ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: لوگوں کے درمیان پل بنائیں, دیواریں نہ کھینچیں۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
ھمارے دوست اشفاق بیگ کے واٹس اپ پر ایک تحریر دیکھی پڑھ کر احساس ھوا کہ اسے اپنے کالم کا حصہ بنالیا جائے کیونکہ موجودہ حالات کے تناظر میں کہا جاسکتا ھے کہ اب رشتوں میں احساس درد اور ایثار و قربانی کے جذبے اور عملی مظاہرے مانند پڑتے جارھے ہیں درحقیقت یہ احساس و خدمات کے بندھن ہی انسانیت کی روح کو خوبصورت اور جلا بخشتا ھے بحرکیف وہ لکھتے ہیں کہ دو سگے بھائیوں کے بڑے بڑے زرعی فارم ساتھ ساتھ واقع تھے دونوں چالیس سال سے ایک دوسرے سے اتفاق و محبت سے رہ رہے تھے اگر کسی کو اپنے کھیتوں کیلئے کسی مشینری یا کام کی زیادتی کی وجہ سے زرعی مزدوروں کی ضرورت پڑتی تو وہ بغیر پوچھے بلا جھجک ایک دوسرے کے وسائل استعمال کرتے تھے
لیکن ایک دن اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ ان میں کسی بات پر اختلاف ہوگیا اور کسی معمولی سی بات سے پیدا ہونے والا یہ اختلاف ایسا بڑھا کہ ان میں بول چال تک بند ہوگئی اور چند ہفتوں بعد ایک صبح ایسی بھی آگئی کہ وہ ایک دوسرے کے سامنے کھڑے گالی گلوچ پر اتر آئے اور پھر چھوٹے بھائی نے غصے میں کرین منگوائی اور شام تک اس نے دونوں گھروں کے درمیان ایک گہری اور لمبی کھائی کھود کر اس میں دریا کا پانی چھوڑ دیا۔اگلے ہی دن ایک ترکھان کا وہاں سے گزر ہوا تو بڑے بھائی نے اسے آواز دے کر اپنے گھر بلایا اور کہا کہ وہ سامنے والا فارم ہاؤس میرے بھائی کا ہے جس سے آج کل میرا جھگڑا چل رہا ہے اس نے کل کرین منگوا کر میر ے اور اپنے گھروں درمیان جانے والے راستے پر ایک گہری کھائی بنا کر اس میں پانی چھوڑ دیا ہے۔
میں چاہتا ہوں کہ میرے اور اس کے فارم ہاؤس کے درمیان تم آٹھ فٹ اونچی باڑ لگا دو کیونکہ میں اس کا گھر تو دور کی بات ہے اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا اور دیکھو مجھے یہ کام جلد از جلد مکمل کرکے دو جس کی میں تمہیں منہ مانگی اجرت دونگا۔ ترکھان نے سر ہلاتے ہوئے کہا کہ مجھے پہلے آپ وہ جگہ دکھائیں جہاں سے میں نے باڑھ کو شروع کرنا ہے تاکہ ہم پیمائش کے مطابق ساتھ والے قصبہ سے ضرورت کے مطابق مطلوبہ سامان لا سکیں۔ موقع دیکھنے کے بعد ترکھان اور بڑا بھائی ساتھ واقع ایک بڑے قصبہ میں گئے اور تین چار متعلقہ مزدوروں کے علاوہ ایک بڑی پک اپ پر ضرورت کا تمام سامان لے کر آ گئے ترکھان نے اسے کہا کہ اب آپ آرام کریں اور اپنا کام ہم پر چھوڑ دیں۔ ترکھان اپنے مزدوروں اور کاریگروں سمیت سارا دن اور ساری رات کام کرتا رہا۔ صبح جب بڑے بھائی کی آنکھ کھلی تو یہ دیکھ کر اس کا منہ لٹک گیا کہ وہاں آٹھ فٹ تو کجا ایک انچ اونچی باڑھ نام کی بھی کوئی چیز نہیں تھی، وہ قریب پہنچا تو یہ دیکھ کر اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ وہاں ایک بہترین پل بنا ہوا تھا جہاں اسکے چھوٹے بھائی نے گہری کھائی کھود دی تھی۔جونہی وہ اس پل پر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ پل کی دوسری طرف کھڑا ہوا اس کا چھوٹا بھائی اس کی طرف دیکھ رہا تھا چند لمحے وہ خاموشی سے کھڑا کبھی کھائی اور کبھی اس پر بنے ہوئے پل کو دیکھتا رہا اور پھر اس کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ ابھری چند سیکنڈ بعد دونوں بھائی نپے تلے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے پل کے درمیان آمنے سامنے کھڑے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اور پھر دونوں بھائیوں نے آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے ایک دوسرے کو پوری شدت سے بھینچتے ہوئے گلے لگالیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دونوں بھائیوں کے بیوی بچے بھی اپنے گھروں سے نکل کر بھاگتے اور شور مچاتے ہوئے پل پر اکٹھے ہو گئے اور دور کھڑا ہوا ترکھان یہ منظر دیکھ دیکھ کر مسکرا رہا تھا بڑے بھائی کی نظر جونہی ترکھان کی طرف اٹھی جو اپنے اوزار پکڑے جانے کی تیاری کر رہا تھا تو وہ بھاگ کر اس کے پاس پہنچا اور کہا کہ وہ کچھ دن ہمارے پاس ٹھہر جائے لیکن ترکھان یہ کہہ کر چل دیا کہ اسے ابھی اور بہت سے”پُل “بنانے ہیں۔۔۔۔معزز قارئین!! ترکھان والے نے بہت بڑا پیغام ھم سب انسانوں کو دیا کہ دلوں کے پل بناتے جاؤ تمام رشتوں کو ملاتے جاؤ اور کسی کا بھی حق مت دباؤ۔ ھمارے رشتوں کی دوری حق تلفی اور اور وراثت کے حق کو دبانے یا کھانے کے سبب پیدا ھوتی ھیں۔ اللہ دلوں کے حالات بہتر جانتا ھے اسی سبب اللہ نے وراثت کی تقسیم کے متعلق بہت سخت احکامات دیئے ہیں۔ قانون وراثت کا قانون پاکستان میں بہت بہتر ھوگیا ھے لیکن پھر بھی شیطان و ابلیس کے غلام بن جاتے ہیں اور اللہ ﷻ و رسول پاک ﷺ کو بھی نعوذ باللہ بھول جاتے ھیں اسی سبب وراثت کے حقوق سلب کرتے ھوئے خوف خدا نہیں رہتا اللہ کے ہاں ایسے لوگوں کیلئے انتہائی دردناک عذاب ھے اللہ ھم سب کو ہدایت بخشے آمین !!
