BBC Urdu TV

عنوان: لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ڈاکٹر منیر احمد خان مغل

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ڈاکٹر منیر احمد خان مغل ۔۔۔!!*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

رب العزت نے واضع طور پر اپنے بندوں کو بتادیا ھے کہ ھم تمہیں بہت سا دیکر آزمائیں گے اور سب کچھ چھین کر بھی جو لوگ ثابت قدم رھے اور اپنے رب کا شکر ادا کرتے رھے اللہ سے انسانی معاملات میں ڈرتے رھے عدل و انصاف پر سختی سے کاربند رھے انہیں کیلئے انعامات و اکرام ھیں اللہ انہیں وہاں سے عطا کریگا جہاں سے وہ سوچ بھی نہیں سکتے۔ میں اکثر کہتا ھوں اور اپنی تحریروں میں لکھتا ھوں کہ فی زمانہ ھم من حیث القوم اپنے دین محمدی ﷺ سے دور ھوتے جارھے ھیں خاص طور پر وہ طبقہ جو کسی طور مالی و اختیاری مستحکم ھوجاتا ھے اس کے پاؤں زمین پر نہیں ٹکتے اور وہ کمزور مجبور غریب و غربا اور شرفاء کی تذہیک کرنے میں دیر نہیں کرتا اور سفید پوش عزت نفس رکھنے والوں کی عزت کو پامال کرنے میں سکون و خوشی محسوس کرتا ھے، ھمارے ملک کا المیہ ھے کہ ایسے طبقہ کی تعداد روز بروز بڑھتی جارہی ھے لیکن اسی غلیظ اور خباثتی نظام میں کم فیصد ایسے لوگ ہر محکنہ ہرشعبہ ہر ادارے ہر وزارت میں تا حال موجود ھیں جب کے صدقے اللہ نے ھم پر بڑا عذاب نازل نہیں کیا ھے، اس کی زندہ مثال کیلئے بیشمار واقعات و ثبوت موجود ھیں آج میں ایسے ہی ایک عظیم دیندار دیانتدار ایماندار سچے نیک انسان کی زندگی کے چند واقعات پیش کرونگا کہ جس کو دیکھ کر واقعی اللہ یاد آجاتا ھے۔ معزز قارئین!! میرے ایک دوست نے یہ تحریر مجھے بھیجی تاکہ میں اس پر کالم لکھوں وہ لکھتے ھیں کہ میرے پاس چند دن قبل ایک ریٹائرڈ پولیس افسر آئے، انکا چھوٹا سا مسئلہ تھا، میں ان کی جتنی مدد کرسکتا تھا میں نے کردیا، اس کے بعد گفتگو شروع ہوئی تو میں نے ان سے زندگی کا کوئی حیران کن واقعہ سنانے کی درخواست کی۔
میری فرمائش پر انھوں نے ایک ایسا واقعہ سنایا جس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا اور
میں نے سوچا، مجھے یہ آپ کے ساتھ بھی
شیئر کرنا چاہئے۔ پولیس افسر کا کہنا تھا میں سنہ انیس سو چھیانوے عیسوی میں لاہور میں ایس ایچ او تھا۔ میرے والد علیل تھے، میں نے انھیں سروسز اسپتال میں داخل کرادیا۔ سردیوں کی ایک رات میں ڈیوٹی پر تھا اور والد اسپتال میں اکیلے تھے، اچانک ان کی طبیعت زیادہ خراب ہوگئی اور وہ الٹیاں کرنے لگے۔ میرے خاندان کا کوئی شخص ان کے پاس نہیں تھا، وہ دو مریضوں کا کمرہ تھا، ان کے ساتھ دوسرے بیڈ پر ایک مریض داخل تھا، اس مریض کا اٹینڈنٹ موجود تھا، وہ اٹھا، اس نے ڈسٹ بین اور تولیہ لیا اور میرے والد کی مدد کرنے لگا‘ وہ ساری رات ابا جی کی الٹیاں صاف کرتا رہا، اس نے انھیں قہوہ بھی بنا کر پلایا اور ان کا سر اور بازو بھی دبائے، صبح ڈاکٹر آیا تو اس نے اسے میرے والد کی کیفیت بتائی اور اپنے مریض کی مدد میں لگ گیا۔ میں نو بجے صبح وردی پہن کر تیار ہو کر والد سے ملنے اسپتال آگیا۔ اباجی کی طبیعت اس وقت تک بحال ہوچکی تھی، مجھے انھوں نے اٹینڈنٹ کی طرف اشارہ کرکے بتایا، رات میری اس مولوی نے بڑی خدمت کی۔ میں نے اٹینڈنٹ کی طرف دیکھا، وہ ایک درمیانی عمر کا باریش دھان پان سا ملازم تھا، میں نے مسکرا کر اس کا شکریہ ادا کیا لیکن پھر سوچا، اس نے ساری رات میرے والد کی خدمت کی ہے، مجھے اسے ٹپ دینی چاہئے، میں نے جیب سے پانچ سو روپے نکالے اور اس کے پاس چلا گیا، وہ کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے اپنا ایک ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا اور دوسرے ہاتھ سے اسے پانچ سو روپے پکڑانے لگا، وہ کرسی پر کسمسایا لیکن میں نے رعونت بھری آواز میں کہا "لے مولوی رکھ یہ رقم تیرے کام آئے گی” وہ نرم آواز میں بولا نہیں بھائی نہیں مجھے کسی معاوضے کی ضرورت نہیں، میں نے آپ کے والد کی خدمت اللہ کی رضا کیلئے کی تھی،
میں نے نوٹ زبردستی اس کی جیب میں ڈال دیئے، اس نے واپس نکالے اور میرے ہاتھ میں پکڑانا شروع کردیئے جبکہ میں اسے کندھے سے دباتا جارہا تھا اور اصرار کررہا تھا، میں اسے بار بار "او مولوی چھڈ ضد نہ کر رکھ لے تیرے کام آئیں گے بھئی” کہہ رہا تھا مگر وہ بار بار کہہ رہا تھا "میرے پاس اللہ کا دیا بہت ہے” مجھے پیسے نہیں چاہیئں۔ میں نے رات دیکھا، آپ کے والد اکیلے ہیں اور تکلیف میں ہیں، میں فارغ تھا لہٰذا میں اللہ کی رضا کیلئے ان کی خدمت کرتا رہا، آپ لوگ بس میرے لئے دعا کردیں وغیرہ وغیرہ لیکن میں باز نہ آیا، میں نے فیصلہ کرلیا میں ہر صورت اسے پیسے دیکر رہونگا۔ پولیس افسر رکے، اپنی گیلی آنکھیں اور بھاری گلہ صاف کیا اور پھر بولے، انسان جب طاقت میں ہوتا ہے تو یہ معمولی معمولی باتوں پر ضد باندھ لیتا ہے، یہ ہر صورت اپنی بات منوانے کی کوشش کرتا ہے، میں نے بھی پیسے دینے کی ضد بنالی تھی مگر مولوی مجھ سے زیادہ ضدی تھا، وہ نہیں مان رہا تھا، میں اس کی جیب میں پیسے ڈالتا تھا اور وہ نکال کر کبھی میری جیب میں ڈال دیتا تھا اور کبھی ہاتھ میں پکڑا دیتا تھا۔ میں نے اس دھینگا مشتی میں اس سے پوچھا مولوی یار تم کرتے کیا ہو؟ اس نے جواب دیا بس ایسے ہی لوگوں کی خدمت کرتا ہوں وہ مجھے اپنا کام نہیں بتانا چاہتا تھا، میں نے اب اس کا ذریعہ روزگار جاننے کی ضد بھی بنالی، میں اس سے بار بار اس کا کام پوچھنے لگا، اس نے تھوڑی دیر ٹالنے کے بعد بتایا میں کچہری میں کام کرتا ہوں مجھے محسوس ہوا یہ کسی عدالت کا اردلی یا کسی وکیل کا چپڑاسی ہوگا، میں نے ایک بار پھر پانچ سو روپے اس کی مٹھی میں دے کر اوپر سے اس کی مٹھی دبوچ لی اور پھر رعونت سے پوچھا مولوی تم کچہری میں کیا کرتے ہو؟
اس نے تھوڑی دیر میری طرف دیکھا اور پھر میرے والد کی طرف دیکھا، لمبی سانس لی اور پھر آہستہ آواز میں بولا مجھے اللہ نے انصاف کی ذمے داری دی ہے، میں لاہور ہائی کورٹ میں جج ہوں، مجھے اس کی بات کا یقین نہ آیا، میں نے پوچھا کیا کہا؟ تم جج ہو!! اس نے آہستہ آواز میں کہا جی ہاں میرا نام جسٹس منیر احمد مغل ہے اور میں لاہور ہائی کورٹ کا جج ہوں، یہ سن کر میرے ہاتھ سے پانچ سو روپے گر گئے اور میرا وہ ہاتھ جو میں نے پندرہ منٹ سے اس کے کندھے پر رکھا ہوا تھا وہ اس کے کندھے پر ہی منجمد ہوگیا۔ میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور آواز حلق میں فریز ہوگئی، مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی میں اب کیا کروں؟
جسٹس صاحب نے بڑے پیار سے میرا ہاتھ اپنے کندھے سے اتارا کھڑے ہوئے جھک کر فرش سے پانچ سو روپے اٹھائے، میری جیب میں ڈالے اور پھر بڑے پیار سے اپنے مریض کی طرف اشارہ کرکے بتایا یہ میرے والد ہیں میں ساری رات ان کی خدمت کرتا ہوں، ان کی غلاظت تک صاف کرتا ہوں۔ میں نے رات دیکھا آپکے والد اکیلے ہیں اور انکی طبیعت زیادہ خراب ہے لہٰذا میں انھیں اپنا والد سمجھ کر انکی خدمت کرتا رہا، اس میں شکریہ کی کوئی ضرورت نہیں، یہ سن کر میں شرم سے زمین میں گڑھ گیا کیوںکہ میں صرف ایس ایچ او تھا اور میرے پاس والد کیلئے وقت نہیں تھا، میں نے انھیں اکیلا اسپتال میں چھوڑ دیا تھا جبکہ ہائی کورٹ کا جج پوری رات اپنے والد کیساتھ ساتھ میرے والد کی خدمت بھی کرتا رہا اور ان کی الٹیاں بھی صاف کرتا تھا۔ میرے لئے ڈوب مرنے کا مقام تھا، میں ان کے پاؤں میں جھک گیا مگر اس عظیم شخص نے مجھے اٹھا کر سینے سے لگالیا۔ وہ پولیس افسر اس کے بعد رونے لگے، میں نے ان سے پوچھا کیا آپکی اس کے بعد جسٹس صاحب سے دوبارہ کبھی ملاقات ہوئی؟ وہ روندھی ہوئی آواز میں بولے "بے شمار” میں نے زندگی میں ان سے اچھا، دین دار، ایمان دار اور نڈر انسان نہیں دیکھا۔ ان کا پورا نام جسٹس ڈاکٹر منیر احمد خان مغل تھا۔ انھوں نے دو پی ایچ ڈی کی تھیں۔ ایک پاکستان سے اور دوسری جامعۃ الاظہر مصر سے۔ دوسری پی ایچ ڈی کیلئے انھوں نے باقاعدہ عربی زبان سیکھی تھی۔ انھوں نے اسکے علاوہ ملکی اور بین الاقوامی قوانین پر چوبیس کتابیں لکھی تھیں، وہ ان تمام کاموں کیساتھ ساتھ تیزی سے مقدمات نبٹانے میں مشہور اور ماہر تھے۔ چیف جسٹس جس مقدمے کا فوری فیصلہ چاہتے تھے وہ مقدمہ جسٹس منیر مغل کی عدالت میں لگ جاتا تھا، میں خاموشی سے سنتا رہا، پولیس افسر کا کہنا تھا، جسٹس صاحب غریب خاندان سے تعلق رکھتے تھے، ایل ایل بی کے بعد مجسٹریٹ بھرتی ہوگئے، محنت کی عادت تھی۔
مجسٹریٹی کے دور میں انکے پاس کام کم ہوتا تھا لہٰذا انھوں نے عدالتی صفحات کی بیک سائیڈ پر کلمہ لکھنا شروع کردیا یہ سارا دن کلمہ طیبہ لکھتے رہتے تھے شائد اس پریکٹس کا صلہ تھا اللہ تعالیٰ نے انکی انرجی اور ٹائم میں برکت ڈال دی، انھوں نے دوران ملازمت ایک پی ایچ ڈی کی پھر عربی زبان سیکھی، جامعۃ الاظہر میں داخلہ لیا اور عدالتی ٹائم کے بعد عربی زبان میں تھیسس لکھ کر مصر سے بھی پی ایچ ڈی کی ڈگری لے لی، وہ ہر نیا قانون پڑھتے اور اس پر فوری طور پر کتاب لکھ دیتے تھے، وہ کتاب بھی خود ٹائپ کرتے تھے اور اس سارے کام کے دوران عدالتی کارروائی بھی متاثر نہیں ہوتی تھی، وہ دھڑا دھڑ مقدمات نمٹا دیتے تھے۔ انھوں نے پوری زندگی اپنے والد کی خدمت خود کی، ان کا پیشاب و غلاظت تک خود صاف کرتے تھے۔ والد زیادہ بیمار ہوئے تو ان کے بیڈ پر پاؤں کے قریب گھنٹی کا بٹن لگادیا اور گھنٹی اپنے کمرے میں رکھ لی، والد ضرورت پڑنے پر پاؤں سے بٹن دبا دیتے تھے اور وہ بھاگ کر انکے پاس پہنچ جاتے تھے، اپنی بیگم کو بھی والد کا کوئی کام نہیں کرنے دیتے تھے۔ میں نے ان سے جسٹس صاحب کی زندگی کے مزید واقعات سنانے کی درخواست کی، پولیس افسر ہنس کر بولے ایک بار ان کی عدالت میں جائیداد کے تنازع کا کیس آیا۔ ایک طرف سوٹیڈ بوٹیڈ امیر لوگ کھڑے تھے، انکے ساتھ مہنگے وکیل تھے جبکہ دوسری طرف ایک مفلوک الحال بوڑھا کھڑا تھا۔ اس کا وکیل بھی مسکین اور سستا تھا، جسٹس صاحب چند سکینڈز میں معاملہ سمجھ گئے لہٰذا انھوں نے بوڑھے سے پوچھا باباجی آپ کیا کرتے ہیں؟ بزرگ نے جواب دیا میں پرائمری ٹیچر ہوں، یہ سن کر جسٹس صاحب اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور کہا ماشاء اللہ ہماری عدالت میں آج ایک استاد آئے ہیں لہٰذا یہ استاد کرسی پر بیٹھیں گے اور عدالت سارا دن انکے احترام میں کھڑی ہوکر کام کریگی اور اسکے بعد یہی ہوا وہ بوڑھا استاد کرسی پر بیٹھا رہا جب کہ جسٹس صاحب اپنے عملے اور وکلاء کے ساتھ کھڑے ہوکر کام کرتے رہے۔ جسٹس صاحب نے سارے مقدمے نبٹانے کے بعد آخر میں بوڑھے استاد کا کیس سنا اور پانچ منٹ میں وہ بھی نبٹا دیا۔ میں نے ان سے پوچھا کیا جسٹس صاحب حیات ہیں؟ انکا جواب تھا جی ہاں لیکن بیمار ہیں اور مفلوج ہیں۔ پولیس افسر نے اس کے بعد پرس سے سو سو روپے کے پانچ بوسیدہ نوٹ نکالے میرے سامنے رکھے اور کہا یہ وہ پانچ سو روپے ہیں میں آج بھی انھیں تعویذ کی طرح جیب میں رکھتا ہوں میں نے نوٹ اٹھائے انھیں بوسا دیا اور اسے واپس پکڑا دیئے۔ اس نے بھی وہ چومے اور دوبارہ پرس میں رکھ لئے۔ وہ واقعی تعویذ تھے انھیں ایک اصلی انسان نے چھوا تھا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین اسلام کو پڑھنے سمجھنے عمل کرنے دوسروں کو پہنچانے اور دین کو زندگی کے ہر شعبے میں قائم کرنے کی جدوجہد کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔معزز قارئین!! مجھےکامل یقین ھے کہ جسٹس ڈاکٹر منیر احمد خان مغل کے شاگرد ضرور ہونگے اور وہ اپنے استاد کی تعلیم و تربیت کا عملی ثبوت پیش کررھے ھونگے یقیناً لاہور ہائیکورٹ میں سب نہیں تو کم از کم ایسے ایمان دار دیانت دار دین دار کی صحبت پانے والے شمع نور ضرور پھیلا رھے ھونگے گزشتہ دنوں میں نے اپنے کالم میں اپنے ہی شعبہ صحافت سے تعلق تعلق رکھنے والی شخصیات کے وہ عوامل کا ذکر کیا تھا جو خالصتاً رضائے الہیٰ کی خاطر دامن سخن مالی طور پر پوشیدہ انداز سے مددگاری اور مالی تعاون کا سلسلہ قائم کر رکھا ھے آج دنیا نیک لوگوں سے خالی نہیں ھوئی ھے ایسے بیشمار لوگ ہر طبقہ میں موجود ھیں جو سچائی کو جاننے کی کوشش میں لگے رہتے ھیں تاکہ حق دار کو حق مل سکے۔ آئیں عہد کریں کہ حق دار کو خود تلاش کرکے نیکی کریں اور نیکی کو پھیلائیں تاکہ مافیاء کا خاتمہ کیا جاسکے۔۔۔۔!!

Exit mobile version