BBC Urdu TV

عنوان: قصوروار میں آپ یا ھم سب

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: قصوروار میں آپ یا ھم سب۔۔۔!!

سب سے خوبصورت اور اچھی بات تو یہ ھے کہ انسان خود پر نظر دوڑائے اور اپنا احتساب کرتے ھوئے اپنی خامیوں کو تلاش کرکے اس کی اصلاح کرے اور اپنی خوبیوں میں مزید بہتری کے عمل کو داخل کرے بیشک کوئی بھی انسان مکمل نہیں مگر دانشور عقلمند سمجھدار ذہین قابل شخص وہی ھوتا ھے جو جذبات سے دور تحمل اور بردباری کیساتھ حالات و واقعات کا سامنا کرتا ھے اور بہتر وقت میں صحیح خطوط پر فیصلے کرتا ھے ایسے لوگ اپنی زندگی میں اطمینان پیدا کرتے ہیں اس کے برعکس عادات کے لوگ بے چینی اور پریشان زندگی میں رہتے ہیں۔ سب سے پرسکون مہذب اور اطمینان والی حیات دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم عطا کرتا ھے حقیقت تو یہ ھے کہ اسلامی شعائر میں گزاری جانے والی زندگیاں روحانی سکون سے آراستہ ھوتی ھیں۔ھم جس ملک میں رہتے ہیں کہنے کو تو اسلامی ریاست ھے مگر دین اسلام کے اصول نظر نہیں آتے۔ شراب اور زنا کاری پر کوئی سختی نہیں۔ سود عام بلکہ لازم و ملزوم۔ دکھاوے کا آئین جس پر عمل نہیں۔ ہاں غریب کمزور مسکین عوام پر ہی سارے قوانین سارے آئین سارے دستور کی شقیں جاری کردی جاتی ہیں۔ میں اس دیش میں رہتا ھوں جہاں ریاست کو بھی بلیک میل کیا جاتا ھے۔ میں ایسے ملک کا شہری ہوں جہاں ہر سو مافیا کا قانون اور مافیا کا ہی حکم چلتا ھے جہاں کے نظام مافیا کے ماتحت ھوتے ہیں۔ میرے ملک میں مسلمان نہیں مسلکی لوگ رہتے ہیں۔ میں اس ملک میں رہتا ھوں جہاں کی تنظیمیں ایسوسی ایشن گروپس گروہ پارٹیاں جھوٹے دعوے جھوٹے وعدے جھوٹی قسمیں جھوٹے عہد اور جھوٹے خواب دکھانے میں ماہر ہیں۔ میں ایسے ملک میں جی رہا ہوں جہاں سچ و حق لکھنا کفر اور غداری کے مترادف ھے۔ میں ایسے ملک کا باشندہ ھوں جہاں کی عوام ایک پلیٹ بریانی پر اپنے مستقبل کا سودا کر بیٹھتی ھے۔ میں اس ملک کا شہری ھوں جہاں عدالتیں ہیں لیکن انصاف نہیں۔ جہاں تھانے بیشمار ہیں مگر جرائم کی روک تھام نہیں۔ جہاں مدرسے اسکول کالج یونیورسٹیاں بھی ہیں مگر قابل طالبعلم نہیں جو ہیں ان کی قدر نہیں اور جاب بھی نہیں۔ میں اس ملک میں رہتا ھوں جہاں ٹیکس کے انبار تو ہیں مگر ٹیکس کا بدل نہیں۔ میں اس ملک کا شہری ہوں جو روٹی کپڑے مکان کو ترستا رہتا ھے پر لے نہیں سکتا۔ میں وہاں رہتا ھوں جہاں سروس کمیشن تقرریوں میں کہیں رشوت کہیں تعصب اور کہیں دباؤ کے تحت رہتا ھے۔ میں اس ملک کا باشندہ ھوں جہاں مہنگائی تو بڑھتی رہتی ھے مگر نوکری پیشہ شخص کی تنخواہ اور پینشن میں خاطر خواہ اضافہ نہیں۔ میں جس دیش میں رہتا ھوں وہاں پر سب سے زیادہ سفید پوش متاثر رہتے ہیں۔ میں دنیا کی اس ریاست کا باشندہ ھوں جو دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر معروضِ وجود میں آئی لیکن صاحبِ اقتدار کفار و مشکرین کے ذہنی غلام ہیں۔
شاعرِ مشرق علامہ اقبال کہہ کر چلے گئے۔۔۔۔
*ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے*
*نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر*
بس بس بس یہی تو شخصیت ہیں شاعرِ مشرق علامہ اقبال,قائداعظم محمد علی جناح, مادرِ ملت فاطمہ جناح, وزیراعظم نواب لیاقت علی خان جن کی بدولت میرا دل سکون میں آجاتا ھے بعد کے آنے والوں نے جس قدر اس ملک کو نوچ ڈالا تاریخ انہیں سیاہ ناموں اور کردار سے یاد کرتی ھے۔ بعد میں آنے والوں نے سیاسی پارٹیاں بھی بنائی اور اس سے جبراً زندہ رکھنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ آج کے حالات کے ذمہ دار قصوروار ہم سب ہیں۔ کراچی یونین آف جرنلسٹ دستور ہم جمہوری تقاضوں اور جمہوری انداز کو برقرار رکھنے میں جب سے کردار ادا کیا ھے۔ دوستوں کی سختیاں برداشت کرنی پڑرہی ہیں لیکن تا دم مرگ اصول و ضوابط پر قائم رہونگا کیونکہ گر ایسا نہ کیا تو تاریخ مجھے معاف نہیں کریگی۔ مجھے معلوم ھے کہ جس راہ کو ہم نے منتخب کیا ھے اس میں بار ہا بار آزمائشیں صعوبتیں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ھے بیشک ثابت قدمی حق و سچ کیساتھ کا انعام الله سبحان تعالیٰ کے ہاں بہترین ھے۔ جب ھم اپنے منفی کردار سے حالات معاشرہ خراب کرسکتے ہیں تو ہم اپنے مثبت کردار سے بہترین معاشرہ اور ماحول کیوں نہیں بنا سکتے میری دعا ھے کہ الله سبحان تعالیٰ ہم سب کو ہدایت بخشے اور ثابت قدمی پر قائم رکھے آمین ثما آمین

کالمکار: جاوید صدیقی

Exit mobile version