BBC Urdu TV

*عنوان: فلاح اور خسارہ پانے والے لوگ*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: فلاح اور خسارہ پانے والے لوگ*

*کالمکار : جاوید صدیقی*

پندرہ سو سال پہلے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے جو نشانیاں بیان کی تھیں وہ سچ ثابت ہورہی ہیں ان نشانیوں کو جاننے سمجھنے اور آگاہ رہنے سے ہی احتیاط اور محتاط رھا جاسکتا ھے تاکہ ایمان کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ ایک زمانہ آئیگا کہ جس میں مرد کم اور عورتیں زیادہ ہوں گی۔ لوگ موسیقی کی شکل میں قرآن مجید کی تلاوت کریں گے۔ مال کی محبت کی وجہ سے بیوی بھی شوہر کے ساتھ کاروبار میں حصہ لے گی۔ ہر کوئی اپنے آپ کو موٹا اور مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ نماز اور زندگی میں لوگوں کا سکون ختم ہو جائے گا۔ سود کا کاروبار عام ہو جائے گا۔ منافق پیدا ہونگے آبادان میں لوگ عبادت کریں گے منافقت اور شہرت پانے کیلئے۔ فتنے بڑھیں گے اور دینی علم میں کمی آئے گی۔ لوگ قرآن کو تنخواہ کا ذریعہ بنائیں گے۔ جھوٹ عام ہو جائے گا اور لوگ جھوٹ کی گواہی دیں گے۔ لوگ صحیح احادیث کا انکار کریں گے اور غلط احادیث بیان کریں گے۔ مسلمان امیر ہو جائیں گے لیکن مذہبی پیشوا نئے ہو جائیں گے۔ کفر آسان ہوگا انسان صبح مسلمان اور شام کو کافر اور شام کو مسلمان اور صبح کافر ہوجائیگا۔ آنے والی ہر نسل پچھلی نسل سے بدتر ہوگی۔ لوگ اسلام پر چلنے والوں پر حیران رہ جائیں گے اور وہ نئی چیزیں دیکھیں گے۔ قتل و غارت بڑھتے جائیں گے قاتل اور مقتول کو پتہ نہیں چلے گا کہ میں کیوں قتل کرتا ہوں اور کیوں مارا جارہا ہوں۔ کافر مسلمانوں پر غالب آئیں گے مسلمان زیادہ ہوں گے لیکن غلام ہوں گے کیونکہ وہ دنیا سے پیار کریں گے اور موت سے ڈریں گے۔ مذہب پر عمل اس آگ کے تارکول کی طرح ہوگا جو چھڑی میں پھنسا ہوا ہے۔ گناہ کرنا بہت آسان ہوگا اور گناہ کو گناہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ دنیا کے امیر ترین لوگ کنجوس ہوں گے۔ عمر سے برکت ختم ہو جائے گی، سال مہینوں کی طرح، مہینہ ہفتوں کی طرح، ہفتہ دنوں کی طرح اور دن گھنٹوں کی طرح گزر جائے گا۔ مسلمان ہر عمل میں کافروں کی پیروی اور اطاعت کریں گے۔ عرب کی مٹی وسیع ہوگی اور مدینہ کی آبادی بڑھ جائے گی۔ لوگ زکوٰۃ لینے کے اہل نہیں ہوں گے اور پھر بھی زکوٰۃ مانگیں گے۔ عورتیں سجتی ہونگی پھر بھی ننگی ہونگی مطلب کپڑے اتنے نازک ہوں گے کہ جسم کی طرح نظر آئیں گے۔ زنا آسان ہوگا اور زنا کے اسباب میں اضافہ ہوگا۔ جہالت عام ہو جائے گی، لوگوں کو دنیا کا علم ہو جائے گا، مگر جہالت کی وجہ سے دینی علم سے جاہل ہوں گے۔ بے حیا عورتوں اور آلات موسیقی میں اضافہ ہوگا۔۔۔۔ معزز قارئین!! آج سنہ ہجری ١٤٤٨ پر غور اور ذرا توجہ بھری نظر ڈالیں تو ہمیں احساس بیدار ہوجائیگا کہ ھم پندرہ صدی میں ہیں اور ہمیں اس صدی میں چلتے ہوئے قریب پچاس سال ہونے کو ہیں گویا چودہ ویں صدی ہم نے کب کی چھوڑ دی ھے۔ یاد رھے کہ آپ ﷺ نے چودہ ویں صدی کے برے حالات کی جانب خبردار کردیا تھا اور ھم امت مسلمہ بہت دور بہت آگے نکل چکے ہیں ، اب ہر قدم ہر لمحہ فکریہ ھے کہیں ایسا نہ ھو کہ سارا سفر بیکار ہوجائے یہ زندگی ایک مختصر سفر ھے جو رب نے ہمیں پیدا کرکے ہمیں کچھ اختیارات دیکر انعام یافتہ اور سزا یافتہ راہیں بتادیں خود ہی رب نے سنبھلنے کا طریق بھی بتادیا اور خبردار کردیا کہ انسان کے ازلی دشمن نفس اور شیطان ہیں ان دونوں کے حملوں سے محفوظ رہنا ھے اگر اللہ کی رسی کو تھامے رھے تو صراط المستقیم تمہارا مقدر ٹھہر سکتا ھے اور اگرنفس اور شیطان کے مطیع بنے رھے تو یہ عارضی دنیا تمہارے جنت بنادی جائیگی لیکن ابدی زندگی جہنم قرار پائی گی کیونکہ سرکش، نافرمان، گستاخ، ہٹ دھرم، ضدی، شرّی اور منافق کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی امت کیلئے کہا تھا کہ یہ رہن بیماری میں مبتلا ہوجائیں گے رہن دنیا پرستی کو کہتے ہیں۔ آج امت مسلمہ اور مسلم دنیا کا بغور مطالعہ کرلیجئے تو ہمیں آپ ﷺ کی بتائی گئی تمام نشانیاں مکمل دکھائی دے رہی ہیں اب صرف ایمان کی سلامتی اور فتنہ و فساد سے محفوظ رہنے کی عملی ضرورت ھے جو اس میں کامیاب ہوگیا وہ فلاح پا گیا اور جو ایمان سے گیا فتنہ و فساد کا حصہ بنا وہ شدید ترین خسارے میں رھا۔۔۔۔۔!!

Exit mobile version