا۔ ابھی بھاؤ تاؤ جاری تھا کہ اسے چائے پکنے کی خوشبو آئی۔ وہ اُٹھی اور چائے دو پیالیوں میں انڈیلی ایک سنیٹر کے سامنے رکھی اور دوسری گیٹ پر کھڑے امریکی گارڈ کو تھمادی پھر میز پر آبیٹھی اور امریکی سنیٹر سے محو گفتگو ہوگئی چند لمحوں کی گفت و شنید اور بھاؤ تاؤ کے بعد شرائط طے پاگئے۔ وہ اٹھی، پیالیاں سمیٹیں اور انہیں دھو کر واپس سنیٹر کی طرف پلٹی اور بولی ”مجھے یہ سودا منظور ہے۔ آپ تحریری معاہدے کیلئے اپنا سیکرٹری میرے سیکرٹری کے پاس بھجوا دیجئے۔ اسرائیل اس وقت اقتصادی بحران کا شدید شکار تھا، مگر گولڈہ مائیر نے کتنی سادگی سے اسرائیل کی تاریخ میں اسلحے کی خریداری کا اتنا بڑا سودا کر ڈالا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ خود اسرائیلی کابینہ نے اس بھاری سودے کو رد کردیا۔ اس کا موقف تھا، اس خریداری کے بعد اسرائیلی قوم کو برسوں تک دن میں ایک وقت کھانے پر اکتفا کرنا پڑے گا۔ گولڈہ مائیر نے کہا : ”آپ کا خدشہ درست ہے، لیکن اگر ہم یہ جنگ جیت گئے اور عربوں کو پسپائی پر مجبور کردیا تو تاریخ ہمیں فاتح قرار دے گی اور وہ بھول جائے گی کہ جنگ کے دوران فاتح قوم نے کتنے انڈے کھائے تھے اور روزانہ کتنی بار کھانا کھایا تھا۔ اس کے دستر خوان پر شہد، مکھن، جیم تھا یا نہیں اور ان کے جوتوں میں کتنے سوراخ تھے یا انکی تلواروں کے نیام پھٹے پرانے تھے۔ فاتح صرف فاتح ہوتا ہے۔“
گولڈہ مائیر کی دلیل پر اسرائیلی کابینہ کو اس سودے کی منظوری دینا پڑی۔ آنے والے وقت نے ثابت کردیا کہ گولڈہ مائیر کا اقدام درست تھا اور پھر اسی اسلحے اور جہازوں سے یہودی عربوں کے دروازوں پر دستک دے رہے تھے۔ جنگ کے ایک عرصہ بعد واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے گولڈہ مائیر کا انٹرویو لیا اورسوال کیا: ”امریکی اسلحہ خریدنے کیلئے آپ کے ذہن میں جو دلیل تھی، وہ فوراً آپ کے ذہن میں آئی تھی، یا پہلے سے حکمت عملی تیار کر رکھی تھی؟ “چونکا دینے والا جواب تھا”۔ وہ بولی
”میں نے یہ استدلال اپنے دشمنوں یعنی مسلمانوں کے نبی حضرت محمد ﷺ سے لیا تھا۔” مذاہب کا موازنہ میرا پسندیدہ موضوع تھا۔ انہی دنوں میں نے حضرت محمد ﷺ کی سوانح حیات پڑھی۔اس کتاب میں مصنف نے ایک جگہ لکھا تھا کہ جب حضرت محمد ﷺ کا وصال ہوا تو ان کے گھر میں اتنی رقم نہیں تھی کہ چراغ جلانے کیلئے تیل خریدا جاسکے، لہٰذا ان کی اہلیہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان کی زرہ بکتر رہن رکھ کر تیل خریدا، لیکن اسوقت بھی حضرت محمد ﷺ کے حجرے کی دیواروں پر نو تلواریں لٹک رہی تھیں۔
یہ واقعہ پڑھا تو میں نے سوچا کہ دنیا میں کتنے لوگ ہوں گے جو مسلمانوں کی پہلی ریاست کی کمزور اقتصادی حالت کے بارے میں جانتے ہونگے لیکن مسلمان آدھی دنیا کے فاتح ہیں، یہ بات پوری دنیا جانتی ہے۔لہٰذا میں نے فیصلہ کیا کہ اگر مجھے اور میری قوم کو برسوں بھوکا رہنا پڑے، پختہ مکانوں کی بجائے خیموں میں زندگی بسر کرنا پڑے، تو بھی اسلحہ خریدیں گے، خود کو مضبوط ثابت کریں گے اور فاتح کا اعزاز پائیں گے۔“گولڈہ مائیر نے انٹرویو نگار سے درخواست کی اسے ”آف دی ریکارڈ“ رکھا جائے اور نشر نہ کیا جائے۔ وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کے نبی ﷺ کا نام لینے سے جہاں اسکی قوم اسکے خلاف ہوسکتی ہے، وہاں دنیا میں مسلمانوں کے مؤقف کو تقویت ملے گی۔ چنانچہ واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے یہ واقعہ حذف کردیا تھا۔
جب گولڈہ مائیر انتقال کر گئی اور وہ انٹرویو نگار بھی صحافت سے الگ ہوگیا۔ تب ایک اور نامہ نگار، امریکہ کے بیس بڑے نامہ نگاروں کے انٹرویو لینے میں مصروف تھا۔ اس سلسلے میں وہ اسی نامہ نگار کا انٹرویو لینے لگا جس نے واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے کی حیثیت سے گولڈہ مائیر کا انٹرویو لیا تھا۔ اس انٹرویو میں اس نے گولڈہ مائیر کا واقعہ بیان کر دیا، جو سیرت نبوی ﷺ سے متعلق تھا۔ اس نے کہا کہ
”میں نے جب تاریخ اسلام کا مطالعہ کیا، تو میں عرب بدوؤں کی جنگی حکمتِ عملیاں دیکھ کر حیران رہ گیا، کیونکہ مجھے معلوم ہوا کہ وہ طارق بن زیاد جس نے جبرالٹر کے راستے اسپین فتح کیا تھا، اسکی فوج کے آدھے سے زیادہ مجاہدوں کے پاس پورا لباس نہیں تھا۔ وہ باہترّ باہترّ گھنٹے ایک چھاگل پانی اور سوکھی روٹی کے چند ٹکڑوں پر گزارا کرتے تھے”! یہ وہ موقع تھا، جب گولڈہ مائیر کا انٹرویو نگار قائل ہوگیا کہ تاریخ فتوحات گنتی ہے،دستر خوان پر پڑے انڈے، جیم اور مکھن نہیں جب یہ انٹرویو کتابی شکل میں شائع ہوا تو دنیا اس ساری داستان سے آگاہ ہوئی۔
یہ واقعہ مسلمانانِ عالم کو جھنجھوڑ رہا ہے، بیدار کررہا ہے، سمجھا رہا ہے کہ ادھڑی عباؤں اور پھٹے جوتوں والے گلہ بان، چودہ سو برس قبل کس طرح جہاں بان بن گئے۔
سیرت نبوی ﷺ سے ایک یہودن نے تو سبق حاصل کر لیا مگر مسلمان اِس پہلو سے ناآشنا رہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی، علوم و فنون پر دسترس رکھنے کی بجائے لا حاصل بحثوں اور غیر ضرروی کام میں مگن رہے۔ چنانچہ زوال ہمارا مقدر ٹھہرا۔فلسطین، یمن، اردن، مصر، شام، عراق اور افغانستان مسلم ریاستوں کی تباہی اسی اسرائیل کی کارفرمائی ہے۔ یہودیوں نے امریکہ کی تجارت اور عکسریت پر اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہیں یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کی ہر ناجائز اور دہشتگردی پر امریکہ پردہ ڈالتا ہے۔ اقوام متحدہ درحقیقت یہودیوں نے ہی اپنے مقاصد کیلئے بنائی تھی اور ماضی قریب میں امریکہ اور نیٹو نے الحاق کرکے مسلم ممالک پر الزامات عائد کرکے جنگی دھاوا بول دیا تھا جس میں کئی مسلم ممالک سیاسی و تجارتی اور جفرافیائی انداز میں متاثر ھوئے لیکن بیس سالہ جہاد لڑنے والوں نے الله کی جانب سے فتح کی صورت میں انعام پایا۔ یہاں یہ یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ یہ غیر مسلم اسلام کا بھرپور مطالعہ کرتے ہیں مگر ان کی نیت اسلام اور مسلمان کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔ مسلم دنیا خاص کر عرب ریاستوں اور عرب ممالک نے ان یہودیوں اور مشرکین کی شرانگیزی سیاست فتنہ و فساد کو بھانپا نہیں تو یہ دجالی انہیں ایک جانب ایمان سے نقصان پہنچائیں گے تو دوسری جانب انہیں معاشی کمزور کرکے رکھ دیں گے دیکھا یہ جارہا ہے کہ پاکستان کو بھرپور انداز میں معاشی کمزور کرنے کی بھرپور کوشش ہیں کیونکہ یہودی اور مشرکین جانتے ہیں کہ اس وقت دنیا بھر میں مسلم امہ میں سب سے مضبوط اور طاقتور پاکستان یہ ہے عسکری بنیاد پر بہت مضبوط ہوچکا ہے پاکستان کی افواج کی ذہانت قابلیت جرات شجاعت بہادری کو دنیا کی سپر پاور قوتیں بھی تسلیم کرتی ہیں لیکن وہ پاکستان کے اندر انارکی فتنہ گیری اور فساد برپا کرنے کیلئے نت نئے منصوبے بنارہے ہیں ان کا سب سے بڑا معاونین بھارت ہے اور بھارت پاکستان کی سالمیت کو دھچکا دینے کیلئے اپنے سہولتکاروں پر بے انتہا ہے رقم خرچ کررہا ہے میرا ایمان ہے کہ اسرائیل امریکہ برطانیہ اور بھارت جس قدر چاہیں اپنے اندر کا زور لگالیں انشاءالله یہ ناکام و نا مراد لوٹیں گے ہمارے صبر کو زیادہ یہ نہ آزمائیں تو بہتر ہوگا کیونکہ یہ بھول گئے ہیں کہ "شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن”۔ پاکستان کے حکمران سیاستدان میڈیا اور عوام کو چاہئے کہ وہ اندرونِ ملک میں سہولتکاروں کے اطراف گھیرا تنگ رکھیں ملکی سلامتی و بقاء کیلئے ہر ایک پر اندھا اعتماد نہ کریں کیونکہ ہماری سپاہی بارڈر پر اپنی جان نچھاور کرکے ملک دشمن کے سامنے آہنی دیوار بنے ہوئے ہیں ہماری پولیس گلی کوچوں اور علاقوں میں ملک دشمن کو تلاش کرکے جہنم واصل کررہے ہیں۔ ایسے وقت میں حکومت عوام کو لازم ریلیف دیں اور مصنوعی مہنگائی کرنے والوں کو سزا دیکر عبرت کا نشانہ بنائیں کیونکہ ذخیرہ اندوش اور سود خور سہولتکاروں کا بہترین ذرائع ہوتے ہیں ان مافیا کا قلع قمع ہی دراصل دہشتگردی و سہولتکاری کا قلع قمع ہے۔ اب بھی مسلم امہ بلخصوص حکمران پاکستان اور پاکستانی عوام نہ سنبھلی تو پھر نہ سنبھل سکیں گی۔ الله تا قیامت پاکستان ک حفاظت فرمائے آمین۔۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
