*ٹائٹل : بیدار ھونے تک*
*عنوان: قاتل حکمران اور قاتل صاحبِ اختیار افسران۔۔۔!!*
*کالمکار : جاوید صدیقی*
موت کے سوداگر کے نام سے یقیناً ہر ایک واقف ھوگا، بچپن سے قصے کہانیوں اخبارات و جرائد میں پڑھا کرتے تھے اس زمانے میں انہیں بدترین اور غلیظ ترین سمجھا جاتا تھا ان سوداگروں پر آئے روز گرفت سخت کرکے قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دی جاتی تھی اس کی سب سے بڑی وجہ اس وقت یعنی آج سے چالیس پچاس سال قبل کے حکمران و صاحب اختیار افسران اپنی عوام سے سچی والہانہ محبت اور ہمدردی رکھتے تھے یہی نہیں بلکہ اپنے فرائض کو عبادت کی طرح ادا کرتے تھے یہی سبب تھا کہ شہر و قصبوں میں امن و امان اور سکون تھا اور انسانیت اور انسانی ہمدردیاں عروج پر تھیں لیکن وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان اور خاص طور پر پاکستان کے دل پاکستان کی شہہ رگ پاکستان کا دلہن پاکستان کا سرمایہ پاکستان کی روح شہرِ کراچی کو نوچنا جلانا برباد کرنا اور تباہ کرنا لوٹ مار قتل و غارت اور دیشت و وحشت پھیلانے میں تاریخ رقم قائم کردی، روزانہ کی بنیاد میں ملک بھر سے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کی آمد وہ بھی بغیر کسی رکاوٹ تحقیق اور ڈیٹا جمع کئے اس بے یارو مددگار یتیم بے بس لاغر شہر پر جہاں ملکی و بیرونی ملکی شہریوں نے تجاویزات اور غیر قانونی قبضوں کے ذریعے سرکاری و نجی املاک کو ہتھیالا وہ تاریخ کی بدترین مثالوں میں سے ایک مثال ھے یاد رھے یہ سلسلہ تا حال جاری ھے۔ لکھنے کو بہت ھے کتابیں بھر جائیں مگر یہاں کالم کے سبب اپنے مضمون کو سمیٹنا پڑیگا ۔۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! حال میں ھم دیکھتے ھیں اور حکمران و صاحب اختیار افسران سے سوال کرتے ھیں کہ کیا کراچی کے چائے کے بھیانک ہوٹلوں کے خلاف کچھ ہوگا یا نہیں؟ کراچی میں کوئٹہ والی چائے کے شوقین افراد چائے پینے کیلئے بے چین رہتے ہیں، جیسے ہی دوران سفر انہیں کوئٹہ والی چائے کا ہوٹل نظر آتا ہے ان کی گاڑی کی رفتار بھی دھیمی پڑ جاتی ہے اور وہ ہوٹل کے باہر بچھائی گئی تخت پر تخت نشین ہوجاتے ہیں اور پھر چائے کا آرڈر دے کر بندہ راحت محسوس کرتا ہے کہ تھکاوٹ اتر گئی، یہ وہ نشہ ہے جس نے کراچی والوں کے دل و دماغ پر قبضہ جما لیا ہے اور اب گھر کی چائے پھیکی اور باہر والے کی فرحت بخش لگتی ہے، کراچی میں کبھی عمدہ قسم کے چائے خانہ کا رواج تھا جس میں اولڈ سٹی ایریاز میں کھتری میمن، مارواڑی، مدراسی، بہاری اور دہلی وال برادری والوں کا چائےخانہ ہوا کرتے تھے، جہاں چائے ملاوٹ کے بناء روائتی انداز میں بنائی جاتی تھی اور اِس دیسی چائے خانوں میں انڈین چائے کی بیشمار اقسام دستیاب ہوتی تھیں پھر رفتہ رفتہ چائے خانے بند ہوتے چلے گئے اور یکایک انکی جگہ کوئٹہ کے رہائشی پختونوں نے کوئٹہ ہوٹل کے نام سے کراچی کی نجی و سرکاری دفاتروں کے باہر شاہراہوں پر کوئٹہ ہوٹل والوں کا قبضہ نظر آنے لگا، حتی کہ کراچی کی گلی کوچوں میں بھی کوئٹہ چائے ہوٹل کھل گئے جو کہ حیرت انگیز بات تھی کوئٹہ ہوٹل والے پٹھان منہہ مانگا کرایہ ادا کرکے چائے کا ہوٹل کھولتے ہیں۔ یہ مہنگی ترین چائے کے ہوٹل آخر کیسی چائے فروخت کرتے ہیں یا کیا ملاوٹ کرتے ہیں کہ وہ کرایہ بھی ادا کردیتا ہے بجلی کا بل اور پولیس کا بھتہ بھی باآسانی دے دیتا ہے۔ آخر اِس چائے کے ہوٹل میں کوئی تو حکمت ہوگی اپنے معزز قارئین کے سامنے اِس حکمت کا پردہ چاک کرتے ہیں۔ کوئٹہ ہوٹل کے چائے میں دو ملاوٹی حکمت پوشیدہ ہیں ایک افیون کا استعمال چائے میں کیا جاتا ہے اور دوسرا دودھ کو گاڑھا بنانے کیلئے فارملین نامی دوا کا بھرپور استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی وہ دو کاروباری راز ہیں جسے کوئٹہ ہوٹل والے استعمال کرتے ہیں۔ جسے پینے کے بعد بار بار دل کرتا ہے کہ چائے صرف کوئٹہ ہوٹل کی پینا چاہیئے۔ یہ چائے کے سوداگر نامعلوم نشہ کا عادی بنا کر اہلیان کراچی کی جیبوں پر ہاتھ صاف کر رھے ھیں۔ اس مضر صحت ملاوٹ شدہ چائے کے استعمال سے دو بڑی بیماریاں بڑی تیزی کے ساتھ کراچی کے نوجوانوں میں پھیل رہی ہیں۔ ایک بلڈ کینسر اور دوسرا گردہ کا ناکارہ ہو جانا۔ ہر ڈاکٹر اپنے مریضوں کو ہوٹل کی چائے اور کھانے پینے سے سخت منع کرتا ھے اور بآور کراتا ھے کہ یہ لذت و نشہ انکی زندگی کیلئے نا قابل تشخیص زہر ھے۔ میں بحیثیت صحافی کراچی کے بلخصوص نوجوانوں سے گزارش کعتا ھوں کہ ان ہوٹل والوں کے ہاتھوں بیماری کا شکار ہو کر اسپتال پہنچنے سے بہتر ہے کہ کوئٹہ ہوٹل والوں کی چائے پینے کا بائیکاٹ کریں۔ وگرنہ کراچی کے مہنگے ترین اسپتال استقبال کیلئے ہی بنائے گئے ہیں جہاں زندگی کی جمع پونجی سے محروم ہو سکتے ہیں اور اگر کنگال نہیں ہونا چاہتے ہیں تو ڈاکٹر ادیب رضوی صاحب کی ہدایت اور رہنمائی پر عمل درآمد کریں اور اگر چائے کے نشہ سے باہر نکلنا ناممکن ہے تو قبرستان میں موجود گورکن بھی منتظر ہے کہ اپنی موت مر کر کب تک اسکے احاطہ میں دفن ہوتے ہیں۔ نوجوانان کراچی میری اس تحریر کو صرف تحریر مت سمجھنا یہ احتیاطی تدابیر کا ہدایت نامہ ہے امید ھے کہ آپ بیدار ھوجائیں کیونکہ ہر ایک کے پیچھے ایک خاندان کی ذمہداری ھے یاد رھے کہ انہیں کوئی بند نہیں کرواسکتا ھے کیونکہ سب کا بھتہ بندھا ھوا ھے اس زہریلی کاروبار کو صرف آپ ہی روک سکتے ھیں ان تمام بیرون شہر سے آئے ہوئے ہوٹل کے تاجروں کا بائیکاٹ کرکے یاد رھے صحت ھے تو زندگی ھے اس زندگی کی حفاظت آپ نے خود ہی کرنی ھے۔ھم وہ بد قسمت قوم ھیں جنکے حکمران عوام کے قاتل، جنکے بااختیار افسران عوام کے قاتل، جنکی پولیس اپنی ہی عوام کی قاتل حتیٰ کہ جنکے منصف و ججز بھی اپنی ہی عوام کے قاتل ھیں۔ پاکستان ہر سو بدکرداروں لٹیروں رہزنوں ظالموں اور مافیا کے شکنجے میں بے بس لاچار ھے اس ملک کی سلامتی و بقاء کیلئے نظام کی تبدیلی ناگزیر ھوچکی ھے اگر نظام کو فی الفور تبدیل نہ کیا گیا تو چند عیاش زندہ رہ سکیں گے لیکن عوام مر کھب جائیگی ، زندہ قومیں متحرک اور متحد ھوتی ھیں ان حکمرانوں نے اس قوم کو تقسیم در تقسیم در تقسیم کرکے رکھ دیا ھے پہلے خود کو جوڑو پھر نظام تبدیل کرسکتے ھیں وگرنہ تمہارا اور تمہاری نسلوں کا انجام بھیانک ہی رہیگا۔۔۔!!
