BBC Urdu TV

عنوان: فتنہ فساد برپا کیونکر ھوتے ھیں

عنوان: فتنہ فساد برپا کیونکر ھوتے ھیں

دنیا کے ازل سے ابد تک اور حشر سے جنت و دوزخ تک ارض و سماں کہکشاں فلکی دنیا مخلوقات ربانی ہر ظاہر و باطن پوشیدہ و ظاہر گو کہ اللہ نے سب کچھ کھول کر اپنے محبوب خاتم النبین محمد مصطفیٰ نورِ خدا حضرت محمد ﷺ پر آشکار کردیا یہی نہیں بلکہ آپ ﷺ کو امام الانبیاء امام الرسل کا مقام بھی بخشا اور آپ ﷺ کے صدقے آپ کی امت کو سب امتیوں پر فوقیت بخشی اسی سبب شیاطین ابلیس کو گورا نہی کہ امت محمدی ﷺ جنت میں کثرت سے جائے۔ ابلیس شیطان نے اپنے چیلوں کو سختی سے ہدایت کی ھے کہ اس امت کے ایمان کو روشن ھونے نہیں دینا انہیں دنیا کے مال و متاع عیش و تعائیش حرام اور ناجائز کام کا عادی بنائے رکھنا ھے۔ انہیں آرام طلب اور حرام طلب اس قدر رکھنا ھے کہ ان کے دل مردہ ھوجائیں ان میں احساس درد تکلیف کا جذبہ مرجائے گویا ایک جسم گوشت کا بن کر اکڑتا پھرتا ظلم و بربریت کرتا پھرے اور زمانے بھر میں ظلم و زیادتی کرکے تسکین پائے۔ انہیں ایسا بنائے رکھنا کہ یہ صرف اپنی نفسانی خواہشات کے تابع چلیں اور اپنے تکبر میں مست رہیں۔ شیطان ابلیس نے اپنے چیلوں کو ہدایت دیتے ھوئے کہا کہ مظلوم کا نا حق قتل۔ دوشیزاؤں کی عصمت دریاں۔ چوری چکاری۔ لوٹ مار کا بازار گرم رکھنا ھے اور با اختیار افسران اور منصفین کے دلوں میں بے پناہ لالچ حرص دولت ڈالتے رہنا تاکہ میں بے انصافی میں انتہا کو پہنچ جائیں۔ شیطان ابلیس نے اپنے چیلوں کو مزید کہا کہ اگر کوئی دینِ محمدی ﷺ پر سختی سے عمل کرے تو اس کی راہ میں بیشمار رکاوٹیں مشکلات اذیتیں تکلیفیں اس قدر بڑھا دینا کہ مومن تو مومن مسلمان کا جینا محال بن جائے۔ جو ھماری یعنی ابلیس شیطان اور ھمارے آقا دجال کی راہ پر چلیں ان کیلئے دنیا بھر کا سامانِ عیش و تعائش فوری اور آسان کردیا جائے لیکن یاد رکھو کسی کو بھی سچا عاشق رسول ﷺ بننے نہ دیا جائے ان سب کے دلوں میں منافقت نفاق نفرت اور خاص طور پر جھوٹ جھوٹ اور جھوٹ کو پڑوان چڑھانا ھے کیونکہ جھوٹ ہی سب گناہوں کی بنیاد ھوتا ھے اور جھوٹ مجھ شیطان ابلیس کو نہایت پسند ھے۔ جب جھوٹ بڑھے گا تو فتنہ فساد بھی بڑھیں گے۔ جھوٹ سے ہی الزام تہمت اور بہتان پھیلتے ھیں۔ بحیثیت امتی ھر شخص خاص طور پر پاکستانیوں کو اپنے ایمان کی حفاظت میں قطعی غفلت برتنی نہیں چاہئے کیونکہ ھم سب کا کھلا دشمن ہر اطراف سے حتیٰ کہ ذہن اور دماغ پر گہرا وار کرتا ھے۔ وسوسوں اور شک سے ذہن کی طاقت کو مفلوج کرکے اپنے مکمل قبضہ میں لیتے ھوئے وہ کام کروالیتا ھے جس کا ھمیشہ افسوس اور پچھتاوا رہ جاتا ھے اسی لئے دین اسلام نے ہر پریشانی کے وقت صبر کی تلقین دی ھے تاکہ صبر سے شیطان ابلیس کا وار خالی جائے اور حالات کو سنبھال سکیں۔ پاکستان کا ھر طبقہ دین سے دور عجلت جلد بازی ناشکری بے صبری اور منافقت جیسے شیطانی ابلیسی حملوں کی زد میں ھیں اگر ھم سب نے خود کو نہ سنبھالا تو ھم سب کا عمل ریاست اور ملک و قوم کیلئے مفید نہیں۔ اللہ ھم سب کا حامی و ناظر رھے آمین یا رب اللعالمین

Exit mobile version