ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: غلاظت کے ڈھیر، غداران۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
پاکستان اور ہندوستان کی اگر بات کی جائے تو دونوں کی آزادی میں چند گھنٹوں کا فرق ھے مگر جب دونوں ممالک کا سیاسی ، انتظامی ، قانونی اور ترقیاتی احاطہ و تقابلی جائزہ لیتے ھیں تو زمین و آسمان کا نہ صرف فرق ملتا ھے بلکہ انتہائی دکھ اور مایوسی کا سامنا بھی ھوتا ھے۔ ہندوستان نے آزادی کے وقت خود کو سیکولر ملک بنانے کا اعلان کیا اور اپنے آئین کو سیکولر بنایا یہ الگ بات ھے کہ موجودہ دور میں انتہا پسند دہشتگرد ہندو مذہبی جماعتوں کے ہاتھوں کٹ پتلی بن چکے ھیں اور آج کا ہندوستان اپنی اقلیتوں کے حقوق کو غضب و حزف اور ظلم و بربریت میں پوری دنیا کو پیچھے چھوڑ چکا ھے لیکن اگر سیاسی و ترقیاتی بنیاد پر دیکھا جائے تو اپنے ملک و ہندو قوم کو بہترین سہولیات و مراعات اور بیشمار انسانی و مذہبی حقوق سے استوار کیا ھے کاش ان میں اقلیتوں کا احساس ھوتا تو بہت بہتر رہتا اپنی اس مذہبی نفرت کی بناء پر یہ انسان تو انسان جانور سے بھی بدتر سمجھے جارھے ھیں ان کے اس عمل سے پڑوسی ممالک میں دوستی کا عمل پیدا نہیں ھورھا اور تمام کے تمام پڑوسی ان کی شرانگیزیوں سے تنگ بھی ھیں اور دست و گریباں بھی، اب ھم جب پاکستان کو دیکھتے ھیں تو پاکستان جس قومی نظریہ سے معروض وجود آیا تھا وہ نظریہ اسلام تھا ایسی اسلامی ریاست جس میں اللہ سپر ھو اور اسی کا قانون نافذ ھو یہی بات قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں تحریری طور پر پیش کردیا تھا جسے قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی وصیت کے نام سے جانا پہچانا جاتا ھے۔ نواب لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد دشمنانان پاکستان نے اپنی سازشوں اور پلاننگ کو تیز کرتے ھوئے کئی اہم ترین مقام پر اپنے ایجنڈوں کو بٹھا دیا تاکہ ریاست و حکومت کی دوڑ ان کے ہاتھوں میں آجائے یہی وجہ ھے کہ قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی وصیت کے برخلاف نظام جمہوریت کو لاد دیا گیا اور ان سیاسی لوگوں کے ذریعے اسلام مخالف نظام جمہوریت کی تعریفوں کے القابات آسمان تک پہنچادیئے اور سیدھی سادھی عوام کو اٹھہتر سالوں سے آنکھوں میں پٹی باندھ کر سنہرے خوابوں کے مدہوش کئے رکھا دوسری جانب اکھہتر کو ملک دولخت کرکے جو عوام کو تقسیم کرنا شروع کیا وہ بھی ایک طویل داستان ھے، بحرکیف ان سیاستدانوں کی نااہلی ناکامی بدنیتی بے ایمانی جھوٹ نفاق اور حسد کے سبب کبھی بھی یہ جمہوری ٹھیکیدار ایک نیک نہ بن سکے لالچ حرص لوٹ مار کے اس خواہشات نے نہ صرف ملک کی بنیادیں کھوکھلی میں کوئی کسر نہ چھوڑی بلکہ عوام کو اس نہج پر پہنچادیا جہاں جینا انتہائی محال ھوچکا ھے۔ ان سیاستدانوں کے اگر کنجر پن کو دیکھیں تو انھوں نے اپنے اندر اتحاد و اتفاق کے بجائے کمال درجہ منافقت کو اپنایا اور اپنی خواہشات کی تکمیل کیلئے جس کو جو موقع ملتا اسٹبلشمنٹ کے قدموں کو چاٹنے اور قدم بوسی میں کوئی کسر نہ چھوڑی یہ الگ بات ھے کہ ان بدکردار سیاتدانوں کی وجہ سے چند ایک جنرلز بھی بہک گئے اور ان کی غلط پالیسیوں کے سبب ملک و قوم نا تلافی نقصان سے دوچار ھوا لیکن اکثریت ایسے جنرلوں کی رہی جنھوں نے ملک و قوم کے مفادات کو ترجیح دی اور ملک و قوم کیلئے کھڑی رہی جب جب ایسے محب وطن عظیم جنرلز فائز رھے یہ بیغیرت سیاستدان ملک دشمنوں کی گود میں بیٹھ کر وطن کی پیٹھ کر خنجر زنی کرتے رھے آج پاکستان کو جس مقام پر پہنچایا ھے اس میں ایک جانب یہ نظام جمہوریت ھے دوسری جانب یہ سب کے سب سیاستدان، اشرفیہ، پارلیمینٹیرین اور بیشتر جسٹس صاحبان جنھوں نے اپنے مفادات کی خاطر غلط فیصلے صادر کئے۔ ملک اس وقت جس حالت میں پہنچ چکا ھے اس کا ایک ہی حل ھے وہ اسٹبلشمنٹ اور عدالت عظمیٰ کے جسٹس صاحبان کو اپنے مضبوط سخت فیصلوں سے کرنا ھوگا نظام جمہوریت کا جڑ سے خاتمہ اور نظام اسلامی صدارت۔ نظام اسلامی صدارت کے بغیر یہ ملک قائم و دائم نہیں رہ سکتا اور خوشحالی و ترقی ممکن ہی نہیں ھوسکتی۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! مجھے امید ہے کہ آرمی ایکٹ کا اطلاق صرف ایک نہیں تمام سیاسی جماعتوں پر ہوگا اور ہونا بھی چاہئے۔ زیادہ تر پاکستانی نو مئی کے واقعات سے ناخوش ہیں۔ فوج اور سرکاری املاک کے ساتھ جو ہوا وہ غلط تھا لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ پچھلے کئی سالوں سے بہت ساری غلط چیزیں ہورہی ہیں یعنی غلط فیصلے اور غلط عمل یہی وجہ ھے کہ پوری قوم تلوار کی دھار پر ہے۔ اس لیے یہ سمجھنا کہ نو مئی کو جو کچھ ہوا اس کا پچھلے کئی سالوں سے ہونے والے واقعات سے کوئی تعلق نہیں تھا، غلط ہے۔ ملکی سلامتی کے مفاد میں آرمی ایکٹ کا نفاذ سوال اٹھاتا ہے کہ اس پر عملدرآمد کیسے ہوگا؟ کیا عام شہری یا اکیلے ہی کسی ایک سیاسی جماعت کے حامیوں کو نشانہ بنایا جائے گا یا اس ایکٹ پر منصفانہ عمل درآمد ہوگا، یہ سوال ہر پاکستانی کے ذہن اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی مبصرین کے ذہنوں پر بھی ہے۔ اگر انصاف کا بول بالا ہونا ہے تو عمران اور پی ٹی آئی کے حامیوں کے فوج مخالف تبصروں کیساتھ ساتھ شریف، زرداری اور فضل الرحمان و دیگر کے تبصروں اور اعمال پر بھی غور و فکر اور تحقیات و سخت عمل کیا جائے اور ان کو اور انکے حامیوں کو بھی سزا ملنی چاہئے۔ ہم پاکستانی چاہتے ہیں کہ آرمی ایکٹ کا اطلاق تمام غداروں پر بلا تفریق یا تعصب کے ہو۔ ان میں غدار نواز شریف و فیملیز، غدار شہباز شریف و فیملیز، غدار آصف علی زرداری و فیملیز، غدار فضل الرحمان و فیملیز، غداران ایم کیو ایم لندن و پاکستان، غداران پی ایس پی، و دیگر غداران وطن کی خلاف لازمی ریاستی سخت اقدامات ھونے چاہئیں اور ساتھ ساتھ ان مجرم جنرلز کے خلاف بھی جو ان سیاستدانوں کو شیلٹر دیتے رھے، پاکستانی کوئی ایک بھی جنرل غدار نہیں مگر مجرم ضرور ھوسکتا ھے لیکن اٹھہتر سال بیت جانے کے بعد بیرونی خداؤں کے ایک جانب چہرے واضع عیاں ھوچکے ھیں تو دوسری جانب ان کے ایجنڈے بھی بے نقاب ھوچکے ھیں۔ آصف زرداری کی فوج کے خلاف تقریر اور میمو گیٹ اسکینڈل نہ عوام فراموش کرپائے ھیں اور نہ ہی اسٹبلشمنٹ۔ مولانا فضل الرحمان کئی بار عوامی سطح پر فوج پر تنقید بھی سب کے ذہنوں میں محفوظ ہیں۔۔ یاد رھے کسی ایک گروہ کیساتھ امتیازی سلوک نہیں کرنا چاہئے اور دوسرے گروہ کی حمایت کرنا چاہئے کیونکہ یہ سب کےسب سیاستدان فسطائیت کا آلہ کار ھیں۔ ان سب سیاستدانوں و حکمرانوں و اشرفیہ کو واقعی سخت سے سخت سزا دینی چاہئے یہ خطرناک مافیا ھیں جو ھمارے ملک کو اٹھہتر سالوں سے دیمک کی طرح چاٹتے چلے آرھے ھیں جو بچا ھے اسے بھی چاٹنا چاہتے ھیں ہم پاکستانیوں کو امید ہے کہ ہمارے آرمی چیف اور چیف جسٹس صاحب اپنی پاکستانی قوم کیلئے ان مشکل وقتوں میں بہترین پروفیشنل صلاحیت کے تحت بھنور میں پھنسے ملک و قوم کو باحفاظت نکال لیں گے اور ان سب غداران وطن سے سرزمین پاک کو حقیقی معنوں میں پاک کردیں گے اب صرف اس ملک و قوم کو آپ دونوں معزز چیفس سے امیدیں وابستہ ھیں اگر آپ دونوں نے بھی مایوس کیا تو پھر یہ قوم اللہ سے دعا کرے گی کہ اللہ بڑے عذاب سے گزار دے تاکہ جو خود کو خدا سمجھ بیٹھے ہیں وہ فرعون کی طرح لشکر سمیت ڈوب جائیں اور ان سب گندے انڈوں سے نجات مل جائے۔ اللہ پاکستان کا حامی و ناظر ہمیشہ رھے آمین یا رب اللعالمین۔۔۔!!
