BBC Urdu TV

عنوان: عوامی سطح پر توشہ خانہ کا ٹینڈر کھولا جائے

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: عوامی سطح پر توشہ خانہ کا ٹینڈر کھولا جائے۔۔۔۔!!

متحدہ حکومتی سیاسی جماعت سابقہ حکومت سے توشہ خانہ کی تفصیلات طلب کررہی ھیں اور ان پر کئی سوالات و الزمات بھی عائد کررہی ھیں یہاں یاد دلاتا چلوں کہ متحدہ حکومتی جماعت کی دو بڑی سیاسی جماعتیں پی پی پی اور پی ایل ایم این کئی بار وفاق میں برسرِ اقتدار رہ چکی ہیں لیکن اپنے دورِ اقتدار پر گویا منہ سی لیا ھو یا پھر ایمانداری دیانت کی مثالیں قائم کی ھوں پھر بھی اپنے دورِ اقتدار کے توشہ خانہ کی تفصیلات بتانے سے خائف ہیں اور حذف کیئے ھوئے ہیں بس اپنے مخالف سیاسی جماعت سے احتساب کرنے کیلئے عدالتِ عظمیٰ پر زور دے رہی ہیں۔ نون لیگ جانتی ھے کہ موجودہ چیف جسٹس جانبدار ہیں اور ان کے سمدھی کا پورا گھرانہ داماد سمیت نون لیگ میں ھے اسی سبب پہلے بھی فیصلے جانب دار ھوتے نظر آئے اور نون لیگ کے حق میں دیئے گئے اور آئندہ بھی ملتے رہیں گے اسکے برعکس پاکستانی قوم کا مطالبہ ھے کہ غیر جانبدار جسٹس صاحبان کا پینل بناکر سنہ انیس سو ستانوے سے تاحال یعنی سنہ دو ہزر بائیس تک کے ریکارڈ کی تفصیلات جاچنے کے بعد حقائق سے پردہ اٹھاتے ھوئے عوام کو آگاہ کیا جائے۔ عوام کا مطالبہ ھے کہ حکومتِ وقت اور عدلیہ توشہ خانہ کا تیس سال کا ریکاڈ پبلک کرے جس میں سنہ انیس سو ستانوے میں نواز شریف ترکمانستانی حکومت کا دیا ھوا قالین صرف پچاس روپے دے کر گھر لے گئے۔ قطر کے ولی عہد کا دیا ھوا بریف کیس آٹھ سو پچھہتر روپے دے کر گھر لے گئے۔ سنہ انیس سو ننانوے میں سعودی عرب سے ملنے والی پینتالیس لاکھ کی مرسڈیز میاں صاحب چھ لاکھ میں لے گئے۔ سعودی حکومت کی دی راٸفل جو ایک لاکھ سے زائد کی تھی میاں صاحب صرف چودہ ہزار میں گھر لے گئے۔ ابوظہبی کے حکمران کی طرف سے نواز شریف, مریم نواز , بیگم کلثوم نواز مرحومہ کو تین گھڑیاں تحفے میں دی گئیں تھیں جس میں دو گھڑیاں توشہ خانہ میں جمع کروا دیں تھیں اور ایک گھڑی مریم نواز نے پینتالیس ہزار میں نکلوا لی اس گھڑی کی قیمت سنہ انیس سو ننانوے میں دس لاکھ سے زائد تھی
اس کے بعد شوکت عزیز نے چھبیس کڑوڑ کے تحفوں کی قیمت سات کڑور لگوا کر ڈھاٸی کڑوڑ میں گھر لے گئے اس کے بعد یوسف رضا گیلانی سنہ دو ہزار گیارہ میں سعودی حکومت سے ملنے والے بیس لاکھ سے زائد کے تحاٸف گھڑی پن خنجر کف لنک صرف دو لاکھ تیراسی ہزار میں گھر لے گئے اور گیلانی صاحب کی اہلیہ تیس لاکھ کی جیولری سیٹ تین لاکھ میں گھر لے گٸیں۔ سنہ دو ہزار نو میں آصف علی زرداری کو معمر قزافی نے تین کڑوڑ کی گاڑی گفٹ کی زرداری صاحب چالیس لاکھ میں لے اڑے۔ سنہ دو ہزار نو میں ہی متحدہ عرب امارات کے حکمران نے آصف علی زرداری صاحب کو بارہ کڑوڑ کی لکسیز گاڑی گفٹ کی زردادی صاحب ایک کڑوڑ ساٹھ لاکھ میں لے گئے۔ اس کے بعد پرویز مشرف نے چار کڑوڑ کے تحفے پچپن لاکھ میں گھر لے گئے ان میں دو پسٹل بھی شامل تھے جو امریکی وزیر دفاع رمیز فلیڈ نے جنرل مشرف کو گفٹ کئے تھے۔ یہ تو ایک انتہائی مختصر سی تفصیلات ہیں اگر مکمل تفصیلات میں جائیں تو گھربوں کی رقم قومی خذانے کو نقصان پہنچائی گئی ہیں اور خیانت کے سبب ان سب پر آرٹیئکل تیرسٹھ چونسٹھ عائد ھوتی ھے۔ افسوس کہ اس ملک میں اشرفیہ سے لیکر نوکر شاہی پر قانون عائد نہیں ھوتا یقیناً جس ریاست میں عدالتی ادارے خود خرید و فروخت کے ساھوکار بن جائیں وہاں کی ریاست میں عدل و انصاف الله آسمان پر اٹھا لیتا ھے یہی وجہ ھے کہ ملکِ پاکستان میں صرف غریب مسکین مجبور ہی پستا ھے اور پستا رہیگا ہر طاقتور اور بااختیار جابر و ظالم بنا رہیگا بحرحال مزید بتاتا چلوں کہ عوام مطالبہ کرتی ھے کہ ھر سال توشہ خانہ کے گفٹ کی عام بولیاں لگائی جائیں جس سے بھاری قیمت میسر ھوسکتی ہیں اور حاصل رقم قومی خذانے میں جمع کرادی جائیں کیونکہ یہ توشہ خانہ کے گفٹ عوام اور ریاستِ پاکستان کی امانت ہیں۔ عوام کا یہ بھی مطالبہ ھے کہ تیس سالہ ادوار کے گفٹ کا حساب لیتے ھوئے بقیہ رقوم قومی خذانے میں جمع کروائی جائیں۔

کالمکار: جاوید صدیقی

Exit mobile version