ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: لاھور دھماکہ اور ھماری ایجنسیوں کی کاوشیں
الحمدلله کہ رب العزت نے مجھے پاکستان میں پیدا کیا وہ ملک جس کی افواج اور خفیہ ایجنسیاں مخلصی ایمانداری سچائی اور قربانیوں سے سجی ھوئی ھیں اگر ھماری خفیہ ایجنسیاں کمزور اور ناقص ھوتی تو ھمارا ملک کب کا ناتلافی نقصان سے دوچار ھوچکا ھوتا مجھے پاکستان سے جس قدر عشق ھے اسی قدر میں انتہائی عقیدت و احترام اور محبت کیساتھ اپنی تمام خفیہ ایجنسیوں سے لگاؤ رکھتا ھوں۔ میں مستقبل قریب میں بڑے امید رکھتا ھوں کہ جلد پولیس اصطلاحات ھوجائے گی تاکہ ھمارا معاشرے میں موجود غدار’ دہشتگرد’ قاتل’ لٹیرے’ ظالم و جابر’ غنڈوں’ عیاش و آوارہ لوفر گردی کا خاتمہ ممکن بن سکے گا کیونکہ پولیس اصطلاحات میں مکمل ترین پولیس سیاست سے پاک ھوکر افواج پاکستان کی طرح خودمختار ادارہ بن جائیگا انشاءالله ۔۔۔۔۔معزز قارئین!! لاہور دھماکے کے تانے بانے کراچی سے جاملے ہیں، مشتبہ ملزم پیٹر پال ڈیوڈ کے گھر چھاپہ مارا تو لاہور دھماکے کے تانے بانے کراچی سے جڑنے لگے ہیں اور شہرِ قائد میں پیٹر پال ڈیوڈ کے گھر پر سکیورٹی اداروں نے چھاپہ مارا ہے جس سے مقامی سندھ پولیس مکمل طور پر لاعلم نکلی۔۔۔۔معزز قارئین!! ریجنل ٹیلی گراف کو سیکورٹی ذرائع کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ چھاپہ مار کارروائی محمود آباد کے علاقے میں عمل میں لائی گئی اور پیٹرپال ڈیوڈ کے گھر والے چھاپے کے نا معلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ھے جبکہ محمود آباد میں واقعہ گھر کو تالہ لگادیاگیا، ابتدائی تحقیقات کے مطابق پیٹرپال ڈیوڈ بحرین میں اسکریپ اور ہوٹل کا کاروبار کرتا ہے اور اس نے اپنی فیملی کو سنہ دو ہزار دس میں بحرین سے پاکستان منتقل کیا تھا۔ذرائع کیمطابق ملزم ڈیڑھ ماہ پہلے بحرین سے کراچی پہنچا تھا اور اس دوران تین مرتبہ لاہور کا دورہ کیا۔ معلوم ہوا ہے کہ تین بار لاہور جانے کے دوران مجموی طور پر ستائیس دن لاہور میں مقیم رہا، سکیورٹی اداروں نے پاکستان آنے کے دوران ڈیوڈ کا امیگریشن ڈیٹا حاصل کرلیا جبکہ بیرون ملک دستاویزات کی تیاری اور پولیس سرٹیفیکیٹ سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔دریں اثنا ریجنل ٹیلی گراف کو معلوم ہوا ہیکہ تحقیقاتی اداروں نے مبینہ ماسٹر مائنڈ کا مزید ریکارڈ حاصل کرلیا ہے جس میں پیٹر پال ڈیوڈ کی پاکستان آمد و رفت کی ویڈیوز اور تصاویر شامل ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ پیٹر پال کے نام پر پاکستان میں دو موبائل سم رجسٹرڈ ہیں۔ ایک موبائل نمبر انیس اپریل سنہ دو ہزار چودہ اور دوسرا اکتیس مئی سنہ دو ہزار پندرہ ایکٹو کروایا گیا۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ڈیوڈ نے ڈرائیونگ لائسنس کراچی سے حاصل کیا تھا اور سنہ انیس سو چوراسی میں بنوائے گئے۔ لائسنس کی سترہ مئی سنہ دو ہزار چھبیس تک تجدید کرائی۔۔۔ معزز قارئین!! افسوس کہ صوبہ سندھ میں کئی سالوں سے حاکم رہنے والوں نے اس صوبے کو دشمنانانِ پاکستان کیلئے آشیانہ سہولت بنادیا ھے اس پر سونے کا سوھاگہ اٹھارہ ویں ترمیم سے قانون کو جرم کے ماتحت کردیا ھے لیکن ھمارے محافظ نہ کل غافل تھے نہ آج ہیں اور نہ کل رہیں گے کیونکہ آپریشن ردالفساد کے بعد آپریشن سہولتکار شروع ھوا چاہتا ھے جو بے دریغ کاروائی کرتے ھوئے امیر و غریب طاقتور و کمزور سب پر یکساں آپریشن ھونے جارہا ھے اور پھر عوام میں اس قدر حوصلہ و ہمت یقین پیدا ھوجائیگا کہ عوام اپنے اندر کے خبیثوں کو نکال باہر کریں گے انشاءالله۔۔۔۔
پاکستان زندہ باد’ پاکستان پائندہ باد۔۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
