BBC Urdu TV

عنوان: قاتلوں کے ہاتھوں قاتل بنے بیٹھے ھیں۔۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: قاتلوں کے ہاتھوں قاتل بنے بیٹھے ھیں۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

دین اسلام نے دنیا کا سب سے بہترین کامیاب منافع بخش معاشی نظام دیا ھے یہ نظام ھمیں حضور کائنات محمد مصطفیٰ ﷺ نے دنیا کی پہلی نظریاتی اسلامی ریاست بناکر دیا اس ریاست کو ریاست مدینہ کہتے ھیں جو چودہ سو سال قبل وجود میں آئی تھی۔ آپ ﷺ دنیا اسلام کے پہلے سپہ سالار، تاجر، معلم، پیغام رساں جیسے ھم سفیر اور صحافی کہتے ھیں، عالم اسلام کے پہلے منصف، پہلے مصنف، پہلے کاتب پہلے تدوین پہلے شوہر پہلے بیٹے پہلے بھائی پہلے باپ پہلے سردار پہلے کھلاڑی پہلے شہسوار گوکہ حیات زندگی کا کوئی بھی چھوٹا بڑا پہلو عنصر دائرہ کار کیوں نہ ھو آپ ﷺ نے عملی و تقریری طور پر سمجھایا بتایا اور سیکھایا۔ دنیا کے تمام کے تمام مذاہب اور غیر مذاہب تسلیم اور قبول کرتے ھیں کہ آپ ﷺ نے راہ متین کیں وہی اصل حیات اور دائمی کامیابی ھیں مگر افسوس کہ امت مسلمہ اپنے دین نبی آخری الزماں ﷺ کے بتائے گئے اصولوں ضابطوں کو فراموش کرکے مادیت پرستی کے دلدل میں دھنستے چلے گئے۔ اسی دنیا میں چودہ سو سال بعد ایک بار پھر نظریہ اسلام پر ریاست معروض وجود میں آئی جسے پاکستان کے نام سے جانا پہچانا جاتا ھے۔ اس پاکستان کی بقاء و سلامتی خوشحالی شاد و آباد صرف نظام اسلام سے جڑی ھے لیکن دین اسلام سے نفرت رکھنے والوں اور منافقین نے اس سرزمین کو بدترین نظام جمہوریت میں جگڑ دیا جو اس ریاست کیلئے ناسور ھے اور اسے ختم کئے بغیر نہ ریاست قائم رہ سکے گی اور نہ ہی قوم سب کے سب غلامی اور پستی کیساتھ ساتھ ہوس و لالچ بے راہ روی اور فتنہ و فسادات کی بھنیٹ چڑھ جائے گی۔ ھمارے بدکردار تمام کے تمام سیاستدان اپنے غیر ملکی آقاؤں کی خوشامد میں کوئی نقصان پہنچانے میں کمی نہیں رکھتے۔ اس وطن کو جمہوریت کے ذریعے قرض درقرض میں مقروض کرکے بادشاہی طرز پر عیش و تعائش کررھے ھیں۔ ان بدکاروں نے سپریم کورٹس ہائی کورٹس سٹی کورٹس سمیت تمام انظامیہ پولیس اور تھانوں کو بھی بے انتہا بدکار بنادیا ھے۔ یہی نہیں بلکہ اسٹیٹ بینک سمیت تمام مالیاتی اداروں اور نجی کمپنیوں کارپوریشنوں ٹریسٹی اداروں کو بھی نہ بخشا انہیں بدکار کرپٹ اور لٹیرا بناڈالا کیونکہ اس ریاست پاکستان میں سزا صرف غریب مجبور کمزوروں پر محیط ھوتی ھے۔ اگر بات کی جائے کہ پاکستانی حکمران ھو یا سپہ سالار امریکہ کے آگے کیوں لیٹ جاتا ھے تو ھمیں تجزیہ اور غور کرنا ھوگا جب اس بابت تحقیق اور تواریخ کا مطالعہ کیا تو حیرت و تعجب سے انگشت دندان میں آگئے۔۔معزز قارئین!!دنیا کے سب سے مقروض ممالک میں سْپر پاور کہلائے جانے والے امریکہ کا پہلا نمبر ہے جبکہ بیرونی قرض میں ڈوبے ممالک کی فہرست میں پاکستان ستالیس ویں نمبر پر ہے۔ امریکہ کا ایکسٹرنل ڈیٹ یعنی بیرونی قرضہ انیس جنوری سنہ دو ہزار تئیس عیسوی تک اکتیس کھرب چار ارب ڈالر ہوگیا ہے جبکہ معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہیکہ کانگریس قرض کے حصول کی حد یعنی ڈیبٹ لِمٹ میں مزید اضافے سے گریزاں ہے حالانکہ اس سے قبل امریکی ایوان نمائندگان مذکورہ حد میں اٹھہتر مرتبہ توسیع کرچکی ہے۔ ڈیبٹ لمٹ میں اضافہ، توسیع یا نظر ثانی کا یہ عمل اننچاس مرتبہ ری پبلکن دور میں ہوا جبکہ انتیس مرتبہ ڈیموکریٹس نے قرضوں کی حد بڑھائی۔ اس بار عالمی مالی بحران میں ڈیموکریٹک حکومت اور صدر جو بائیڈن مقررہ حد سے زیادہ قرضوں کیلئے کوشاں ہیں جبکہ کانگریس اس ضمن میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے، جس کے اثرات امریکی معیشت پر بھی پڑسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ مجموعی جی ڈی پی کے لحاظ سے جاپان سب سے زیادہ قرضوں میں ڈوبا ہوا ملک ہے لیکن اس پر ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ کبھی نہیں رہا۔ ماہرین معاشیات اسکی بنیادی وجہ جاپان میں بین الاقوامی سرمایہ کاری اور اعتماد کی فضا کو قرار دیتے ہیں۔ تاہم اس وقت دنیا بھر میں دفاعی بجٹ میں اضافے کا رحجان ہے اور امریکہ سمیت جاپان میں بھی دفاعی بجٹ پر اخراجات بڑھتے جارہے ہیں۔ حال ہی میں جاپان نے اپنے دفاعی بجٹ میں چھبیس اعشاریہ تین فیصد اضافہ کیا ہے، جس کے بعد یہ پانچ کھرب چار ارب ین سے بڑھ کر چھ کھرب بیاسی ارب ین ہوگیا ہے۔ جاپان کا سنہ دو ہزار تیئس عیسوی دفاعی بجٹ اسکی مجموعی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی کا ایک اعشاریہ انیس فیصد بنتا ہے۔ کراچی کے روزنامہ امت کی رپورٹ کیمطابق بیرونی قرض لینے والے ممالک میں امریکہ اکتیس کھرب چار ارب ڈالر کیساتھ سر فہرست ہے جبکہ جاپان کا نمبر دوسرا ہے، جس کے بیرونی قرضوں کی کْل مالیت نو کھرب دو ارب ڈالر ہوچکی ہے۔ یہ رقم جاپان کے جی ڈی پی کا دو سو چھیاسٹھ فیصد ہے جبکہ دنیا کی بڑی معیشتوں میں بھی سب سے زیادہ ہے مثلاً اگر جاپان کے مقابلے میں امریکہ کے قرضوں کا حجم دیکھا جائے تو یہ اکتیس کھرب ڈالر ہے مگر یہ رقم امریکہ کے ٹوٹل جی ڈی پی کے صرف اٹھانوے فیصد کے برابر ہے۔ اسی اعتبار سے جاپان جی ڈی پی کے نکتہ نظر سے دنیا کا سب سے مقروض ملک ہے۔ بہرحال بیرونی قرضوں میں تیسرا نمبر برطانیہ کا ہے، جس کا کْل ایکسٹرنل ڈیبٹ آٹھ کھرب تہتر ارب ڈالر ہے۔ اسی طرح فرانس سات کھرب چار ارب ڈالر کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے جبکہ جرمنی کی پوزیشن چھ کھرب چھیالیس ارب ڈالر کیساتھ پانچویں ہے۔ چھٹے نمبر پر چین ہے جو دو کھرب چونسٹھ ارب ڈالر کا مقروض ہے۔ فہرست میں دو کھرب اکیاون ارب ڈالر کیساتھ ساتواں نمبر اٹلی کا ہے۔ آٹھویں نمبر پر اسپین ہے، جس کے کْل بیرونی قرضے دو کھرب چھبیس ارب ڈالر ریکارڈ کئے گئے ہیں جبکہ نویں نمبر پر کینیڈا ایک کھرب تیرانوے ارب اور دسویں پر آسٹریلیا ایک کھرب تیراسی ارب ڈالر کے ساتھ موجود ہے۔ مذکورہ فہرست میں پاکستان ایک سو چھبیس ارب ڈالر کے قرض کے ساتھ سینتالیس ویں نمبر ہے۔ دریں اثنا امریکہ کے محکمہ خزانہ نے بڑھتے ہوئے بیرونی قرضوں اور ادائیگی کے ڈیفالٹ سے بچنے کیلئے چند فوری اور خصوصی اقدامات اٹھائے ہیں۔ قرض کی آخری حد کو چھونے کا مطلب یہ ہے کہ امریکی حکومت اب اس وقت تک مزید رقم قرض نہیں لے سکتی جب تک کانگریس قرض حاصل کرنے کی لِمٹ یعنی حد کو بڑھانے پر راضی نہ ہوجائے۔ سنہ انیس سو ساٹھ عیسوی کے بعد سے امریکی حکمرانوں نے قرض کی حد میں اٹھہتر بار اضافہ، توسیع یا نظر ثانی کی ہے۔ اگر صرف پچھلے چھ ماہ کی بات کیجائے تو تین بار اس حد پر نظرثانی کی گئی لیکن اس مرتبہ صورتحال تھوڑی مختلف ہے کیونکہ کانگریس میں یہ معاملات دو ہفتوں سے ڈیڈلاک کا شکار ہے۔ جب سے ری پبلکنز نے ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کیا ہے اور وہ مسلسل اخراجات میں کمی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ایسی صورت میں یہ خدشات جنم لے رہے ہیں کہ اس بار سیاستدان ردِعمل ظاہر کرنے میں یعنی قرض حاصل کرنے کی حد میں اضافے کے حوالے سے سست روی کا مظاہرہ کریں گے، جسکے باعث امریکہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور یہ صورتحال امریکہ کو اپنی تاریخ میں پہلی بار جان بوجھ کر ڈیفالٹ کیجانب لے جاسکتی ہے۔۔۔۔معزز قارئین!! اب آپ بھی خود ہی ان جمہوریت پرست حکمرانوں اور سیاستدانوں کی چال بازیوں مکاریوں منافقت جھوٹ فریب اور دھوکہ دہی کا اندازہ لگاسکتے ھیں یہ ملکی دولت کے خائن ڈاکو لٹیرے تو ہے ہیں ساتھ ساتھ دین اسلام قرآن اللہ اور رسول ﷺ کے شدید مخالف بھی یہی وجہ ھے کہ نسل در نسل اقتدار میں رھنے والے مورثی حکمرانوں اور نام نہاد مذہب اسلام کا چہرہ بنانے والوں نے اس ریاست کیساتھ جو کھلواڑ کئے رکھا ھے انشاءاللہ یہ جلد اپنے کیفرکردار تک ہہنچیں گے مگر سب سے زیادہ افسوس اس قوم پر ھے جو اپنی منافقت اور دین سے دوری کے سبب اللہ کی رحمت و برکت سے محروم ھے اس قوم کو بیدار ھونا ھی پڑیگا بصورت اللہ ان سب کا انتظام اپنے طریقہ سے کرلے گا اور یہ سب نشان عبرت بن کر رہ جائیں گے۔۔۔۔۔۔!!

Exit mobile version