BBC Urdu TV

عنوان: لشکران علم سیاہ ، با قیادت امام مہدی علیہ السلام ۔۔۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: لشکران علم سیاہ ، با قیادت امام مہدی علیہ السلام ۔۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

آپ ﷺ نے اصحاب کرام کو قرب قیامت کی نیشانیوں کے بارے میں آگاہ کیا اور بڑی نشانیوں کی نشاندہی کیں۔ ان نشاندہیوں کو تمام ماسلک و مکاتب مکمل اعتماد ، یقین اور اتفاق کرتے ھیں جو آپ ﷺ نے ارشادات فرمائے۔ آج ھم پندرہویں صدی کے پینتالیس ویں سال سے گزر رھے ھیں۔ ھم من حیث القوم اور من حیث الامت جب خود پر نظر ڈالتے ھیں تو ہمیں شدت سے احساس ھوتا ھے کہ کبھی ھم ایماندار مسلمان تو کبھی ایمان سے ہی خالی کیونکہ ام الخبائث، ام الگناہ کبیرہ، ام الغلیث "جھوٹ” ھے جسے ھم نے اپنی روح اور خون میں جذب کر رکھا ھے۔ وہ مسلمان ھو ہی نہیں سکتا جو جھوٹ پر چلتا ھو اور جھوٹ کا عادی ھو مومن ھونا تو بہت دور کی بات۔ میرے معزز قارئین میری اس بات کو خود میں، قرب و جوار میں، معاشرے کے ہر پہلو میں، ریاست اور ریاستی اداروں میں اچھی طرح صاف و شفاف طریقہ سے دیکھ سکتے ھیں کہ بناء جھوٹ کے کوئی رہتا نہیں، لاکھوں میں چند ایک نیک و ایماندار کا شمار، شمار نہیں کہلائے گا، یہی وجہ ھے کہ ھم پاکستانیوں پر بھی اللہ سبحان تعالیٰ اور رسول خدا ﷺ کی رحمت نازل نہیں کیونکہ ھم ایک نمبر کے منافق و کاذب ھیں۔ جب تک ھم من حیث القوم و من حیث الامت خود کو فرداً فرداً سچ و حق میں پابند نہیں کریں گے کوئی فرشتہ اتر کر ھمیں نور سے غسل نہیں کریگا بحرحال میں اپنے عنوان کی جانب بڑھتا ھوں۔ معزز قارئین۔۔۔۔۔!! مفتی ابو لبابہ شاہ منصور حفظہ اللہ نے کتاب دجالیات میں حضرت دانیال علیہ السلام کی تختیوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہودیوں کی ایک ریاست قائم ہوگی اور اس کے پچاس سال بعد حضرت امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہوگا۔ ظاہر سی بات ہے کہ سنہ انیس سو چھیالیس، سینتالیس عیسوی میں اسرائیل کی بنیاد ڈالی گئی لیکن سنہ انیس سو تہتر عیسوی میں اقوام متحدہ نے ملک کی حیثیت سے تسلیم کیا اور اسکے جھنڈے کو بھی تسلیم کیا تو حقیقی ملک اور ریاست کے حیثیت سے سنہ انیس سو تہتر عیسوی میں سمجھی جائیگی اس لحاظ سے سنہ دو ہزار تیئس عیسوی میں پچاس سال پورے ہوتے ہیں لہذا ممکن ہے کہ سنہ دو ہزار چوبیس عیسویٰ میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہوگا، نیز نسائی میں جس غزوہ کی نشاندہی کی گئی ہے جس میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ایک جماعت خراسان یعنی افغانستان و مغربی پاکستان وغیرہ سے نکل کر مشرقی علاقہ پر برسرِِ پیکار ہوگی تو حالیہ جو فلسطین اور مسلم امہ کی خبریں آرہی ہیں اسکی پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہیں۔ اگر ھم دجال کے خروج کے آثار کی جانب دیکھتے ھیں تو قابل غور بات یہ بھی ہے کہ کورونا کا ڈرامہ یہودیوں کی منفی پلاننگ تھی اور ملک بھارت میں ہندو راشٹر کا آفیشل اعلان بھی اور دو ہزار تیئس عیسوی میں ترکی پر سے پابندی بھی ہٹائی جانی تھی، جس کا واضح مطلب ہے کہ ترکی پر جنگ مسلط کردی جائے، جس کے نتیجے میں قسطنطنیہ کفار کے قبضے میں آسکتا ہے اور سعودی بادشاہ کی وفات کی یہ روایت رہی ہے کہ عموماً وہ نوے سال کے آس پاس ہی فوت ہوتے ہیں اور اس وقت موجودہ بادشاہ شاہ سلمان کی عمر بھی نوے کے قریب تر ھوتی جارہی ہے، ممکن ہے کہ وہ سنہ دو ہزار چوبیس، پچیس تک نوے کے آس پاس ہونگے اور خلافت عثمانیہ کے سقوط کے سو سال بھی پورے ہوچکے ہیں۔ نیز ایک عرب عالم ہیں جنکا نام شیخ صادق المغلسی المرانی ھے انہوں نے سنہ دو ہزار چوبیس عیسوی کے قریب ہی ظہور حضرت امام مہدی علیہ السلام کی بات کہی ہے۔۔۔۔ واللہ العلم۔۔۔ ظہور حضرت امام مہدی علیہ السلام کے لحاظ سے یہ دو سال یعنی سنہ دو ہزار چوبیس اور سنہ دو ہزار پچیس عیسوی کافی اہم ہیں۔ ایک بات بڑی فکر میں ڈالنے والی یہ بھی ھے کہ امت کے مختلف قسم کے گروہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کو تلاش بھی کررہے ہیں۔ یہ بھی خبر ہے کہ مختلف جہادی تنظیموں کے فکر مند لیڈران اس وقت بڑے فکر مند ہیں کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی قیادت میں ساری دنیا میں جہاد شروع کیا جائے اور وہ اس کے لئے ان کی تلاش میں ہیں۔ کافی دن پہلے کسی صاحب نے بتایا تھا کہ پاکستان کے پیر ذوالفقار احمد نقشبندی صاحب نے حرم میں بیٹھ کر قسم کھا کر یہ بات کہی تھی کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کا ظہور سنہ دو ہزار پچیس عیسوی میں ہوگا اور وہ ہر سال اسی تلاش میں جاتے ہیں کہ کسی طرح انہیں پہچان سکیں۔ ایک بات اور یاد آئی بڑی مزے کی بات ہے، مولانا سجاد نعمانی صاحب نے اپنے ایک بیان میں حضرت نے سورۂ کہف کی تفسیر کرتے ہوئے بڑا عجیب نکتہ پیش کیا فرمایا کہ اللہ سبحان تعالیٰ نے دجال کے فتنوں کا ذکر سورۂ کہف میں کیا ہے اور سورۂ کہف پندرھویں پارے کے نصف سے شروع ہوتی ہے اس سے معلوم ہوا کہ دجال کا خروج پندرھویں صدی کے نصف پر ہوگا، آگے فرمایا کہ سولہواں پارہ شروع ہوتے ہوتے دجال کا ذکر ختم ہوجاتا ہے جس سے معلوم ہوا کہ سولہویں صدی سے قبل ہی یہ فتنہ ختم ہوجائے گا، مزید یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دجال کے ذکر سے پہلے بنی اسرائیل کا ذکر کیا ھے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس سے پہلے کافی چرچہ میں ہوں گے یعنی انہیں عروج ملے گا۔ اب ہم حضرت کی ان باتوں پر غور کرتے ہیں تو اس سے بھی یہی اندازہ نکل کے سامنے آتا ہے کہ چونکہ دجال کے پندرھویں صدی کے نصف میں آنے کا امکان ہے اور حضرت امام مہدی علیہ السلام اس سے تقریبا پانچ چھ سال قبل آئیں گے اور اس وقت سنہ ہجری چودہ سو پینتالیس ہجری چل رہی ہے۔ ایک دو سال قبل مطلب پینتالیس، چھیالیس ہجری جو انگریزی سال کے حساب سے سنہ دو ہزار چوبیس اور پچیس عیسوی بنتے ہیں۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے بعد بہت ممکن ہے کہ سنہ دو ہزار پچیس عیسوی کے بعد حضرت امام مہدی علیہ السلام کی قیادت میں تیسری عالمی اسلامی جنگ ہو۔ بہرحال آپ جس طرح بھی غور کریں گے یہی دو سال سامنے آئیں گے۔ معلوم ہوا کہ یہ دو سال امت مسلمہ کیلئے بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ امت مسلمہ کو دجالی فتنوں اور سازشوں سے حفاظت فرمائے، آمین ثم آمین۔۔۔معزز قارئین!! پہلے سیاہ جھنڈے نکلیں گے پھر غزوہ ہند ہوگی پھر ہندستان میں ہندؤوں کا قتل عام ہوگا پھر ہندستان و پاکستان میں دین کے بد خواہ لوگوں کا قتل عام ہوگا جیسے گستاخ اور لعنتی قادیانی وغیرہ پھر تیسری جنگ عظیم شروع ہوگی پھر قسطنطنیہ مسلمانوں کے ہاتھوں نکل جائے گا پھر سفیانی کا ظہور ہوگا پھر حضرت امام مہدی علیہ سلام کا ظہور ہوگا پھر سفیانی کا لشکر حضرت امام مہدی علیہ السلام سے لڑنے چلے گا تو مکہ مدینہ کے درمیان مقام بیضا پر زمین میں دھنسا دیا جائے گا پھر بنوقلب کا لشکر امام مہدی کے ہاتھوں شکست کھائے گا جس کو لوٹنے کا حکم رسول اللہ نے دیا ہے پھر مشرق سے سیاہ جھنڈے عرب کی طرف طوفان بن کر اٹھیں گے عرب کو بچانے کیلئے ساری یہودی نیوی میدان میں آئے گی اور سیاہ جھنڈوں کے ہاتھوں بری طرح تباہ ہوگی پھر حجاز مقدس کا محاصرہ توڑنے کیلئے خلیج فارس کے نزدیک سیاہ جھنڈے دجالیوں سے بڑا زبردست معرکہ لڑیں گے اور محاصرہ توڑ دیں گے پھر یہ لشکر حضرت امام مہدی علیہ سلام کی بیعت کیلئے آگے بڑھے گا اور رستے میں نجد شہر ان کی طوفانی یلغار کی لپیٹ میں آجائے گا پھر یہ لشکر حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کریگا پھر یہ عربوں سے خزانہ طلب کریں گے وہ دینے سے انکار کریں گے پھر یہ سیاہ جھنڈے والوں کے ہاتھوں بری طرح قتل ہونگے. ان کے قتل عام کے دوران سیاہ جھنڈے عرب کی ریت کو عربوں کے خون سے تر کردیں گے. اس خوفناک قتل عام کا ذکر احادیث مبارکہ میں بھی ملتا ہے. یہی وجہ ھوگی کہ عرب بہت کم رہ جائیں گے پھر عرب بھاگ کر مکہ اور مدینہ میں پناہ لیں گے اور اپنی جان بخشی کیلئے خزانہ دینا چاہیں گے لیکن سیاہ جھنڈے لینے سے انکار کردیں گے پھر سیاہ جھنڈوں کی اگلی یلغار کا نشانہ مصر بنے گا جس کا ذکر احادیث میں ملتا ہے پھر ایران کی باری آئے گی لیکن ایران اطاعت قبول کرکے جان بچائے گا پھر رومی اپنے وہ لوگ جو اسلام قبول کرچکے ہونگے واپس مانگے گے. نہ دینے پر رومیوں کے اسی جھنڈے سیاہ جھنڈوں سے لڑنے کیلئے نکلیں گے. ہر جھنڈے تلے ساٹھ ہزار رومی ہونگے. ان کی اتنی تعداد دیکھ کر سیاہ جھنڈوں میں سے ایک تہائی بھاگ جائیں گے. جن کی توبہ اللہ تعالیٰ کبھی قبول نہ کریگا. پہلے دن مسلمان ایک جماعت کو لڑنے بھیجے گی. ساری جماعت شام تک شہید ہوجائے گی پھر چوتھے دن تمام اہل اسلام جو کہ سیاہ جھنڈے والے ہی ہونگے مل کر رومیوں پر حملہ آور ہونگے پھر وہ ایسی جنگ کریں گے کہ تاریخ انسانی میں پہلے کسی قوم نے ایسی جنگ نہ کی ہوگی اور نہ کبھی ایسی جنگ لڑی ہوگی اور نہ دیکھی سنی ہوگی پھر اللہ تعالیٰ رومیوں پر شکست مسلط کردے گا پھر مسلمان یعنی سیاہ جھنڈے والے لشکر ان کا قتل عام کریں گے. یہاں تک کہ رومیوں کی لاشوں کے پہلو سے پرندہ اڑے گا وہ مرکر گریگا لیکن لاشوں کے سمندر کو پار نہ کر سکے گا اور مر کر گرے گا بھی تو ایک لاش پر. اس جنگ کے بعد آدھے سے زیادہ لشکر آرمینیا کی طرف جائے گا. سیاہ جھنڈے والے لشکر ارمینیا پر آندھی و طوفان اور بلا بن کر نازل ہونگے اور آرمینیا کو وہ تباہی دیکھنی پڑے گی جس کے سامنے بابل و نینوہ اور بغداد کے قصے بھی ہیچ ہیں. اس کا ذکر حدیث مبارکہ میں ملتا ھے۔ کالے جھنڈے والا لشکر وہاں سے ہوتا ہوا حضرت امام مہدی علیہ السلام سے جا ملے گا اور پھر قسطنطنیہ کا محاصرہ کرلے گا. اللہ تعالیٰ سیاہ جھنڈوں والے لشکر کی جہاد کا صلہ یہ دے گا کہ ان کے نعروں سے ہی قسطنطیہ فتح ہوجائے گا پھر سیاہ جھنڈوں کا کچھ لشکر یورپ کی طرف نکلے گا اور جب یہ یورپ کی دہلیز پر پہنچے گا تو پورے یورپ میں کہرام مچ جائیگا لیکن یہی پہ خبر بھی پہنچ جائے گی کہ دجال نکل آیا ہے پھر یہ لشکر وہاں سے انتہائی تیزی سے واپس آئیگا. ان کی رفتار انتہائی تیز ہوگی. احادیث مبارکہ کے مطابق یہ بڑا ہی سخت امتحان ہوگا. انتہائی سخت وقت ہوگا. جو کوئی تھوڑا آرام کا وقت نکالنے میں کامیاب ہوگا وہی طاقتور تصور کیا جائے گا. سیاہ جگنڈے والے لشکر آتے ہی عرب میں وہ رومی جو دجال سے ملے ہوں گے. ان پر تین جگہوں سے شب خون ماریں گے اور ان میں سے کوئی بھی بچ کر واپس نہ جائے گا پھر مسلمان دیکھیں گے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام تشریف لائیں گے اور دجال انہیں دیکھ کر پانی میں نمک کی طرح پگھلے گا پھر وہ وہاں سے بھاگے گا اور مقام لد پر حضرت عیسٰی علیہ السلام کے ہاتھوں قتل ہوگا پھر یہودیوں کو سیاہ جھنڈے والے لشکر قتل عام کریں گے. یہی وقت ہوگا جب مومنین مشرق سے لے کر مغرب تک فتوحات کے جھنڈے لہرا رہے ہونگے اور اللہ نے سورت بنی اسرائیل میں جو وعدہ فرمایا تھا پورا ہوگا یعنی کفر و سرکشی کرنے والی کوئی بھی بستی ایسی نہیں جسے ہم روز قیامت سے قبل ہی تباہ و برباد نہ کردیں پھر حضرت عیسٰی علیہ السلام کو حکم ہوگا کہ کوہ طور پر جاکر قلعہ بند ہوجائیں. یاجوج ماجوج نکل کر فتنہ عظیم پھیلائیں گے. اللہ تعالیٰ ان پر اپنا قہر نازل کرے گا اور ان پر نفہ نامی کیڑا لگ جائے گا اور یہ سب کے سب یاجوج ماجوج ہلاک ہوجائیں گے پھر سات سال تک مسلمان امن امان سے رہیں گے. امن اتنا زیادہ ہوگا کہ بچہ شیر کو بھگا دیگا جہاد ختم ہوجائے گا تلواریں درانتیاں بن جائیں گیں. شیطانیت تباہ ہوچکی ہوگی اور شیطان کو جو قیامت تک کی مہلت دی تھی ختم ہوجائے گی پھر ایک نرم ہوا چلے گی جس سے دنیا میں اسلام ختم ہوجائے گا۔ اب حبشی دنیا پر حکومت کریں گے اور نفس کی حکمرانی ہوگی. ایک حبشی ٹیڑھی پنڈلی والا نیلی آنکھوں والا اور ٹھگنا خانہ کعبہ کو گرا کر پتھر سمندر میں پھینک دیگا. غلاف جلا دیگا اور خزانہ گھر لے جائے گا پھر قیامت مرحلہ وار شروع ہوگی اور تمہارے رب کے وعدے کا وقت آجائے گا. فتنہُ دجال بہت سخت ہوگا۔ اس سے حفاظت کیلئے ہر جمعہ کے روز سورہ الکہف کی تلاوت لازمی کریں۔ قیامت کب آجائے کوئی پتہ نہیں تو کیا ھم سب نے اس کی تیاری کرلی ہے۔ اصل علم اللہ ربّ العزت کے پاس ھے۔ بیشک ہمیں تیاری کرنی ہے، کوشش کرنی ہے، غور و فکر کرنا ہے، خود کو، نسلوں کو، اس فتنے سے بچانا ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔۔۔معزز قارئین!! میرے انتہائی قریبی مخلص دوست ڈاکٹر انجینئر ریٹائرڈ کرنل سید صادق علی صاحب ہیں انھوں نے مجھ سے بات کرکے بتایا کہ پاکستان اسلام کا قلعہ اور اسلامی تشخص اس وقت تک نہیں بن سکتا جب تک کہ پاکستان سے اسلام دشمن ناسور جہموریت اور جمہوری نظام کا صفحہ ہستی سے خاتمہ نہ ھو کیونکہ نظام جمہوریت ضد ھے نظام مصطفیٰ ﷺ کی یہ کفار و مشرکین کا خودساختہ نظام ھے جو اسلامی ریاستوں کی تباہی کا پیش خیمہ ھے۔ اب اس قوم کو عقل کے ناخن لینا چاہئے اور نظام شریعت یعنی نظام مصطفیٰ ﷺ کیلئے آواز بلند کریں کیونکہ نظام مصطفیٰ ﷺ میں ہی پاکستان اور پاکستانیوں کی بقاء و سلامتی و خوشحالی موجود ھیں۔۔۔۔۔۔۔!!

Exit mobile version